Tuesday, 8 September 2015

Larkiyon k Dukh Ajeeb hotay Hain..........لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں!

جو خواب دیکھا تھا شہزادیوں نے پچھلے پہر
پھر اس کے بعد مقدر میں تاج و تخت نہ تھا

اکیڈمی سے گھر لوٹتے وقت نورالعین کے دماغ میں بہت سے سوالات پیدا ہو رہے تھے۔ جو کہ ایک لڑکی کا فطری پن ہوتا ہے ۔ ایک اہم سوال کیا لڑکی پیدا ہونا کوئی گنا ہ ہے ؟بہت سارے قارئین میرے اس سوال پر انگلیاں اٹھائیں گے،مگر کچھ کہنے سننے سے پہلے نور العین کیساتھ ہونیوالے واقعات کو پڑھ، سمجھ لیا جائے تو پھر حقیقت کی روشنی میں اندھیرہ تکلیف نہیں دے گا۔ نور العین ایک پڑھی لکھی ، سمجھدار ، خوش شکل لڑکی ہے جو کہ وقت کیساتھ ساتھ خاتون میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی ، اس کے بہت سارے رشتے آتے جاتے رہے۔ اس بار بھی ایک رشتہ آیا تھا نور العین جیسے ہی گھر داخل ہوئی کچن میں نئے برتن دیکھ کر سمجھ گئی کہ کوئی پھر قیمت لگانے آگیا ہے۔ماں نے نور العین سے کہا بیٹی تیا ر ہو جاؤ اور چائے لے کر کمرے میں آجائو وہاں کچھ لوگ تمہیں دیکھنے کیلئے آئے ہیں ۔ یہ طریقہ اور الفاظ نور العین کیلئے نئے نہیں تھے۔وہ ماں سے لڑپڑی اس بار میں کسی کے سامنے نہیں جائوں گی ۔میں ذہنی مریضہ بن چکی ہوں ۔میرا سکون تباہ ہو چکا ہے ۔کیا مجھے جینے کا حق نہیں ۔کتنے لوگ آئے دیکھا، چلے گئے اور پلٹ کر واپس نہ آئے۔آخر مجھے بھی احساس محرومی ہوتا ہے۔مجھے نہیں جانا کسی کے سامنے۔

ماں بیٹی کے اس رد عمل پر تڑپ اٹھی۔اسے احساس تھا کہ نورالعین کس کرب سے گزر رہی ہےلیکن وہ اپنی بیٹی کے مستبقل کیلئے فکر مند تھیں، کہنے لگیں کہا کہ اس ستم گر معاشرے میں مرد کے بغیر عورت کا کوئی وجود نیں ہے ۔ مرد عورت کو تحفظ دیتا۔ معاشرے میں جینے کا تصور دیتا۔چیز وہی اچھی لگتی ہے جو کسی کی ملکیت ہو۔ ورنہ راہ میں پڑی ہڈی پر تو ہر کتا بلا لپکتا ہے۔ نور العین ان سب باتوں کو بخوبی سمجھتی تھی مگر اس کے اندر ایک ڈر تھا کہ باقی لوگوں کی طرح اس بارآئے ہوئے لوگ بھی اسے نہ کرکے چلے جائیں گے۔

یہ ہمارا المیہ ہے ہم لوگ بہنوں بیٹیوں والے ہوتے ہوئے بھی دوسروں کی بیٹیوں پر طرح طرح کی نکتہ چینیوں سے باز نہیں آتے ۔ ہمارا معاشرہ جھوٹی بندشوں اور خود ساختہ رسموں کی لپیٹ میں ہے ۔ اسی پکڑ نے انسان کے خاص طور پر لڑکیوں کیلئے بیشمار مسائل پیدا کر دیئے۔ معاشرہ پڑھ لکھ گیا مگر احساسات سے دور ہوتا چلا گیا ۔شاعر نے سچ ہی کہا ہے۔

ہے مسئلہ سورج مکھی قبیلے کا
کہ صبح نکلے مگر آفتاب نہ ہو

نورالعین بھی قبیلے کی ایک ایسی لڑکی تھی جس کی زندگی میں صبح تو رو ز آتی مگر آفتاب کہیں روٹھ گیا۔ جب بھی کوئی رشتہ آتا بن سنور کر ان کے سامنے جاتی مگر وہ لوگ کچھ نہ کچھ نکتہ نکال کر چلے جاتے ۔ایک بار اس کی رنگت پر سوال ہواجو نورالعین کو چبھ گیا ۔ وہ سوچنے لگی رنگ زیادہ اہم ہے یا خوبصورت روح۔دوسری بار تعلیم پر اعتراض ہوا اور بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی تیسری بارجو انکار ہوا وہ اس کا گھر تھا کہ گھر اچھا نہیں ہے، اور چوتھی بار تو حد ہی ہوگئی رشتے والوں نے کہا کہ لڑکی تھوڑی موٹی ہوگئی ہے۔ہمیں موٹی لڑکیاں نہیں پسند ہمارا لڑکا خاصا لمبا ہے ہمیں اسمارٹ لڑکی کی تلاش ہے۔ پھر انکار ہوگیا۔ ایک اوررشتہ آیا۔لڑکے کی بہنوں نے نورالعین کے پائوں دیکھ کر ناگواری کا تاثر دیتے ہوئے کہا پہلی نظر پائوں پر ہی پڑتی ہے ۔لڑکی کے پائوں خوبصورت ہونے چاہیں اس سے لڑکی کی صفائی ظاہر ہوتی ہے۔ان لوگوں نے تو ساری حدیں پار کر ڈالی۔نورالعین اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔لڑکے کو ایک نظر دیکھا جو بے حد کمزور ار بڑے ہوئے ناخنوں کیساتھ بیٹھا ہوا تھا۔

نورالعین نے سوچا جو شخص خود بڑھے ہوئے ناخن رکھتا ہے اسے کیا ہوش صفائی کیا ہوتی ہے ۔ہاں مگر وہ مرد ہے اس کی یہی برتری ہے جو سب عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔ا س رشتے سے بھی انکار ہو گیا۔ خیر جس رشتے کے لئے نورالعین کی ماں رضامند کر رہی تھی اسے مجبوراً کمرے میں چائے کا ٹرے اٹھا ئے جانا تھا ۔وہاں بیٹھے لوگوں نے بہت گہری نظر ڈالی اور باتوں ہی باتوں میں کہہ ڈالا کہ ہمارا لڑکا جوان ہے اس کیلئے خوبرو لڑکی کی تلاش ہے ویسی بیٹی کی عمر کیا ہے۔؟ یہ سوال نورالعین اورماں دونوں کو چھلنی کر گیا ۔نورالعین اٹھ کر کمرے میں چلی آئی اور خاموش لب، بھیگی آنکھوں سے رب سے شکوہ کرنے لگی۔

لڑکیوں کے دکھ بھی عجب ہوتے ہیں سکھ ان سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

ہمارے معاشرے کا سنگین المیہ ہے کہ لوگ اپنے لڑکوں کو دیکھتے نہیں اور لڑکی میں ہزاروں عیب نکال کر چل پڑتے ہیں ۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مثلاً اس کے بال ٹھیک نہیں رنگ صاف نہیں لڑکی کم بولتی ہے ،زیادہ بولتی ہے، گھر چھوٹا ہے وغیرہ وغیرہ پہ انکار کرنے سے لڑکی کی ذات پر کتنا اثر ہوتا ہوگا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں آج ہم دوسروں کے گھر جا رہے ہیں کل کوئی ہمارے گھر بھی آئیگا۔ اصل میں ہم ہر چیز پرفیکٹ طلب کرتے ہیں پھر چاہے وہ لڑکی ہو ، جانور،یا کھلونا۔

ہم یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ صرف ایک ہی ذات مکمل ہے اللہ کی۔ باقی سب دنیا عیبوں سے بھری پڑی ہے۔ رشتے والے تو گھر سے چلے گئے مگر لڑکی پر کیا گزرتی ہے وہ کبھی سوچا؟ شہزادے کے انتظار میں لڑکیاں گھر بیٹھی رہ گئی۔سروں پر سفیدی نکل آتی ہے ،کہیں جہیز کی وجہ سے انکار تو کہیں رنگ کی وجہ سے،یہ چھوٹی چھوٹی باتیں لڑکیوں کو کتنا بڑا دکھ دے جاتی ہیں یہ بات ہم کبھی نہیں سوچتے ہیں۔ ہمیں اپنے بیٹے میں عیب نظرنہیں آتے ، لڑکا سگریٹ پیتا ہے ماں کہتی ہے کوئی برائی نہیں اسے تھوڑی طلب ہوتی ہے پی لیتا ہے خود چھوڑ دیگا۔ لڑکا غلط صحبت میں ملوث ہے کوئی بات نہیں یہ تو آجکل نارمل ہے۔ لڑکا کافی لڑکیوں سے دوستی رکھتاہے۔یہ بھی کوئی عیب نہیں جوان ہے گرم خون ہے آخر کہیں تو ہاتھ سلگائے گا نہ کوئی مسئلہ نہیں خود ہی شادی کے بعد ٹھیک ہوجائیگا۔ لڑکا کماتا نہیں بے روزگار ہے بھئی دیکھیں لڑکی اپنا رزق لیکر آتی ہے جب شادی ہوگی تب لڑکے کا رزق بھی کھل جائیگا۔ لڑ کے کا خود کتنا ہی خر ا ب کردار کیوں نہ ہو لڑکی پاک دامن ہونی چاہیے۔ ہم دوسروں کی بیٹیوں کو انکار کرنے سے پہلے خود ا پنے بیٹو ں کے کردار کا احتساب کیوں نہیں کرتے ۔؟آخرکیوں ہم بیٹوں کے ہزاروں عیبوں پر پردہ ڈال کر دوسروں کی بیٹیوں کے عیبوں کو دیکھنے لگتے ہیں۔

شادی نصیب کا کھیل ہوتی ہے رشتہ دیکھنا مانگنا کوئی غلط بات نہیں مگر ہم لوگ غلط طریقہ استعمال کرتے ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ کوئی ایسا راستہ اپنائیں کہ لڑکی بھی دیکھ لیں اور لڑکی کو پتہ بھی نہ چلے اس طرح اگر پسند آجائے تو بہت اچھی بات ہےلیکن اگر کسی وجہ سے نہ پسند ہو تو اس طرح کم از کم لڑکی کو احساس کمتری نہیں ہوگا۔ باعزت لوگ ہمیشہ دوسری کی عزت کا خیال کرتے ہیں۔ ایسے حساس معاملات نہایت ہی باریک بینی سے طے کئے جانے چاہیں تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

Wednesday, 2 September 2015

Now He Will Wakeup On The JudgeMent Day(For People who are away from Family).... اب تو وہ روزِ قیامت ہی اُٹھے گا

وہ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، گاؤں کے لحاظ سے اُسکی تعلیم بس واجبی ہی تھی، کیونکہ اُسکا بچپن کھیتوں میں گذرا، شناختی کارڈ پاسپورٹ بنتے ہی ملک سے باہر جانے کی تگ و دو شروع ہوگئی، کسی واقف کار نے ویزہ لگوا دیا۔ تنخواہ کم تھی مگر جذبہ جوان تھا۔ وہ وہاں کام کرتا رہا اور ماں باپ کو پیسے بھیجتا رہتا، سال پر سال گزرتے گئے مگر اُس کے پاس ملک واپس آنے کے لئے ٹکٹ کے پیسے جمع نہ ہوئے۔
ساڑھے چار سال بعد اُدھار لے کر واپس آیا، ماں باپ نے خاندان میں ہی ’’چاند سی بہو‘‘ بھی تلاش کرلی اور پھر منگنی ہوگئی۔ منگنی کرتے ہی وہ واپس چلا گیا۔ اگلی بار واپسی 5 سال بعد ہوئی اور واپسی کے ساتھ ہی اُس کی شادی کردی گئی۔ پہلے منگنی کرکے واپس گیا تھا اب شادی کرکے چلاگیا۔ لیکن وہاں پہنچتے ہی ماں کی موت کی خبر ملی۔ وقت پر فلائیٹ نہ ملنے پر ماں کے جنازہ کو کندھا نہ دے سکا۔ اب ڈیرھ سال ہی گزرا تھا کہ باپ بھی وفات پاگیا۔ باپ کو امانتاً دفن کروایا گیا۔ پیسوں کی ہوس کے سبب وہ ماں باپ دونوں کے جنازوں کو کندھا نہ دے سکا، واپس آکر باپ کا آخری دیدار قبر میں ہی کیا۔
چونکہ اُس کی شادی ہوگئی تھی اب نیا گھر بنانے کی جستجو میں لگ گیا۔ ہر دو سال بعد 30 دن منہ دکھائی کے لئے آتا اور بیوی کو 9 مہینوں کی مصروفیت دے کر چلا جاتا۔ 4 پھیروں اور 8 سال میں، 4 بچے ہوگئے۔ لیکن بیوی تنہائی کی حدت برداشت نہ کرسکی اور سرگوشیاں سرعام تذکروں میں بدلنے لگیں۔ یار دوست اور خیر خواہ دبے الفاظ میں اُسے سمجھانے لگے اور وطن واپس آنے کے مشورے دینے لگے، مگر،
 ’’اُسے اپنی شریکِ حیات پر یقین تھا‘‘
جب والدین اخلاقی طور پر کمزور ہوں تو اولاد کے کردار کو بھی زنگ لگ جاتا ہے، اُس کے تین بیٹے اور ایک بیٹی بھی جوانی کے گھوڑے پر سوار ہوکر جس سمت منہ ہوا دوڑ پڑے، مگر اُسے اپنے بچوں پر بھی یقین تھاـ جب اُسکی ٹھوڑی کے نیچے دوسری ٹھوڑی بھی ابھر آئی، جوانی پگھل کر پکی عمر بن گئی تو لوگوں نے پھر مشورہ دیا کہ اب بس کردو، کچھ وقت اپنے بیوی بچوں کو بھی دے دو۔ لیکن وہ ہر کسی کو یہ ہی جواب دیتا کہ یہ سب اُنہیں کے لئے تو کر رہا ہوں، وہ اچھے اسکول میں پڑھیں، اچھا کھائیں، اچھا پہنیں، اچھے گھر میں رہیں، بچوں کو پیسے کی کمی نہ ہو، کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے، میں اور میرا خاندان عزت سے رہ سکیں۔
مگر اُسے یہ معلوم نہیں تھا، کہ بچے اچھے اسکول میں داخل تو تھے، مگر سر پر باپ کا سایہ نہ ہونے کی وجہ سے اچھا کھا کر، اچھا پہن کر اچھے اسکول کے نام پر وہ کہاں دن گذارتے تھے اُسے کیا معلوم؟ بیوی کو آسائش تو تھی لیکن اس آسائش اور فراوانی نے اُسے کن راہوں کا مسافر بنا دیا تھا۔ اُسے ہاتھ تو کسی کے آگے نہیں پھیلانا پڑا مگر عزت پھر بھی نہ بچی ۔۔۔۔ وہ ساری زندگی دولت کی تاروں سے عزت کی چادر بنتا رہا، اُسے خبر ہی نہ ہوئی کہ عزت کی وہ چادر اُس کے اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں کب کی تار تار ہو چکی تھی۔
آج وہ کام سے واپس آیا تو غیر معمولی طور پر خوش نظر آرہا تھا، جلدی جلدی نہایا، کپڑے بدلے، اور کچن میں گھس گیا۔ سالن بنانے کی تیاری شروع کردی، کچن میں کچھ گرنے کی آواز آئی۔
سوچتا ہوں اب اُس کے بچے اچھے اسکول میں کیسے پڑھیں گے؟ اب اُسکی بیوں کو کون آسائش دے گا، وہ آسائش جس لئے اُس نے اپنے دن آگ میں اور رات انگاروں پر گزاردی؟ جس آسائش کے لئے اُس نے اپنے یار دوست، رشتہ دار چھوڑے، ماں باپ لاوارثوں کی طرح آخری سفر پر روانہ ہوئے، جس آسائش کے لئے اُس نے اپنی تمام آسائشوں اور سکون کی قربانی دے دی، اب وہ آسائشیں کون فراہم کرے گا؟
’’کیونکہ محض 40 کے پیٹے میں ہی وہ کچن کے فرش پر ایسا گرا کہ اب تو وہ روزِ قیامت ہی اُٹھے گا‘‘

Monday, 6 July 2015

Moulvi / Imam / Khateeb Sahib...مولوی صاحب

اللہ بخش چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا، کچھ کُند ذہن تھا اور کچھ کام سے جِی چُراتا تھا تو والدین نے سوچا کہ دنیا کے تو کسی کام کا ہونے سے رہا تو کیوں نہ راہِ خُدا میں لگا کر آخرت کا کچھ سامان کرلیا جائے اور یوں اللہ بخش کو مدرسے میں ’’جمع ‘‘ کروادیا گیا کہ بوقت ضرورت کیش کیا جاسکے۔
گاؤں کے سارے لوگ اللہ بخش کو’’اللہ بخشے‘‘ پُکارنے لگے کہ نام کا نام اور ساتھ میں دعا بھی دی جاسکے۔ کبھی کبھی نادانیوں کی جِست اُس مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ اہلِ خِرد تمنّا ہی کرسکیں۔ بھولے بادشاہوں کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ جب پُکار دعا بن جائے یا دعا پکار کا روپ دھارے تو آدمی مستجاب الداعوات ہوجاتا ہے۔ اللہ بخشے کو مولوی صاحب بنتے دیر نہ لگی۔ گاؤں کے وڈیروں کو جب اپنی رنگینیوں کی سنگینی کا احساس ہوتا تو وہ پچھتاوے میں خُدا کے نام پر بہت سا چندہ دے دیتےاور یوں گاہے بگاہے مدرسہ چلتا رہتا۔ پتہ نہیں مخلوقِ خدا کا خانہ برباد کرکے خانہ خدا آباد کرنے سے کیا ملتا ہے؟ اور گانے والی راتوں کا خمیازہ گانے والی نیکیوں سے (جنہیں گا گا کر لوگوں میں بیان کیا جاسکے) کیونکر پورا ہو؟
ایک دِن اللہ بخشے مولوی صاحب نے فحاشی اور ناچ گانے کے خلاف ایک خطبہ دے دیا تو اس کی پاداش میں اجنبی شہرمیں کچھ دنوں کی فاقہ مستیوں کے بعد ایک پوش علاقے میں زیرِ تعمیر مسجد میں اِمامت کی جگہ پائی اور محلہ کی مسجد کمیٹی نے 6 ہزار 7 سو تنخواہ مقرر کی اور مسجد سے متصل ایک کمرہ نما گھر۔ ڈوبتے کوتنکے کاسہارا۔
امیروں کا علاقہ، امیروں کے بچے، امیر نمازی اور امیر ماحول میں مولوی صاحب واحد ٹاٹ کا پیوند تھے۔ ہرشخص مسجد کے آرائش وتزئین کا خواہاں اور کھلے دِل سے پیسہ لگانےکو تیار، مسجد کمیٹی کےممبر(جو کہ ایک ریٹائرڈ میجرصاحب تھے) نے تو اپنا مستقل ٹھکانہ ہی جیسے مسجد کوبنا لیا تھا۔ ہروقت مسجد کے کاموں میں جیسے زندگی تِیاگ دی تھی، پتہ نہیں جوانی کے کارنامے تھے جِن کی گونج سے قرار مسجد میں ملتا تھا یا شاید عمر کے ساتھ ساتھ ہر طلب ڈھل جاتی ہے، سوائے اللہ کی طلب کے اور یہ آگ ان کوئلوں میں بھی سلگتی ہے جوجلنے کے قابل بھی نہ رہے۔
جہاں مسجد میں پیسوں اورعطیات کی ریل پیل ہو رہی تھی وہاں مولوی صاحب کو کھانے کے لالے پڑے رہتے۔ تنخواہ تھی ہی کتنی؟ غریب کی تنخواہ توسوچنےمیں ہی خرچ ہوجاتی ہے، خرچ کرنے کی نوبت ہی کہاں آتی ہے۔ مولوی صاحب دِن رات مالی پریشانیوں میں گھِرے رہتے اور نمازیوں کا فرمائشی پروگرام ختم نہیں ہوتا۔ میجرصاحب چاہتے کہ ان کی ’’معرکۃ الآرا‘‘ تفسیر میں عربی کے کچھ جملے ڈال دیں، تو وِلایت پلٹ نمازی صاحب انہیں غاروں کے دور سے نکل کر انگزیزی پڑھنے کا مشورہ دیتے، بیکری والے منیجر صاحب دورانِ نماز بچوں کے رونے کی آواز پر ٹوکتے، تو بینکرصاحب ظہر کی نماز مختصر کرنے پر زور دیتے۔
ایک آدھ بار مولوی صاحب نے مسجد کمیٹی میں تنخواہ کا مسئلہ اُٹھایا تو لوگوں نے صبر، قناعت اور آخرت پر نظر رکھنےکا مشورہ دیا۔ ایک صاحب نے خدا ترسی کے ناطے اپنے گھر پر بچوں کو قرآن پڑھانے رکھ لیا مگر یہ سلسلہ بھی چل نہ سکا، کہ کبھی بچوں کے امتحان ہوتے تو کبھی فیلڈ ٹِرپ، کبھی گھر میں ایسے مہمان ہوتے کہ مولوی صاحب کا داخلہ ممنوع ہوجاتا تو کبھی بچے کھیل کھیل کر تھک گئے ہوتے۔ ہزار روپے ماہوار پر نورانی قاعدہ پڑھانے والوں کی نظر میں لاکھ روپےماہانہ اسکول فیس اور انگزیزی لٹریچرکی وقعت اور موازنہ تو صاف ظاہر تھا۔
ایک صاحب جن کا فلم کی ڈی وی ڈیز کا کاروبار تھا، ایک عرصے سے مولوی صاحب سے کہہ رہے تھے کہ آپ دو وقت کا کھانا ہمارے گھر سے لے جایا کریں مگر مولوی صاحب کو تو حلال و حرام کے فلسفوں سے فرصت ملے تو کچھ سوچیں نا۔ ایک دن پیٹ کا پتھر دِل پر رکھ  کر ہاتھ میں جِست کا ٹفن اٹھائے وہ مولوی والی دکان کی اُپری منزل میں گھر کا دروازہ کھٹکھٹارہےتھے۔
دروازہ کھُلتے ہی ایک فحش گانے کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ مولوی صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے ٹِفن دروازہ کھولنے والی خاتون کے ہاتھ میں دِیا۔ جب تک وہ خدا کے نام پر کھانا ڈال کر واپس لائیں خُدا کا بندہ جاچُکا تھا۔ اُس دن کے بعد سے مولوی صاحب یا اُن کے بیوی بچوں کو کسی نے نہیں دیکھا۔
اگلے روز مووی والےکی دُکان میں مسجد کا اشتہار لگا ہوا تھا۔
اِمام مسجد کی آسامی خالی ہے، شاندار تنخواہ اور دو وقت کا کھانا مفت۔ ’’ضرورت مند‘‘ حضرات نیچے دیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔

’’بڑاانسان ۔ آدمی‘‘...Great Man / Human

ابّا مجھے بڑا آدمی بننا ہے، بہت بڑا۔ بہت پیسہ کمانا ہے، بہت شہرت و نام کمانا ہے اور بڑی کامیابی چاہیے MBBS کے آخری سال کے طالب علم اسلم نے اپنے ان پڑھ باپ سے کہا۔۔۔
نہ بیٹا نہ، ایسا نہیں کہتے۔ بھلا پیسوں، شہرت اور ڈگری کا بڑے آدمی بننے سے کیا تعلق؟
بوڑھے باپ نے سوال کیا۔
دیکھ بیٹا اسلم، یہ زندگی کا سفر ہے نا یہ بشر سے انسان کی طرف چلتا ہے، پھر انسان سے بندا بنتا ہے اور پھر بندے سے کامیاب آدمی اور ایسا آدمی بڑا ہوتا ہے۔
ابّا کچھ سمجھ نہیں آیا، اسلم نے کھوئی کھوئی آنکھوں سے پوچھا۔
بیٹا، بشر وہ ہے جس میں علم حاصل کرنے کی جستجو ہے (جانوروں میں نہیں ہوتی)، جو علم سیکھ لے وہ انسان ہوجاتا ہے (اور علم وہ جو اخلاقی اقدار سکھائے)، پھر جو اس علم کو سیکھ کر اس پر عمل کرلے وہ بندا بن جاتا ہے اور رب کی بندگی میں لگ جاتا ہے، بے شک بندگی سے بڑی سند اور کوئی نہیں اور جس کی یہ بندگی قبول ہوجائے وہ ہوتا ہے کامیاب اور بڑا آدمی۔ حشر میں الله آپکو دیکھ کر مسکرائے اور آپ الله کو دیکھ کر، یہ ہوتی ہے اصل کامیابی اور ایسی کے جس پر فخر کیا جا سکے۔ آدمی جب بڑا ہوتا ہے تو دنیا چھوٹی ہو جاتی ہے۔
اسلم نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے باپ کی بات کو بیچ میں سے کاٹا۔
ابّا تو چھوڑ ان فالتو باتوں کو، میں ڈاکٹر بن کے ڈھیر سارا پیسہ کماؤنگا، اس پیشے میں بہت منافع ہے، پھر تجھے یہ دوپٹے رنگنے کا کام نہیں کرنا پڑے گا۔
نہ بیٹا نہ، ڈاکٹری پیشہ نہیں خدمت ہے اور خدمت میں نظر ماوضہ پر نہیں ہوتی۔ بندا تو بس اپنی سی کوشش کرکے اپنے آپ کو باری تعالیٰ کے حضور پیش ہی کرسکتا ہے۔ چناؤ تو وہاں سے ہوتا ہے۔ الله بڑا قدردان ہے۔ اس کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرو تو وہ اور نوازے گا۔ بیٹا تو بس دعا مانگنا سیکھ لے، دعا پکار کو کہتے ہیں، ایک دہائی ہے، نام جپنا ہے اور دعا کے اول و آخر میں شکر ملا لے کے الله سبحانہ و تعالیٰ شکر گزار کو سزا نہیں دیتے بلکہ نواز دیتے ہیں۔
اسلم نے پھر بات اچک لی، ابّا اس دنیا کو تو میں اپنے پاؤں تلے روند کے دکھاؤنگا، میرے میں صلاحیتیں ہیں، عقل ہے، جنون ہے، کچھ کر دکھانے کی لگن ہے، سب سے آگے نکل جانے کا جذبہ ہے، ایک ویژن ہے، نظم و ضبط ہے، حاضر جوابی ہے۔
نہ بیٹا نہ، حاضر جواب لوگ تو بے وقوف ہوتے ہیں، جسے الله کا ڈر ہو وہ بھلا حاضر جواب کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ تو کئی بار سوچے گا بولنے سے پہلے اور یہ جو دنیا ہے یہ کسی کی نہ ہوئی اور کسی سے نہ روندی گئی۔ یہ تو ایک آزمائش ہے۔ کسی بزرگ نے دنیا کو خواب میں دیکھا تو وہ کنواری لڑکی کی شکل میں نظر آئی۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا کے تو ابھی تک کوری پتے میں ہی ہے؟ دنیا نے ہنس کے جواب دیا کے جو مرد تھے انہوں نے ہاتھ تک نہ لگایا اور جو مرد نہ تھے وہ کوششوں میں لگے رہے۔
اسلم پر ان باتوں کا کیا اثر ہوتا، زندگی کے اگلے 30 سال وہ اپنے کہے کو سچ ثابت کرنے میں جتا رہا اور بوڑھا باپ دوپٹے رنگتا رہا۔
آج بوڑھے باپ کا آخری وقت ہے، اسلم سرہانے بیٹھا ہے، کہنے لگا ابّا سب کچھ ہے میرے پاس مگر دل کا چین اور روح کا سکون نہیں ہے، پتا نہیں کہاں چوک ہوگئی ہے؟
کچھ نہیں بیٹا، بس تیرے رنگ بکھر گئے ہیں، کبھی کپڑا بننے سے پہلے بھی کوئی رنگ چڑھتا ہے؟ رنگ تو بندے پر چڑھتا ہے۔ بندگی کی بناوٹ پوری ہوجائے تو پھر جو چاہو رنگ چڑھا دو ورنہ سب اکارت ہوجاتا ہے۔
بیٹا ایک آخری بات سن لے
بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جسے معلوم ہو کہ وہ سب سے چھوٹا ہے۔

Tuesday, 30 June 2015

Fair Color Time / Goray Raang Ka Zamana....گورے رنگ کا زمانہ

خوبصورت کون ہے؟ کیا آپ خوبصورتی کی علامت جانتے ہیں یا پھر آپ بھی معاشرے کے باقی لوگوں کی طرح گورے رنگ کو ہی خوبصورتی سمجھتے ہیں ؟ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ اس معاشرے کی نظر میں نارمل ہیں، کیونکہ اگر ہم آج کل ٹی وی پر اشتہارات دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان کا رنگ گورا نہیں ہے تو وہ بالکل بے مصرف ہے۔ نا تو اسے اچھی نوکری ملے گی اور نا ہی اس کی شادی کسی اچھی جگہ ہو سکتی ہے۔
رنگ روپ کے فرق کی اصل وجہ جغرافیائی خطہ ہے، ہمارے خطے میں بسنے والے بیشتر افراد کا رنگ یا تو گندمی ہے یا سانولا ہے، پھرنجانے کیوں یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی پراڈکٹس بیچنے کے لئے اس قسم کے اشتہارات بناتی ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے کم رنگ کی وجہ سے کوئی ان کے پاس نہیں آنا چاہتا، پھر اچانک ایک ’’گوری رنگت والا لڑکا یا لڑکی ‘‘ آتے ہیں اور انہیں اپنی کمپنی کی مہنگی پراڈکٹ خریدنے کا مشورہ دیتے ہیں جس کو لگاتے ہی کامیابی ان کے قدم چومنے لگتی ہے ۔ ارے واہ کیا راز ہے کامیابی کا، اور تو اور لوگوں کی محبت اور خاص توجہ بھی صرف ایک کریم کی دوری پر ہے ۔
صرف ملٹی نیشنل کمپنیاں ہی نہیں جناب اس فہرست میں تو ہمارے حکیم اور ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ پڑھ لکھ کر جدید سائنسی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی یہ لوگوں کو خوبصورت سے خوبصورت تر ہونے کے مشورے دیتے ہیں۔ کیبل پر ان کے چلنے والے اشتہارات میں پاکستانی رنگ و روپ کے مسائل کو غیر ملکی چہروں سے ایسے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والا ان کی بات سے متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔
حیرت اس بات کی ہے ڈاکڑ اور حکیم دونوں ہی یہ بات ایک عام انسان سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ گورا رنگ ،اونچا قد یا کوئی اور جسمانی خوبصورتی انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ پیدائش سے قبل ہمارا ڈی این اے تیار ہوتا ہے جس میں تمام تر معلومات لکھ دی جاتی ہیں اور پھر ہمارے ہاتھ میں کیا ہے یہ تو اس خالق کی مرضی ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو کس سانچے میں ڈھالتا ہے، لیکن افسوس یہ بات جاننے کے لئے ہمارے پاس وقت ہی کہاں ہے، ہمارے ذہنوں میں تو ’’گوری رنگت والی خوبصورتی‘‘ کا کیڑا گھسا ہوا ہے جو نا ہمیں چین سے جینے دے گا اور نا ہی مرنے۔
شاید قصور ان سب کا بھی نہیں ہے، لوگوں کی سوچ نے ہی انہیں موقع دیا ہے ورنہ انہیں کیا مصیبت پڑی ہے لوگوں کے ذہنوں سے کھلینے کی ۔ ہزاروں سالوں سے چلی آرہی اس سوچ کواب بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ نا تو خوبصورتی گورے رنگ میں ہے اور نا ہی بدقسمتی کالی رنگت والے کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ یہ تو انسان کی تفریق ہے ورنہ اصل خوبصورتی تو انسان کے کردار میں ہے اس کی سوچ میں ہے اس کی عادات میں ہے لیکن ان لوگوں کو کون سمجھائے جو محض دوسروں کو ان کی شکل و صورت کی وجہ سے کبھی کالا، کالی، کالن، کلن اور کالو جیسے نام دے دیتے ہیں۔ یہ نام نا صرف ان لوگوں میں احساس کمتری پیدا کرتے بلکہ دوسروں کے لئے ان کے دلوں میں نفرت کی چنگاری بھی جلا دیتے ہیں۔
 اکثر اوقات بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اچھی جگہ نوکری اور شادی کے لئے رشتوں سے صرف اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کا رنگ اتنا صاف نہیں ہوتا۔ زمانے کی باتوں سے بچنے کے لئے یہ لوگ مختلف کریموں اور ٹوٹکوں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے جلد کی مختلف بیماریاں شروع ہو جاتی ہیں، ساتھ ساتھ اچھا خاصا چہرہ بھی بگڑ جاتا ہے۔
مانا کہ اچھا لگنا ہر انسان کا حق ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم دوسروں کو احساس کمتری کا شکار کردیں۔ اگر ہمارے کہے ایک لفظ سے بھی کسی کی دل آزاری ہوئی تو ہم خدا کی بارگاہ میں کیا جواب دیں گے کہ ہم نے اس کی تخلیق کو ذلیل کیا؟ جس کا رنگ کالا ہے وہ بھی انسان ہے اور اسے بھی زندگی گزارنے کا پورا حق ہے۔ ہمیں اب اس بات کو سمجھ لینا چاہئے کہ اصل خوبصورتی آپ کے اندر چھپنے کردار و گفتار میں ہے۔ شرمندہ انہیں ہونا چاہیے جن کو اس تمیز کا علم نہیں نا کہ وہ جو کردار میں بہتر ہے مگر اس کا رنگ کالا ہے !

Wednesday, 24 June 2015

Widow! Not Helpless, It Is trip of Determination and Courage ..... بیوگی بے بسی نہیں، عزم و جرات کا سفر ہے!

اقوام متحدہ نے ہر سال 23جون کو بیوائوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اِس اعلان کا مقصد بیوائوں کے حوالے سے عوام میں شعور اور آگہی فراہم کرنا ہے۔ اس کی ابتداء ایک این جی او نے کی جس کے مالک کی ماں اوائل جوانی میں بیوہ ہوگئی تھی اور اُس نے زمانے کی مصائب اور تکالیف برداشت کئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایسی بیوائیں جن کے شوہر حکومتی ملازمتوں کے دوران انتقال کرجاتے ہیں، اُن کے لیے تو حکومتیں پنشن اور دیگر فنڈز کی مد میں مدد کرتی ہیں مگر جن کے شوہر نجی سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کی باقی کی زندگی گزارنے کے لیے کوئی ادارہ موثر طور کام نہیں کر رہا اور ایسی بیواؤں کی تعداد کثرت میں ہے کہ جو شوہر کے انتقال کے بعد نہایت مجبوری اور مایوسی کے عالم میں جی رہی ہیں۔
اِس دن کے منانے کا مقصد ایسی خواتین اور اُن کے بچوں کی فلاح بہبود کے لیے نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی ایسے ادارے قائم کرنا ہے جن کا مقصد ان بیواؤں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہو۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے بہت سے خطوں میں اب بھی بیوہ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے، جب کہ زمانہ قدیم میں فرسودہ روایات کی پیروی کرتے ہوئے بیوہ عورت کو اُس کے مرے ہوئے شوہر کے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتا یا زمین میں دفن کر دیا جاتا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس انسانیت سوز رسم کا خاتمہ ہوگیا۔ اسلام نے جہاں پر عام خواتین کے حقوق کی پاسداری کی وہاں بیواؤں سے اچھے سلوک کی تلقین کی۔ ہمارے معاشرہ میں جہاں بہت سی خامیاں ہیں ان میں سے ایک بیواؤں کے حوالے سے بھی کوئی مثبت تاثر کا نہ پایا جانا بھی شامل ہے۔اگر حقیقی نظر سے دیکھا جائے تو بیوہ کے بیشتر مسائل کا حل نکاح میں ہے، عورت کو قدم قدم پر مرد کی ضرورت پڑتی ہے، ایسی بیوائیں جن کے بچے ہوں ان کے بچوں کے تحفظ اور اچھی پرورش کے لیے دوسرا نکاح زحمت نہیں رحمت ہے۔ اگر بیوہ نکاح پر مائل نہ ہورہی ہو تب بھی سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ اسے مناسب طریقے سے راضی کریں۔
ہمارا معاشرہ ویسے تو کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہے لیکن کچھ سماجی مسائل ایسے بھی ہیں جن کو حل کرنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ان گو ناں گو مسائل میں بیوگی بھی شامل ہے، بیوہ ہونا کسی کے اختیار میں نہیں ہے لیکن معاشرتی اقدارکی کمزوریوں کے سبب قائم ہونے والا المیہ یہ ہے کہ شوہر کی موت کا ذمہ دار اسکی بیوہ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر دیکھنے میں آیا ہے کہ بیوہ کے سسرال والے اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ بیشتر بیواؤں کو شوہر کی جائیداد سے بھی بے دخل کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ بے بس اور لاچار عدالت کا رجوع کرے تو اسے بے شمار ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے دل برداشتہ ہو کر وہ خود ہی پیچھے ہٹ جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں رہنے والے بے حس افراد ایک بیوہ کے دکھ کا اندازہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ دکھ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ برداشت نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن معاشرے کی روش کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اگر بیوی کی وفات کے بعد دوسری شادی کرلے تو ہم اس اقدام کو سراہتے ہیں، ہمارے نزدیک گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے دوسری شادی ضروری ہے۔ لیکن اگر کوئی بیوہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کرلے تو اُس کے اِس قدم کو اچھی نظروں نہیں دیکھا جاتا جبکہ درحقیقت اکیلی عورت کا تنہا رہنا زیادہ مشکل ہے کیونکہ مرد کی نسبت عورت معاشرتی اور معاشی طور پر زیادہ کمزور ہوتی ہے۔ اسلام بیوہ عورت کے حقوق کا بہترین تحفظ کرتا ہے۔ عورت چاہے کنواری ہو یا بیوہ، اسلام نے اسے بے شمار حقوق دئیے ہیں خود آنحضورﷺ نے بیوہ خواتین سے نکاح کرکے مثالیں قائم کی ہیں اور آج وہی خواتین امت کی مائیں ہیں۔
اگر پاکستان میں بیوہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو سوائے تاسف کے کچھ حاصل نہیں ہوگا،2008 میں خواتین کے لئے شروع کیا جانے والا فلاحی منصوبہ ’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ خصوصی طور پر غریب و نادارخواتین کے فائدے کیلئےشروع کیا گیا تھا، اِس پروگرام کے تحت خواتین کس قدر مستفید ہو رہی ہیں اسکا اندازہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر کے باہرجائزہ لے کر کیا جاسکتا ہے۔ اِس پروگرام کے تحت اتنا فرق ضرور پڑا کہ بے بس اور لاچار غریب عورتوں میں خود اعتمادی، حوصلہ اور جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کی عمومی نفسیات کو مسخ کرکے ہاتھ پھیلانے، خود ترسی، خود کو لاچار و بیکار سمجھ کر دوسروں پر انحصار کرنے کی نفسیات کو فروغ دیا گیا۔
پاکستان میں پائی جانے والی بیوہ خواتین ہمت وجرات اوراستقامت کا ایک پہاڑ ثابت ہوئی ہیں جہاں وہ معاشرے کے جبر سے لڑتی ہیں وہیں اولاد کی پرورش کے لئے بھی ہاتھ پیھلانے کے بجائے محنت کو ترجیح دیتی ہیں۔ اپنی ہمت، محنت اور حوصلے سے نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کی بلکہ انہیں اعلیٰ تعلیم بھی دلوائی۔ ان کی جدوجہد پاکستانی خواتین کے لئے تقلید کے قابل ہے۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹیکسی چلاتی زاہدہ کاظمی کی کہانی ہو یا کسی بھی تنگ و تاریک گلی میں رہائش پذیر لوگوں کے گھروں میں برتن دھو کر اپنے بچوں کا مستقبل تعمیر کرتی کوئی بیوہ ماں، یقیناً ہمارے معاشرے کی بلندی کی علامت ہیں جہاں عورت کو زر خرید نہیں بلکہ قابل عزت و احترام سمجھا جاتا ہے۔

Wednesday, 17 June 2015

Dowry! Necessary or Complusion .....جہیز ضروری یا مجبوری

ماں باپ بڑی محبت اور محنت مشقت کے ساتھ اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں اور انہیں بڑا کرتے ہیں ۔بچیوں کے پیدا ہوتے ہی ماں باپ کو ان کی شادی کی فکر شروع ہو جاتی ہے جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اس فکر میں بھی اضافہ ہو تاجاتا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں ایک غریب خاندان کے لیے اپنی بیٹی کا جہیز تیار کرنا ہی ایک بڑا چیلنج بن گیاہے ۔جہیزضروری ہے یا مجبوری یا لعنت ۔ اس مسئلے پر میں نے ایک 100 سے زائد افراد کی رائے لی ہے ۔80فیصد نے جواب دیا کہ آج کے دور میں جہیز ایک مجبوری ہے ۔اور کچھ نہ کچھ ضرورت بھی بن چکی ہے۔دیکھا جائے تو اس ماحول میں تو جہیز ضروری اور مجبوری دونوں بن چکا ہے ۔ جو لوگ جہیز نہیں دے سکتے وہ بچیاں گھروں میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں ان کے ہاتھ پیلے نہیں ہوپاتے ، ہمارے رسم رواج جہیز کلچر کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔
دور جدید میں بہت سے ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ شادیاں نہ ہونے کی بنا پر بچیاں نفسیاتی مریض اورپاگل تک ہوجاتی ہیںاس کے علاوہ ایسے کیسزبھی سامنے آئے ہیں کہ لڑکیاں اسی غم کو دل کولگائے اور بالکل دل برداشتہ ہوکر خودکشی جیسا اقدام کر بیٹھتی ہیں۔
ابھی چند ماہ پہلے 4بہنوں نے اجتماعی خودکشی کی جس کی وجہ بھی یہی بتائی گئی کہ والدین غربت کی وجہ سے دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے پوری کررہیںتھے چار جوانی کی حد پار کرکے بالوں میں چاندی اترتی عمر میں پہنچی ہوئی بیٹوں کا اس مہنگائی کے دور میں جہیزکہاں سے تیارکرتے۔والدین اور بچیاں دونوں نفسیاتی مریض بن چکے تھے اور آخر کار بیچاری لڑکیاں اتنا دل برداشتہ ہوئیںکہ نوبت اجتماعی خودکشی تک جاپہنچی اب کون ذمہ دار تھا والدین ۔حکومت یا ہم عوام(معاشرہ) والدین جو بڑی مشکل سے دو وقت کی روٹی کاانتظام کرپاتے تھے وہ کیسے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔حکومت وقت جن کے پاس عوامی مسائل کے لیے وقت ہی نہیں بچا صوبائی وزراء کے صرف لاہور سے ساہیوال تک دورے پر 3کروڑ اڑا دیے جاتے ہیںاور اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔یہ لوگ عوامی مسائل اور لوگوں کی مجبوریوں سے بے خبر ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے عوام کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں ۔
حکمران تو وہ بھی تھے حضرت عمرؓ جوہروقت صرف اس لیے پریشان رہتے کہ میری سلطنت میں اگرکوئی بھوکا مر گیا تو رب کے ہاں جواب دینا پڑے گا۔اس جواب دہی کے احساس نے ان سے راتوں کی نیند تک چھین لی تھی وہ رات بھر علاقے میں نکلتے تاکہ لوگوں کے دکھ درد جان سکیںاور عوام کی رسائی براہ راست حکمرانوں تک موجودتھی ۔لیکن آج کے دور میںوزراء ہی کو وزیراعظم سے ملنے کے لیے کئی دن درکار ہوتے ہیں۔اور ہم عوام ایک بہت بڑا کردار ہمارا اپناہے۔ہم خود اپنے اس پاس خیال نہیں رکھتے کون کس حال میں ہے، اب تو ہماری اپنی حالت یہ ہے کہ ہر ایشوپر حکومت وقت کو موردالزام ٹھہرا کر نکل جاتے ہیں لیکن خود اپنی ذمہ داری کااحساس ختم ہوکر رہ گیا ہے۔
ہمارے آس پاس لوگ راتوں کو بھوکے سوتے ہیں، بچیاں جوان ہیں لیکن شادی صرف اس لیے نہیں ہو پارہی کہ غریب خاندان جہیز کا بندوبست نہیں کر پارہا۔یہ ہماری اپنی ذمہ داری ہے ہم اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اپنے محلے کی سطح پر فلاحی سوسائٹی قائم کرکے ان غریب بہنوں کی شادی کا بندوبست کردیں اور ان کے والدین کے کمزور کندھوں کا بوجھ ہلکا کر دیں۔نوجوان یہ کام بڑے اچھے اندازسے اپنے محلوں کے بزرگوں کی سرپرستی میں سرانجام دے سکتے ہیں۔اور چندعلاقوں میں یہی مثالیں موجود ہے ہیں کہ نوجوان اپنی مددآپ اپنے محلے کے بزگوں کی سرپرستی میں یہ کام سرانجام دے رہیں ہیں ۔ ہم ان این جی اوز اوران کے ورکرز کو سلام پیش کرتے ہیں ۔جو معاشرے میں والدین کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے بچیوں کی شادیاں کرواتے ہیں۔
اس کے علاوہ بہت سے ایسے افراد بھی معاشرے میں موجود ہیں جو ہر سال بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ اگر ہر علاقے میں صاحب حیثیت لوگ مل کر اجتماعی شادیاں کروانے کا عہد کر لیں تو یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہوگا اس کے علاوہ حکومت کو بھی ایک منصوبہ بنانا چایئے کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر اس حوالے سے کمیٹاں قائم ہو اور ایسے منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں اور ہمارا عوام کا فرض ہے کہ جہیز مانگنے اور اس پر مجبور کرنے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے ہر فرد کو اس بات کا احساس دلایاجائے ۔
بلوچستان کے کچھ اضلاع بالخصوص مکران کے علاقوں میں ایک سینکڑوں سال پرانی بہت خوبصورت رسم موجود ہے ۔جس کے مدد۔ امداد۔لین دین۔اسرا جیسے مختلف نام ہیں۔ اس رسم کی خوبی یہ ہے کہ دلہن والے جہیز تیار نہیں کرتے ان کے والدین کو اس پریشانی سے آزادی ہوتی ہے بلکہ لڑکا جو بیروزگاربھی ہوتا ہے اور شادی کا خواہش مند بھی ہوتا ہے ۔وہ اپنے رشتہ داروں،دوستوں،اورقبیلے کے لوگوں سے ملتاہے وہ تمام لوگ لڑکے کی اپنی حیثیت کے مطابق مدد کرتے ہیں مثلا نقدی رقم،بکریاں۔اونٹ ،بیل ،یا اناج وغیرہ دیتے ہیں جس سے لڑکا اپنا جہیز تیار کرتا ہے اور اپنی شادی کے اخراجات پورے کرتا ہے اور ساتھ ساتھ ان ہی روپوں سے اپنا کوئی نہ کوئی کاروبار بھی شروع کرتا ہے۔
اس رسم کا ایک اور حسن یہ بھی ہے کہ لڑکا اپنا کاروبارچلانے کے چند عرصہ بعد ہی اپنے رشتہ داروں ،دوستوں اور قبیلے والوں کو شادی کے لیے لیا ہوا روپیہ وغیرہ وآپس کر دیتا ہے یا دوسرا طریقہ کہ ان کی شادی کے موقع پر لوٹاتا رہتاہے۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اگر ایسی رسم موجود ہے جس سے لڑکی کے والدین کے کندھوں کا بوجھ لڑکا اپنے دوست احباب کی مددسے اپنا فرض سمجھ کر خود نبھتاہے تو ہم اس رسم کو پنجاب خیبر اورسند ھ سمیت پورے پاکستان میں کیوں پرموٹ نہیں کرسکتے ۔
ہمیں جہیز کلچر کی حوصلہ شکنی کے لئے بڑے پیمانے پر ایک مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے اس کلچر کو جڑسے اکھاڑ پھینکے۔ آئیے ہم اپنے گھر سے اس وباء کے خاتمے کاآغاز کریں اورہمیں بلوچستان کے ضلع مکران کی اس رسم (مدد،اسرا،امداد)کو اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھانا ہے جس سے جہیز کلچر کا خاتمہ ہوسکتے۔

Painful Taunts of Dowry/ Jaheez....کم جہیز کے درد انگیز طعنے

جہیز کو لعنت کہنا اور فرسودہ روایات کہنا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے اگر مشکلات آ رہی ہیں یا مسائل پیدا ہو رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کام ہی غلط ہے۔ اس میں جرم ہمارا اپنا ہے کہ ہم نے ہی اس کو مشکل بنا لیا ہے۔
اولاد کی شادی کرنا والدین کے فرائض میں سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش اور دیکھا دیکھی میں جہیز ایک معاشرتی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ شادی میں نکاح اہم ہوتا ہے، جس میں باہمی رضامندی سے دولہا حق مہر ادا کرتا ہے جو اس کی حیثیت کے مطابق مقرر کیا جاتا ہے اور دلہن کے والدین یا سرپرست اس کو کچھ ضروری سامان دیتے ہیں تاکہ یہ اپنے نئے گھر میں استعمال کرے، کسی سے مانگتی نہ پھرے۔ یہ ہے اصل صورت حال جسے ہم نے من مانے مطالبات اور دیکھا دیکھی میں مشکل بنادیا ہے، نتیجتاً بھاری جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں کنواری بیٹھی ہیں، ان کے بالوں میں چاندی اتر رہی ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں کہ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے یا کم ہونے کی وجہ سے بارات واپس لوٹ جاتی ہے، شوہر اپنی بیوی کو جہیز کم لانے کا طعنہ دیتا تھا جس سے دل برداشتہ ہوکر شادی شدہ خاتون نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ، میکے چلی گئی اور اس شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے انکار کردیا ہے اور بعض دفعہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اس طرح بیک وقت دو خاندان جدا ہوجاتے ہیں، ان میں رنجشیں جنم لیتی ہیں اور بسا اوقات دشمنی پیدا ہوجاتی ہے اور معاملہ عدالت و پنچایت تک بھی پہنچ جاتا ہے اور فریقین ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بھی ہوجاتے ہیں۔
ہمارا ملک اسلامی ہے اور ہم مسلمان ہیں، ہمیں اپنے اسلامی اقدار کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ یہ طریقہ کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے کہ لڑکے والے لڑکی والوں سے باقاعدہ فہرست مرتب کرکے جہیز کا مطالبہ کریں کہ ان کی بہو کو جہیز میں یہ چیزیں دی جائیں۔ صاحب حیثیت لوگوں کے لیے یہ فخر کی بات ہوتی ہوگی کہ انھوں نے یہ فرمائش پوری کردی ہے لیکن جو والدین مطلوبہ جہیز دینے کی سکت نہیں رکھتے ان کے لیے مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ وہ بھاری جہیز ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس وجہ سے ان کی بیٹیوں کے رشتے طے نہیں ہوپاتے ہیں اور ان کی عمریں بڑھنے لگتی ہیں۔ یہ صورت حال والدین کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے اور بڑھتی عمر کے ساتھ نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہونے لگتے ہیں جو گھریلو پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں۔
ایسے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں جہاں لڑکیوں کو بیچا جاتا ہے، اس کو کوئی عیب بھی تصور نہیں کیا جاتا۔ والدین لڑکے والوں سے طے شدہ رقم لے کر اپنی لڑکیوں کا نکاح کردیتے ہیں۔ ایسے لڑکی والے بھی ہیں جو نہ تو لڑکے والوں سے جہیز کی خریداری کراتے ہیں اور نہ ہی مرضی کا حق مہر لیتے ہیں۔ ایسے لڑکے والے بھی ہیں جو لڑکی والوں سے جہیز کی فرمائش نہیں کرتے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جہیز نہ تو لعنت ہے نہ ہی برا ہے، البتہ اس کی آڑ میں لوٹ مار لعنت بھی ہے اور برا رواج بھی ہے۔ نہ تو جہیز کی حد مقرر کی جاسکتی ہے اور نہ ہی حق مہر مقرر کیا جاسکتا ہے۔ یہ تو سب کی اپنی استطاعت پر ہے۔ جس کو اﷲ پاک نے جتنا دے رکھا ہے اس کے مطابق وہ حق مہر بھی دے اور اس کے مطابق جہیز بھی دے۔ اب یہ ضروری نہیں کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں یہ یہ چیزیں دی ہیں اور میں نے بھی وہ چیزیں تو لازمی دینی ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دینا ہے، اصل میں یہی وہ خرابی ہے جس نے معاشرے میں ذہنی خلفشار پیدا کر رکھا ہے اور وہ جہیز کو لعنت سمجھ بیٹھے ہیں۔
شادی ایک مذہبی فریضہ ہے اس کو ہم نے ہی مشکل بنایا ہوا ہے بلکہ سنت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق ’’تنگ دستی کو دور کرنے کے لیے شادی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے‘‘۔ کیونکہ شادی کے بعد بیوی اپنی قسمت کے ساتھ آتی ہے اور پھر اولاد ہونے کے بعد اولاد بھی اپنے نصیب کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ اﷲ پاک ہی رزق دینے والا ہے لہٰذا شادی کرنے اور بچے کی پیدائش پر غمگین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
جہاں تک شادی بیاہ میں اسراف کا تعلق ہے تو یہ غلط رواج ہے اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے، اگر اﷲ تعالیٰ نے آپ کو مال سے نواز رکھا ہے تو اس خوشی کے موقع پر غریب و نادار و مسکین کی مالی مدد کریں اس کے بدلے اﷲ تمہاری روزی میں برکت فرمائیں گے۔
شادیاں سادگی سے بھی کی جاسکتی ہیں۔ کم جہیز دے کر بھی کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کس چیز کی کمی تھی؟ دل میں خواہش کرتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر حاضر ہوجاتے۔ زیادہ سے زیادہ جہیز دینا ضروری ہوتا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی لخت جگر کو اتنا جہیز دے دیتے کہ اتنا قیامت تک کوئی بھی نہ دے سکتا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کیا حق مہر دیا وہ بھی آپ علما کرام سے پوچھ سکتے ہیں۔ ہم اپنی ناک کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں اور اس فکر میں نہ پڑیں کہ لوگ کیا کہیں گے تو پھر ہمارے بہت سے اس طرح کے مسائل ازخود حل ہوجائیں گے۔

Divorce / Talaq is Not Necessarily ......طلاق ضروری تو نہیں!

ٹرنگ ٹرنگ ۔۔۔ ہیلو کون؟
ارے امی میں ہوں، او کیسی ہو فرحین بیٹی اور یہ بتاؤ سسرال میں سب ٹھیک ہیں؟
ارے امی ٹھیک تو ہونا ہی ہے آپ کی بیٹی نےصرف ان 15 دنوں میں وہ کام کر دکھائے ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں۔
ارے واقعی! ماشاء اللہ ایسا کیا کردیا میری بیٹی نے جو آج وہ اتنا خوش ہے؟
امی آپ کو تو پتا ہے احسن کی چھوٹی بہن شادی کے بعد کینیڈا چلی گئی ہے اور اب گھر میں صرف ان کے بوڑھے ماں باپ ہیں، وہ بھی کسی کام کے نہیں ہیں۔
کسی کام کے نہیں ہیں کیا مطلب؟
امی جان میرا مطلب یہ ہے کہ ڈیفنس کا یہ اتنا بڑا بنگلہ، یہ گاڑیاں، نوکر چاکر یہ سب تو پھر میرے لئے ہی ہوئے نا؟ وہ دونوں تو بیچارے اپنے کمرے میں پڑے رہتے ہیں ۔
لیکن بیٹی تمہارا شوہر احسن تو اپنے ماں باپ کا بہت فرمانبرادر بنتا ہے۔
اُف او امی جان، اس میں کونسی ٹینشن والی بات ہے، میں بھی شادی کے پہلے دن سے آج تک آپ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چل رہی ہوں اور وہ سب میرے اتنے کام آرہے ہیں کہ مجھے پوری امید ہے کہ بہت جلد احسن اپنے امی ابو کو اولڈ ہاؤس بھجوا دیں گے۔
بس پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، ارے واہ بیٹی تم سوچ نہیں سکتی کہ مجھے کتنی خوشی ہورہی، اور ہاں یہ باتیں میرے اور تمہارے درمیان ہی رہنی چاہئیں، دیکھو اگر تمہارے ابو کو پتا چلا نہ تو وہ مجھ سے بہت ناراض ہوجائیں گے۔
امی آپ کو ابو کی پڑی ہے، آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ میں یہاں پہلے دن سے کس پریشانی میں ہوں، ڈرامے بازی کرکرکے میرا تو دماغ خراب ہو گیا ہے، احسن جیسے ہی گھر آتے ہیں ان کے سامنے ان دونوں بڈھے اور بڈھیا کو کبھی سوپ دینا تو کبھی جوس دینا۔ اُف یہ بھی بھلا کوئی آسان کام ہے؟ لیکن کیا کروں اسی طرح احسن کو احساس ہوگا کہ میں ان کے امی ابو سے بہت پیار کرتی ہوں ۔
فرحین وہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن یاد رکھو احسن پوری طرح تماری مـٹھی میں رہے اور کسی طرح بھی ہاتھ سے نکلنے نہ پائے۔
امی آپ بے فکر رہیں بس جب کوئی بات کرنی ہو تو مجھے بس ایک واٹس ایپ کر دیجئے گا میں دیکھ لوں گی۔
ٹھیک ہے بیٹی اللہ تمہیں تمہارے مقصد میں کامیاب کرے۔
یہ تو صرف ایک مختصر سا مکالمہ ہے، جو شادی کے کچھ دنوں بعد ایک نئی نویلی دلہن اور اس کی ماں کے درمیان ہوا۔ کیسی ماں ہے، جو اپنی بیٹی کو اسی کے گھر کو سنوارنے کے بجائے صرف ان بناء پر ایسے مشورے دے رہی ہے کہ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں تمام جائیداد آجائے، بھلے سے اس کے نتیجے میں اس کا سہاگ ٹوٹے یا بچے، اس سے اس کو کوئی سروکار نہیں، کیا یہ عوامل آج کے ہمارے معاشرے میں نہیں ہو رہے؟ جب مکاری اور عیاری اپنی عروج پر پہنچ جاتی ہے تو پھر معاملات بگڑنے شروع ہوتے ہیں اور اس حد تک بگڑتے چلے جاتے ہیں کہ آخر کار نوبت طلاق پر آکے رکتی ہے ۔
خیر یہ تو ایک پہلو تھا، یہاں میں آپ کو ایک اور پہلو سے روشناس کرانا چاہتا ہو، جو کچھ یوں ہے۔
شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں، کرن کے والد ایک دکان پر کام کرتے ہیں اسی لئے ان سے جتنا ہوسکا انہوں نے خرچہ کیا اور اپنی پیاری بیٹی کو رخصت کردیا۔ اگلے دن کرن اپنے نئے گھر کو سجانے کے خواب بنُنے لگتی ہے، وہ سوچتی ہے کہ اس گھر کو ہیرا بنا دے گی اور کم آمدنی کے باوجود اپنے شوہر کی تنخواہ پر ہی گزر بسر کرے گی لیکن اچانک اس کی ساس کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور کہتی ہیں کرن کہاں ہو؟
جی امی؟ آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا میں خود آپ کے کمرے میں آجاتی آپ نے تکلیف کیوں کی؟
چلو چلو یہ ڈرامے بازی نہ کرو یہ بتاؤ یہ برتنوں کا سیٹ تمہارے گھر والوں نے جہیز کے لئے نیا خریدا تھا یا جو تمہاری ماں اپنے جہیز میں لے کر آئیں تھیں وہی دے دیا؟
کرن گھبراتے ہوئے کہتی ہے نہیں امی جان، ابو نے ایک ایک پائی جمع کرکے سب کچھ نیا لیا تھا۔
اسلم سن رہے ہو اپنی بیوی کی زبان ابھی ایک دن ہوا نہیں ہے اور مجھے اس طرح جواب دے رہی ہے۔
امی میں تو بلکل آرام سے کہہ رہی ہوں کہ یہ سب کچھ نیا ہے۔
اسلم کی ماں کا غصہ مزید بڑھتا ہے جس کے بعد وہ پھر چیخ کے کہتی ہیں ٹھیک ہے لیکن یہ اتنا چھوٹا سا ٹی وی کیوں دے دیا؟ کم از کم 21 انچ کا تو دینا چاہئیے تھا، تم لوگوں نے یہ جہیز نہیں دیا بلکہ ہمارا مذاق اڑیا ہے۔ میرا بیٹا اسلم لاکھوں میں ایک ہے اس کے لئے تم سے کہیں اچھی لڑکی مل جائے گی اور اس گھٹیا جہیز سے اچھا جہیز بھی۔
لیکن امی میرے گھر والے جتنا کرسکتے تھے انہوں نے اتنا کیا ہے۔
اسلم تم اس کی محبت میں اندھے ہوگئے ہو کیا ؟ دیکھتے نہیں ابھی آئے ہوئے ایک دن بھی نہیں ہوا اور یہ لڑکی مجھ سے زبان لڑا رہی ہے۔ ابھی کے ابھی اس کو طلاق دو اور فارغ کرو۔
اسلم ماں کا حکم سنتے ہی فوراً کرن کو طلاق دے دیتا ہے۔ وہ لڑکی جسے اس گھر میں آئے ہوئے ابھی 24گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے تھے وہ طلاق لے کر چلی گئی ۔
ایک سروے کے مطابق آج کل پاکستانی معاشرے میں طلاق کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے پیچھے کوئی ایک نہیں بلکہ بہت سی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ طلاق کا رجحان سب سے زیادہ غریب طبقے میں پایا جاتا ہے۔ شوہر کم آمدنی کے باعث بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری نہیں کر پاتا، جس کی بناء پر لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اور آخرکار نوبت طلاق تک آجاتی ہے۔ وکیلوں کی جانب سے جب اس معاملے پر تحقیق کی گئی تو سامنے یہی عنصر آیا کہ وہ لڑکیاں جو اپنے سسرال آنے کے بعد بھی اپنی ماں کے کہنے پر چل رہی ہوتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ اسی راہ پر انکا شوہر، ساس، سسر اور باقی گھر والے چلنے لگیں یا پھر وہ اپنے شوہر کے ساتھ علیحدہ گھر لے کر بسنا چاہتی ہیں، یہی چیز گھر ٹوٹنے کا سبب بنتی ہے۔
اس طرح کی تمام باتیں لڑکیاں اپنی ماں، بہن یا ٹیوی سیریلز سے سیکھتی ہیں، کیونکہ آج کل آنے والے ٹی وی ڈراموں میں دکھائی جانے والی لڑکیوں کو بلکل آزاد خیال اور تمام تر ذمہ داریوں سے ماورا دکھایا جاتا ہے، پھر یہی چیزیں لڑکیاں اپنے سسرال میں آزماتی ہیں تو نتیجہ طلاق کی صورت میں ان کے سامنے آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے کیسز میں لڑکا صرف اپنے ماں باپ کی سنتا ہے اور بیوی بچوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا جس سے آپس میں تلخیاں بڑھتی ہیں۔
لہذٰا شادی کے بعد لڑکے اور لڑکی دونوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ایسے اپنا گھر بسائیں جس سے خود بخود تمام تر بُری چیزیں ختم ہوجائیں اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب لڑکی رخصتی کے بعد اپنے سسرال ہی کو اپنا گھر سمجھے، نہ کہ وہ سسرال کو بس ایک قلعہ تصور کرلے اور خود کو ایک ایسا ڈپلومیٹ جس کی ذمہ داری یہ ہو کہ وہ بہت چالاکی سے اس گھر پر قابض ہو جائے کیونکہ جب تک لڑکی یہ سوچتی رہے گی، تب تک معاملات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائیں گے۔
اس کے علاوہ مرد کو بھی چائیے کہ وہ عورت کو تمام ترحقوق دے جس کا حق اس کو شریعت اور قانون نے دیا ہے، کیونکہ جب لڑکا صحیح طور پر حقوق کا تعین کرکے اپنی شادی شدہ زندگی گزارنا شروع کرے گا تو زندگی خود بخود بہترین ہوتی چلی جائے گی۔ آخر میں ساسوں کی بھی ذمہ داری ہیں کہ وہ اس چیز کا خیال کریں کہ وہ کسی کی بیٹی کو شادی کرکے اپنے گھر لائی ہیں، اِس لیے دلہن کے کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں اور اگر ابتداء میں وہ ماحول میں گھل مل نہ پارہی ہو تو اُسے وقت دینا چاہیے تاکہ وہ بتدریج اپنے سسرال کو اپنا گھر تصور کرنا شروع کردے، صرف اس بناء پر لڑائی جھگڑا کرنا کے آج روٹی اچھی نہیں بنی یا آج سالن میں نمک کم ہوگیا ہے، بھلا یہ کہاں کا انصاف ہے! جس دن ہمارے معاشرے کی ساسوں کو یہ احساس ہوجائے اور وہ اپنی بہو کو اپنی بیٹی تصور کرنے لگیں تو بس اس دن کے بعد سے اس ملک میں کوئی بہو کچن میں جل کر نہیں مرے گی۔ بقول شاعر؛
پھر بہوجلانے کا حق تمہیں پہنچتا ہے
پہلے اپنے آنگن میں بیٹیاں جلا دینا

Tuesday, 19 May 2015

Leave The Tension OF World, Change Your Life Style.....چھوڑ دیں فکر دنیا کی، جینے کا ڈھنگ بدل ڈالیں

پُراعتماد انداز میں زندگی گزارنے والے افراد دنیا کے حوالے سے اپنا منفرد اور خاص نکتہ نظر رکھتے ہیں۔ اُن کی ہمیشہ خوش رہنے کی وجہ صرف یہ نہیں کہ خوش قسمتی مسلسل ان کے ساتھ ہے بلکہ اس کی وجہ کچھ مختلف ہے کہ وہ اپنی عادات اس انداز میں ڈھال لیتے ہیں کہ مشکلات اور پریشانیاں ان کے کسی کام میں رکاوٹ نہیں بنتیں اور کبھی ایسا ہو بھی جائے تو وہ اسے خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔
خوش رہنے والے کبھی شکریہ ادا کرنا نہیں بھولتے:
زبردستی شکریہ ادا کرنے سے وہ تاثر نہیں آتا جو آنا چاہیے، کامیاب لوگ شکریہ کہنا اپنی عادت بنا لیتے ہیں اور جب بھی ممکن ہو دوسروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کی توجہ ان چیزوں پر نہیں ہوتی جو ان کے پاس نہیں ہیں بلکہ یہ ان چیزوں، صلاحیتوں اور خوبیوں پر نظر رکھتے ہیں جو ان کے پاس ہوتی ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو مثبت طرز عمل زندگی میں مثبت مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔
خوشیاں پس پشت نہیں ڈالتے:
خوشی کے لمحات مستقبل کی کامیابیوں کے حصول میں معاون ہوتے ہیں لہذا خوشی کے ان لمحات کو بار بار یاد کرتے ہیں اور ان کو ہر پہلو سے سوچ کر مزے لیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے گنے کا رس نکالنے والا مختلف انداز میں گنے کو مشین میں ڈال ڈال کر ایک ایک قطرہ رس نچوڑ لیتا ہے یا آپ کبھی چیونگم کو تصور کریں کہ جب آپ اسے تھوکتے ہیں تو اس میں ذرہ برابر مٹھاس بھی باقی نہیں ہوتی۔
خود کو مسئلے کا حصہ نہیں سمجھتے:
خوش لوگ یہ بات کبھی نہیں بھولتے کہ کامیابی اور ناکامیاں بالکل واضح نہیں ہوتیں۔ اس لیے وہ غیر جانبدار رہنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں، ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے۔ کسی بھی مسئلے یا پریشانی کا شکار ہوتے ہوئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ معاملے سے خود کو الگ کرکے اسے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ناکامیوں پر خود کو ملامت نہیں کرتے:
دوستی کا ختم ہونا، ہاتھ سے موقع نکل جانا، امتحان میں اوسط نتیجہ، ہم سب کا ایسی صورتحال سے واسطہ پڑتا ہے اور ہم پچھتاتے بھی ہیں لیکن پچھتانے سے حاصل کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کیفیت میں جو بھی کام کیا جائے وہ مطلوبہ نتائج نہیں پاتے کیونکہ ذہن مایوسی میں ڈوبا ہوتا ہے۔
پرواہ نہیں کرتے کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؛
جو لوگ خوش رہتے ہیں اور خوش رہنا چاہتے ہیں وہ اس بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے کہ لوگوں کی ان کے بارے کیا رائے ہے۔ ان کی رائے جو بھی ہو لیکن اُس سے اُن سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ اُن پاس تو اِن فالتو لوگوں کے بارے میں سوچنے کا بالکل بھی وقت نہیں ہے۔
موازنہ نہیں کرتے؛
جہاں ایک جیسی دو چیزیں سامنے آئیں موازنہ شروع اور اپنی کامیابی کا جائزہ دوسرے کی کامیابی سے لینا شروع کردیا، آگے بڑھنے کے لئے مسابقت اچھی چیز ہے لیکن اگر موازنہ کرنے سے مایوسی کے بادل چھانے لگیں تو بہتر ہے کہ موازنہ کرنے سے دور ہی رہا جائے۔ خدا نے ہر انسان کو مختلف مواقع اور صلاحتیں دیں ہیں لہذا اپنا کسی سے موازنہ کرنا اور اس پر اُداس یا پریشان ہونا انتہائی بیوقوفانہ فعل ہے۔ آپ اپنا موازنہ دنیا میں صرف ایک ہستی سے کرسکتے ہیں اور وہ ہے گذرے ہوئے کل کے آپ۔
خود پر بھی ہنس لیتے ہیں؛
اپنی غلطی پر ہنسنے کی عادت زندہ دلی اور خوش مزاجی کا مظہر ہوتی ہے، روشن خیالی ان کے ذہنوں کا اس انداز میں احاطہ کئے ہوتی ہے کہ وہ ہر بات میں خوش ہونے یا مسکرانے کا پہلو نکال لیتے ہیں خواہ وہ حقیقت میں ان کی کوئی کمزوری ہی کیوں نہ ہو۔
بے دھیانی میں دوست نہیں بناتے؛
زندگی میں دوست بناتے وقت یہ اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ وہ کون ہیں جن کو آپ کی ضرورت رہتی ہے اور دوسرے جو آپ کے کسی کام آسکتے ہیں۔ اب ذرا سمجھ لیں کہ ایسے لوگ بھی اطراف میں موجود ہوتے ہیں جن کا کام صرف شکوے، شکایتیں اور رونا ہوتا ہے وہ ہر بات کا منفی پہلو سوچتے ہیں، اِس لیے ایسے لوگوں کو حلقہ احباب میں شامل نہ کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ اگر آپ کے دوست ہوئے تو یہ آپ کی خوشیاں کھا جائیں گے۔
سیکھنا نہیں چھوڑتے؛
کتابیں، سفر، نئے مشاغل، غیر ملکی زبانیں، دنیا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا یہ سب کبھی بھی نہیں رکنا چاہیے خواہ آپ کی عمر 9 سال ہو یا 90 برس۔ ان مشاغل میں خود کو مصروف رکھنے والے ہمہ وقت اپنی اہمیت سے آگاہ رہتے ہیں اور ہر روز اپنی قدر میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
ماضی اور مستقبل میں نہیں جیتے؛
ماضی کی غلطیوں اور منفی تجربات اور مستقبل میں ناکامی کا خوف اگر مسلسل دماغ پر سوار رہے تو انسان آج کی خوشیوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ خوش اور کامیاب لوگ کوئی بھی خوف خود پر طاری نہیں ہونے دیتے وہ اچھی طرح جانتے ہیں گزرا ہو کل کبھی واپس نہیں آئے گا، مستقبل کے بارے میں فکر کی جائے تو آج کھل کر نہیں جی سکیں گے۔

illness / Bemari / Jinnaat Ya Jadu Toona.....بیماری یا جادوٹونا

اس بچے کی گردن پرکٹ لگتا جارہا تھا، جیسے کوئی تیزدھارآلے یا بلیڈ سے گردن کوکاٹ رہا ہو،اس کٹ سے خون بہنا شروع ہوگیا ، گردن پرلگنے والے کٹ کی وجہ سے 6 سالہ علی حسنین کی چیخیں نکل رہیں تھی ،اس کا باپ بے بسی سے بیٹے کی گردن پرخود بخود لگنے والے کٹ کو دیکھ رہا تھا اورمضبوطی سے اپنے جگرگوشے کو بھی پکڑرکھا تھا جو درد کی وجہ سے مچھلی بے آب کی طرح تڑپ رہا تھا۔ دور بیٹھی اس بدقسمت بچے کی ماں بیٹے کی حالت پرآنسو بہارہی تھی ،میرے لئے یہ منظرانتہائی حیرت انگیزتھا ،مجھے جہاں اس معصوم بچے کی حالت دیکھ کردکھ اورافسوس ہورہا تھا وہیں بچے کے جسم پرلگنے والے اس جیسے بہت سے زخموں کا پس منظرجان کرخوف بھی آرہا تھا۔
چند ہفتوں قبل مجھے ایک دوست نے فون کرکے بتایا کہ لاہورمیں سلامت پورہ کے علاقے میں ایک شخص کے تین بچوں پرآسیب کا سایہ ہے ،اس کے بچوں کے جسم پرخود بخود کٹ لگ جاتے ہیں جن سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے، آپ اس کو دیکھ لیں ،شاید اس غریب کے بچوں کا کوئی علاج ہوسکے۔ میں نے اس سے وعدہ کرلیا اورایک دن اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پرجاپہنچا، یہ کوئی باقاعدہ گھرنہیں تھا بلکہ ایک مقامی شخص کا ڈیرہ تھا جس میں ایک ہی کمرہ بنا ہواتھا،جبکہ ایک طرف مویشیوں کے باندھنے کی جگہ تھی۔ یہاں میری ملاقات علی عباس سے ہوئی، جس کے تین بچے دو بیٹے اور ایک بیٹی کچھ عرصے سے ایک عجیب اذیت کا شکارہیں۔ علی عباس کا تعلق شکرگڑھ کے نواحی علاقہ چکڑا بڑوال ہے لیکن اب وہ اس امید پرلاہورمیں رہتا ہے کہ شاید یہاں اس کے بچوں کاکوئی علاج ممکن ہوسکے گا ،علی عباس ردی کاغذ اکھٹے کر گھرکا چولہا جلاتا ہے۔
علی عباس کے تینوں بچوں کے جسم گہرے زخموں سے بھرے پڑے ہیں ، سب سے زیادہ کٹ علی حسنین کے جسم پر ہیں۔ 6 سال کا یہ بچہ خون کی مسلسل کمی سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا ہے ،چلنا پھرنا تو دورکی بات یہ ننھا فرشتہ بغیرسہارے کے بیٹھ بھی نہیں سکتا تاہم اس کے چھوٹے بھائی چارسالہ زین اور دو سال کی ایمان زہرا کی حالت قدرے بہترہے۔
بچوں کی حالت دیکھ کرایسے لگتا ہے جیسے کسی تیزدھارآلے یا چاقو سے کٹ لگائے ہیں۔ میراخیال تھا کہ شاید یہ کوئی بیماری ہے جس کی وجہ سے جسم پر اس طرح کا زخم بن جاتا ہے اوراس میں سے خون بہنا شروع ہوجاتاہے، لیکن علی عباس کا کہنا تھا کہ نہیں صاحب یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ جادو ٹونے کا اثر ہے ، وہ مجھے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بتارہا تھا کہ اس دوران علی حسنین نے درد سے چیخنا شروع کردیا ،بیٹے کو دیکھ کر باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور کہنے لگا دیکھیں صاحب ،یہ دیکھیں ایسے زخم لگتا ہے اورخون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور میں خوف اورحیرت کے ملے جلے جذبات میں اس بچے کو دیکھ رہا تھا۔ چند منٹ بعد کٹ لگنا رک گیا، کوئی تین انچ لمبا کٹ تھا ،کٹ زیادہ گہرا نہیں تھا اس وجہ سے خون آہستہ نکل رہا تھا۔
فوٹو؛ آصف محمود
علی عباس نے زخم پر روئی لگادی جس سے خون نکلنا بند ہوگیا اورتھوڑی دیربعد علی حسنین کی چیخیں بھی بند ہوگئیں ،اس لاغراوربیمارجسم میں خون تھا ہی کتنا جو نکلتا پاتا،اس لئے خود بخود ہی خون نکلنا بند ہوگیا،بچے کی حالت سنبھلنے کے بعد علی عباس دوبارہ متوجہ ہوااوربچوں کی اس حالت کا پس منظربتانے لگا۔
علی عباس نے بتایا اس کا سب سے بڑابیٹا علی حسنین ذہنی معذورہے ،اس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں کٹ نہ لگے ہوں،اس بچے کو کئی بارخون بھی لگوایا جاچکا ہے لیکن اب ڈاکٹر بھی ان کا علاج نہیں کرتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کے جسم سے لوہے اور پیتل کی سوئیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ بچوں کی والدہ سلمی نے بتایا کہ وہ اپنے جگرگوشوں کے علاج کےلئے نجانے کتنے عاملوں ،پیروں اور ڈاکٹروں کے پاس جا چکے ہیں لیکن پیسہ ضائع ہونے کے علاوہ انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ان کے بقول کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ایک بزرگ سے دعا کروائی جس کے بعد چند ماہ تک بچوں کی حالت بہتررہی لیکن اس کے بعد پھران کی ایسی حالت ہونا شروع ہوگئی ۔
فوٹو؛ آصف محمود
میں نے ان سے ڈاکٹروں کی رپورٹس اورلاہورمیں جس ڈاکٹرسے وہ بچے کا علاج کرواتے رہے اس کا نام پتہ لیکرواپس لوٹ آیا ،اگلے روز میں لاہورکے اس معروف ڈاکٹرسے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اپنی زندگی میں انہوں نے ایسا مرض نہیں دیکھا ،اس طرح کی کچھ بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے جسم کے کسی حصے پرپھوڑا، پھنسی ہوسکتی ہے لیکن اس طرح کٹ لگنا اوران سے خون بہنا یہ کوئی بیماری نہیں ہے، یہ جادو ٹونے کا ہی چکر ہے ،آپ کسی بھی ڈاکٹرکو دکھا لیں وہ آپ کو یہی جواب دے گا۔ میری امید دم ٹوڑنے لگی ،میرا خیال تھا کہ یہ کوئی بیماری ہوگی جس کا علاج ہوسکے گا ، وہ لوگ شاید غربت کی وجہ سے علاج نہیں کروا پا رہے ہیں، میں کسی مخیرشخص یا صوبائی مشیر صحت سے کہہ کران بچوں کا علاج کروادوں گا لیکن جب ڈاکٹرنے جواب دیا تو میں مایوس ہوگیا۔ پھرمیں نے سوچا کہ کیوں نہ کسی روحانی شخصیت سے رابطہ کیا جائے ،ایک بزرگ سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا بچوں کو اور ان کے والد کو ان کے پاس بھیج دیں اللہ پاک کرم کرے گا، میں نے علی عباس تک پیغام پہنچادیا کہ وہ فلاں بزرگ سے جاکرمل لیں اور یوں میں مطمئن ہوگیا کہ چلیں اس غریب آدمی کے بچے ٹھیک ہوجائیں گے ۔
کوئی ایک ہفتے بعد مجھے انہیں بزرگ کا پیغام ملا کہ جس شخص بارے آپ نے بتایا تھا وہ آیا نہیں اپنے بچوں کو لے کر،میں نے علی عباس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگررابطہ نہ ہوسکا ،مجھے بتایا گیا کہ وہ بچوں کو لیکر واپس گاؤں چلا گیا ہے ، جس دوست کے حوالے سے علی عباس سے رابطہ ہوا تھا میں نے اس کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس سے رابطہ کرے ، کوئی دو ہفتے بعد مجھے علی عباس کا فون آیا ،میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی آپ گئے کیوں نہیں ان بزرگ کے پاس ،آپ کے بچے کیسے ہیں ،علی عباس نے رندھی ہوئی آوازمیں کہا صاحب بہت دیرہوچکی تھی ،جس دن آپ ملے تھے اس کے دو دن بعد ہی میرابیٹا فوت ہوگیا تھا۔
اس کا جواب سن کرمیراسرشرمندگی سے جھک گیا ، میں خود کو اس بچے کا قاتل سمجھ رہا تھا ،اگرمیں اسی دن بچے کے لئے کچھ کردیتا توشاید اس کی جان بچ جاتی ،لیکن وہ غریب آدمی میراشکریہ ادا کررہا تھا ،اس نے بتایا کہ اس کی ان بزرگ سے ناصرف بات ہوگئی تھی بلکہ وہ اپنے دوسرے بچوں کو لیکر ان کے پاس گئے تھے ،ان بزرگوں نے دعا کی ہے اورکچھ ہدایات بھی دیں ہیں ، اب اس کے بچوں کی حالت بہترہے آپ اللہ سے دعا کرتے رہئے گا۔
یہ میری علی عباس سے آخری گفتگو تھی ،اس کے بعد نااس کا کبھی فون آیا اورنہ ہی اس کے نمبرپرکوئی رابطہ ہوسکا ،اب بھی جب کبھی تنہائی میں بیٹھا سوچتا ہوں تو دماغ گھوم جاتا ہے،  آخریہ سوچ کربلاگ لکھا کہ اپنے اس اندرکے دکھ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرتاہوں شاید کوئی بوجھ ہلکا ہوجائے۔

Thursday, 14 May 2015

Maa kay Sahara, Parents Ki Rehnumai Larki k Liye Mashal e Raah Hai....y, ...... ماں کے سہارے,والدین کی راہ نمائی لڑکیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

آج کی لڑکی ماضی کے مقابلے میں زیادہ وسیع نظریات و خیالات کی حامل ہے۔ آج وہ بہت کچھ کرنا چاہتی ہے۔
اعلا تعلیم کے حصول سے زندگی کے ہر شعبے تک وہ معاشرے کی آنکھ سے آنکھ ملا کر ہر رکاوٹ کو جدوجہد سے عبور کرنا چاہتی ہے۔ وہ جانتی ہے والدین نے جس بھروسے و یقین کے ساتھ اسے گھر کی دہلیز پار کرنے کی اجازت دی ہے۔ وہ ہر گز اسے ٹھیس نہیں پہنچائے گی۔ اس لیے والدین کی عزّت و وقار قائم و دائم رکھنا اس کا اولین مقصد ہوتا ہے۔ وہ جانتی ہے، والدین نے کن مشکلات و مصائب کا سامنا کر کے اسے گھر سے روانہ کیا تھا۔ پھر جب اُس نے ملازمت کی اجازت مانگی تو والدین کی سانس پھر اٹک گئی۔ وہ پیاری بیٹی کی امنگوں سے بھر پور خواہش رد نہیں کرنا چاہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ بیٹی بھی بیٹوں کی طرح اُن کا سہارا بن کر معاشی بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہے۔
وہ بیٹی کی خواہش کا مان رکھتے ہوئے اسے اعلا تعلیم کے بعد ملازمت کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔ ساتھ ہی باہر کی دنیا میں احتیاطوں کے لیے اچھی نصیحت بھی ہم سفر کرتے ہیں۔ والدین کو اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں لوگ ان کی بچی کی طرف انگلیاں نہ اٹھائیں  اور کوئی بات نہ بنائیں۔ بیٹی ان ساری باتوں کو اپنے پلو سے باندھے باہر نکلتی ہے۔ والدین اور گھر والوں نے اس پر کتنا بھروسا کیا ہے، لہٰذا اب وہ بھی ہر صورت میں اسے کسی بھی ٹھیس سے بچائے گی۔ دوسری طرف کچھ عاقبت نااندیش لڑکیاں ان باتوں کو چٹکیوں میں اڑا دیتی ہیں۔ گھر کی چار دیواری سے نکل کر خود کو آزاد پنچھی کی طرح ہوائوں میں اڑتا محسوس کرتی ہیں۔ اس خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہیں کہ دنیا ایک اشارے پر اُن کی مرضی کے مطابق چل پڑے گی۔ جیسا وہ چاہیں گی، بس ویسا ہی ہوگا۔
وہ یہ نہیں جانتیں زمانہ تو ویسے بھی بہت مطلب شناس ہے۔ بڑے بڑے سورمائوں کو اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ تو پھر ایک نازم اندام چڑیا کی مانند جس کے پَروں نے ابھی صرف پھڑ پھڑانا ہی سیکھا ہے۔ کھلے آسمان میں پرواز تو اُسے ابھی سیکھنا ہے۔ جب ہی تجربے کی بھٹی میں سرخ ہوجانے والے  والدین نے ہر، ہر پہلو پر غور کر کے ہی زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کیا۔ نصیحتوں کی پوٹلی وعدے کے ساتھ نبھانے کو کہا، مگر بہت سی نادان لڑکیاں نہیں سمجھتیں۔ کبھی تو راہ پر چلتے ہوشیار بازوں کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں، تو کبھی دفتروں میں ترقی کے سہانے خوابوں کے پیچھے پشیمانی اٹھاتی ہیں۔ نادان عمر میں اندھی محبت کے کچے سپنوں کو عمر بھر کا سہارا سمجھ کر اپنی ذات کو ریت کے ریگزاروں کے سپرد کردیتی ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتیں، یہ سب ماں باپ کے لیے کتنا درد ناک ہوگا۔ جب وقت کا پہیا سِرکتا ہے تو غلطیوں کا گہرا احساس ندامت بن کر بہت ستاتا ہے۔
فرماں بردار بیٹیاں پیار سے بھرپور نصیحتوں کو اپنے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا کر اس کے سہارے آگے بڑھتی رہتی ہیں اور دنیا میں بھی کام یابی سمیٹتی ہیں اور والدین کی نظروں میں بھی سرخرو رہتی ہیں۔ وہ یہ سوچتی ہیں کہ میری ترقی میرے  والدین کی عزت و نیک نامی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ مجھے اُن کے وقار کو برقرار رکھنا ہے۔ یہی چیز مجھے تعلیم سے درست معنوں سے روشناس کرائے گی او ر میں اپنے وقار اور کردار کو مضبوط رکھ کر ہی معاشرے کی بھٹکتی نگاہوں کا مقابلہ کر سکوں گی۔ مستقبل کی خوشیوں کی ضامن اس کی ناپختہ سوچ نہیں بلکہ والدین کی دعا ئیں ہی بنیں گی۔

Tuesday, 12 May 2015

Suicide Ka Khatarnaak Rujhaan.....خودکشی کا خطرناک رجحان

دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرتا ہے۔ پاکستان میں خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی خواتین میں خودکشی کی شرح زیادہ ہے۔ عالمی ادارئہ صحت W.H.O نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امیر مرد زیادہ خودکشیاں کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زہریلے مواد تک رسائی کو روکنے اور اسلحے کے استعمال پر پابندیوں سے خودکشی کی شرح کم کی جاسکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ دماغی امراض میں مبتلا افراد ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتے، یوں ان کے دماغ میں موجود خودکشی کے جراثیم موثر ہوجاتے ہیں۔ صحت کا عالمی تنظیم نے ذرایع ابلاغ پر تنقید کی ہے کہ مشہور رہنماؤں اور اداکاروں وغیرہ کی خودکشی کی خبروں کو پیش کرکے ذہنی بیمار لوگوں کو مزید بیمارکیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ اسلام میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے مگر مذہبی پابندی کے باوجود خودکشی کی شرح میں اضافہ معاشرے کی کمزوریوں کو عیاں کرتا ہے۔ طبی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شاہد اقبال نے ذہنی امراض پر کافی تحقیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کے مرض کا تعلق معاشرے کی ساخت سے منسلک ہے۔
عمومی طور پر لوگ گھریلو پریشانیوں خاص طور پر محبت میں ناکامی اور معاشی وجوہات اور سماجی ناانصافیوں کی بناء پر خودکشی کرتے ہیں۔ ماحولیات و ریاست کے سیاسی ومعاشی بحران لوگوں میں فرسٹریشن پیدا کرتے ہیں۔ یہ فرسٹریشن ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد اقبال کا کہنا ہے کہ بعض افراد کے خاندان میں خودکشی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ وہ وراثت میں ملے ہوئے جراثیم کی بناء پر خودکشی کرتے ہیں مگر ایسے افراد کی شرح کم ہے۔ مگر غربت کی بڑھتی ہوئی شرح لوگوں کو اپنی زندگیوں کو کم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ خواتین شادی شدہ زندگی کی ناکامی،غریبی،عزیزوں کی بدسلوکی اور مجرمانہ حملوں سے فرسٹریٹ ہو کر بھی خودکشی پر مجبور ہوتی ہیں اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب پولیس اور عدالتیں ان خواتین کی دادرسی نہیں کرتیں۔ یوں سڑکوں پر خواتین کے خود کو آگ لگا کر ہلاک کرنے کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔
ذہنی بیماریوں کے علاج کا معاملہ فرسودہ سماجی روایات کی نظر ہوجاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں لوگ پیروں اور مزاروں پر جا کر علاج کرانے کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق 2020تک پاکستان میں ڈپریشن کی شرح بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور موجودہ صورتحال میں ذہنی امراض کے لیے دواؤں کے استعمال کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ جنوبی ایشا میں ذہنی امراض خصوصاً ڈپریشن اور تشویش کا رجحان خصوصاً پاکستان اور انڈیا میں بتدریج بڑھ رہا ہے۔ڈاکٹر شاہد اقبال کا کہنا ہے کہ ملک کے بڑے اسپتالوں میں ذہنی امراض کے ڈاکٹر وں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور صوبہ پنجاب کے چند اسپتالوں کے علاوہ ملک بھر میں ماہرِ نفسیات کا تقرر کا رواج نہیں ہے۔
یوں مریضوں کی سائیکو تھراپی اورکونسلنگ کی سہولتیں موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح ملک میں مینٹل ہیلتھ آرڈیننس موجود ہے مگر اس میں ماہرِ نفسیات کا کردار ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ لوگ سیاسی اور معاشی حالات سے پریشان ہو کر خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیات کی بنا ء پر بھی امراض بڑھ رہے ہیں۔ ماحولیات سے مراد فضاء میں بڑھتا ہوا شور، فضائی اور زمینی آلودگی شامل ہے۔ مخصوص ممالک میں ہارن بھی انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں بجایا جاتا ہے۔ عمومی طور پر ڈرائیور ہارن بجانے سے گریز کرتے ہیں۔ جرمنی کے شہر کولون میں مقیم پاکستانی طالب علم عرباض احمد خان کا کہنا ہے کہ کولون میں ایک سال کے قیام کے دوران صرف اس دن ہارن کی آواز سنائی دی جب جرمنی نے فٹ بال کا عالمی مقابلہ جیتا تھا۔ پاکستان میں مذہبی عبادت گاہوں اور گاڑیوں سے آنے والی آوازوں اور شور سے ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی زندگیوں کو مزید خراب کررہا ہے۔
برسرِ اقتدار حکومتوں کے دعوؤں کے باوجود غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ، امن و امان کی صورتحال، زرعی اور صنعتی ترقی کی راہ میں بڑھتی رکاوٹیں لوگوں کو فرسٹریشن کے علاوہ کچھ نہیں دے پا رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کا بچوں سمیت نہروں میں ڈوب پر خود کو ہلاک کرنا، سارے خاندان کو زہریلی اشیاء کھلانے اور ریلوے لائن پر ٹرین کے نیچے خود کو ہلاک کرنے کی خبریں ہر روز ذرایع ابلاغ کی زینت بنتی ہیں۔ اخبارات پر تحقیق کرنے والے بعض محققین کا کہنا ہے کہ 80 کی دھائی تک معاشی مسائل کی بناء پر خودکشی کی خبریں کبھی اخبارات میں نظر نہیں آتی تھیں  مگر اب گزشتہ 30 برسوں سے اسی طرح کی خبریں پڑھنے کو عام ملتی ہیں اور ٹی وی چینلز ان خبروں کو نشر کرتے ہیں۔ ایسے موقعے پر انسانی حقوق کے ماہرین اور ماہرینِ سماجیات ان خودکشیوں کی وجوہات بیان کرتے ہیں مگر ریاستی اداروں کی بے حسی برقرار رہتی ہے۔ سیاسی نظام میں بحران بھی لوگوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
گزشتہ ماہ سے شروع ہونے والے دھرنوں نے لوگوں کو ذہنی طور پر ایک عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ٹی وی چینلز 24 گھنٹے سیاسی رہنماؤں کی تقاریر براہِ راست دکھا رہے ہیں۔ روزانہ تبدیلی کی نوید دی جاتی ہے۔ ایک مذہبی رہنما اپنی شہادت کا پیشگی اعلان کرتے ہیں، کفن لہرائے جاتے ہیں اور قبریں کھودی جاتی ہیں مگر حکومت کا سلسلہ دراز رہتا ہے ۔ مگر ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ عام آدمی سیاسی رہنماؤں کی تقاریر سے متاثر ہوتا ہے۔ بچے اور نوجوان ان رہنماؤں میں اپنا آئیڈیل تلاش کرتے ہیں مگر پھر فرسٹریشن بڑھتی ہے۔ یوں عام آدمی ڈپریشن کا شکار ہورہا ہے۔
بعض ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر تیسرا شخص ذہنی امراض کا شکار ہے۔ ملک میں اعصابی تناؤ ختم کرنے اور سکون آور ادویات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان ہی دوائیوں کو استعمال کرنے والے کسی وقت بھی خودکشی کرسکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک خطرناک علامت ہے۔ خودکشی پر آمادہ لوگوں کی کؤنسلنگ ہوسکتی ہے، یوں مرض میں روک تھام ممکن ہے مگر سماجی اور معاشی حالات اور سماجی انصاف نہ ہونے سے لوگوں کے پاس موت کو گلے لگانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیںہے۔ زندگی ایک دفعہ ملتی ہے اس کو بہتر بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کرنی چاہئیں۔

Ghalat Fehmi......غلط فہمی

جو آدمی غریب سے امیر ہوا ہوتا ہے اسے ایک خوف ہوتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں اس سے یہ سب کچھ چھن نہ جائے۔ اسے غربت کا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ترستا تھا۔ وہ واپس اس دنیا میں نہیں جانا چاہتا جس سے نکلنے کے لیے اس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے تھے۔ وہ کلاس بدل جانے پر تو خوش ہوتا ہے لیکن واپس نچلے درجے میں آنے کے خیال ہی سے سہم جاتا ہے۔ وہ تدبیریں کرتا ہے کہ کسی طرح یہ مال و دولت زیادہ سے زیادہ عرصہ اس کے پاس رہے۔ چھن جانے کا ڈر ایک غلط فہمی ہے۔
اگر قدرت کے اشارے کو سمجھا جائے تو خوف کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر غریب سے امیر ہونے والوں کے دلوں کو جھانکا جائے تو وہ خواہ مخواہ اندیشے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اگر وہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیں تو انھیں مشاہدے کی دنیا کی سیر کرواتے ہیں۔ اگر وہ رئیس سے فقیر ہونے والوں کی تاریخ دیکھیں تو اطمینان محسوس کریں گے۔ وہ جانیں گے کہ خالق کائنات خوشحالی کی سیڑھی پر قدم رکھنے والی پہلی نسل کو کچھ رعایت دیتے ہیں۔
قدرت اس آدمی سے دولت نہیں چھینتی جس نے بچپن میں غربت دیکھی ہو۔ اگر وہ دنیا میں ’’رب‘‘ بننے کی کوشش نہ کرے تو۔ شدید فضول خرچی سے بچ جائے تو وہ دوبارہ مفلس ہونے سے بچ سکتا ہے۔ ’’نو دولتیے‘‘ کا لفظ ایک طعنہ ہے اس امیر کے لیے جو غریب باپ کا بیٹا ہو۔ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے باوجود یہ لفظ اس کے دل پر چبھتا ہے۔ یقین جانیں یہ لفظ ایک گارنٹی ہے کہ آپ کی آخری سانس تک جو کچھ آپ کے پاس آگیا ہے وہ چھینا نہیں جائے گا۔ بچپن میں غربت کے دکھ جھیلنے والے اور ادھیڑ عمری تک آتے آتے خوشحال ہونے والے کا بڑھاپا عموماً محفوظ ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک انشورنس پالیسی ہے۔ غربت میں محرومی کا پریمیم ادا کرنے والے کے لیے یہ ایک عمدہ پالیسی ہے۔ دو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے والے دولتیے کو پرسکون رہنا چاہیے۔
جوانی میں دولت مند مائیک ٹائی سن جیسے لوگ بچپن کے بعد بڑھاپے میں غریبی کا دکھ کیوں جھیلتے ہیں؟ اس کا سبب ان کی بے تحاشا فضول خرچی اور زمین پر فرعون بننے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہ دو حفاظتی تدابیر اختیار کرکے پرسکون بڑھاپا گزارا جاسکتا ہے۔ رئیسانہ انداز سے غربت اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے مفلسی میں جاتے اکثر وہ لوگ دیکھے گئے ہیں جو پیدائشی امیر ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کا سوچیں تو یہ جملہ ان لوگوں کے لیے ایک جھٹکا ہے جو کنگلے سے کروڑ پتی ہوئے ہیں۔ مختصراً یوں سمجھیں کہ گارنٹی ان کے لیے ہے جنھوں نے بچپن میں غربت دیکھی ہو۔ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والی دوسری نسل کی کوئی گارنٹی نہیں۔ آئیے بات کو ذرا آگے بڑھاتے ہیں۔
نیا نیا امیر صرف دولت کے بارے میں ہی فکرمند کیوں ہوتا ہے؟ وہ جانتا ہے کہ شہرت ہمیشہ نہیں رہے گی، عزت بھی اس وقت تک ہوگی جب تک ہنر کی قدر ہوگی اور صحت بھی گرتی رہے گی۔ عزت، شہرت اور صحت میں وقت کے ساتھ کمی گوارا کرنیوالا دولت میں کمی پر رضامند نہیں ہوتا کیوں؟ اس لیے کہ وہ مال و دولت اپنی آنیوالی نسل کو منتقل کرنا چاہتا ہے اسی لیے وہ باقی تین چیزوں پر کمپرومائز کو تیار ہوجاتا ہے۔ انسان موت کو بھی ہنسی خوشی گلے لگا سکتا ہے اگر دولت اس کے بچوں تک باقی رہے۔ ہم کہہ چکے ہیں اور دیکھنے میں بھی یہی آیا ہے کہ خوشحال ہونے والی پہلی نسل سے دولت نہیں چھینی جاتی۔ ’’تم محفوظ ہو لیکن بچوں کی کوئی گارنٹی نہیں۔‘‘ یہ قدرت کا اشارہ ہے۔
آپ کہیں گے کہ ہم نے نسل در نسل کے امیر دیکھے ہیں۔ ہم کہیں گے دیکھے ہوں گے لیکن بتائیے کہ بڑی بڑی مشہور کمپنیاں اس کنبے کے بانی کے خاندان کے پاس ہیں؟ بائیس خاندان کہاں گئے جن کی ایوب دور میں بڑی شہرت تھی؟ مشہور کھلاڑیوں اور فنکاروں کے بیٹے تمام تر کوششوں کے باوجود کیوں ناکام رہے ؟ گاندھی، لیاقت، جوہر، نشتر کے بیٹوں کو وہ مواقع نہ ملے جو انھیں ملے تھے۔ حنیف محمد، آصف اقبال، مشتاق محمد، جاوید میانداد کا کوئی بیٹا بڑا کرکٹر نہیں۔ سلطان راہی، وحید مراد، رنگیلا، کمال کے بیٹے فلمی صنعت میں ناکام رہے۔ غربت کے اندھیرے چیر کر عزت دولت اور شہرت حاصل کرنے والوں کی اگلی نسل گمنامی کے غار میں دکھائی دیتی ہے۔
اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والا اگر اپنی اولاد میں چار خوبیاں دیکھے تو سمجھ جائے کہ سلسلہ دراز ہوگا۔ اگر یہ خصوصیات آنے والی نسل میں نہ دیکھے تو جان لے کہ قدرت کی دراز رسی جلد کھینچ لی جائے گی۔ اس کی آخری سانسوں تک قدرت لحاظ کر جائے لیکن اولاد کو زیادہ مہلت عمل نہ ملے گی۔ پہلی خوبی ذہانت ہے۔ کھیل، فن، قلم کاری اور سیاست کے لیے زیادہ ذہانت درکار ہوتی ہے۔
تجارت ہو تو زیادہ ہوشیاری درکار نہیں ہوتی کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے لیکن کم کم۔ لگاتار تین کامیاب نسلوں کی مثالیں اکا دکا ہی ہیں۔ علامہ اقبال، جاوید اقبال اور ولید اقبال کے علاوہ سرسید، جسٹس محمود اور سر راس مسعود۔ ایسی کامیابیوں کے لیے آنے والی نسل کا سخی ہونا لازمی ہے۔ غریب سے امیر ہونے والے کی سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والی اولاد اگر دولت پر سانپ بن کر بیٹھ جائے تو خوشحالی زیادہ دیر نہیں رہتی۔ تجوری کھولنے، بٹوہ نکالنے اور چیک بک پر فلاحی کام کے لیے دستخط کرنے میں منہ بنایا جائے تو قدرت منہ کے بل گرا دیتی ہے۔
جھونپڑے سے کوٹھی کا سفر اچھا لگتا ہے لیکن جب کوارٹر میں پیدا ہونیوالے کا جنازہ بنگلے سے نکلتا ہے تو اولاد جائیداد کے لیے لڑتی دیکھی گئی ہے۔ عزت، دولت اور صحت قربان کرکے دولت بچانے والا چاہتا ہے کہ اولاد عدالت کی سیڑھیاں نہ چڑھے تو وہ انصاف کا دامن تھام لے۔ بچوں میں اتفاق چاہے تو جان لے کہ دن بہ دن عمر کی نقدی ختم ہو رہی ہے۔ ایک سے دوسری دکان اور تیسری سے چوتھی فیکٹری یا پانچویں سے چھٹے گھر کی طرف نہ بڑھے۔ کیش رقم اپنے قبضے میں رکھے اور بیٹیوں کے لیے بھی وراثت کی ادائیگی کا ذہن بنائے۔ اس وقت جب جسم و ذہن میں طاقت ہو اور پیسہ اپنے کنٹرول میں ہو۔ یہ سب کچھ خاندانی شخص کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے لیکن آج ہم اس شخص کی بات کر رہے ہیں جسے اچھے لفظوں میں اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والا اور طنزیہ طور پر نو دولتیا کہا جاتا ہے۔
اوپری کلاس میں آنے والا نیچے جانے سے ڈرتا ہے۔ کیا واقعی وہ اپنے مفلس ہونے سے ڈرتا ہے؟ وہ ظاہر تو یہی کرتا ہے۔ اصل خواہش یہ ہوتی ہے کہ یہ مال و دولت، یہ شہرت و عزت یہ ٹھاٹھ باٹھ اس کی نسل در نسل چلتا رہے۔ اس کا پہلا مرحلہ اپنے بڑھاپے بلکہ آخری سانس تک دولت کی ریل پیل دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کے حوالے سے خوف میں مبتلا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ تادیر رہے گا؟ ذہانت و سخاوت اور اتفاق نہ دیکھنے پر وہ اپنے حوالے سے سوچنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کہیں مجھ سے ہی یہ نہ چھن جائے۔ یہ ہوتی ہے اس کی غلط فہمی۔ وہ دونوں حوالے سے غلط سوچتا ہے۔ اولاد کے حوالے سے سات نسلوں تک اسے لاحق ہوتی ہے خوش فہمی اور اپنے بارے میں ہوتی ہے غلط فہمی۔ نہ اس کی خوش فہمی سچی ہوتی ہے اور نہ غلط فہمی۔