Saturday, 14 March 2015

Shadi Season..Ya....?....شادی سیزن


ایک سوال جس نے مجھے ہمیشہ پریشان کیا ہے وہ یہ ہے کی آخر یہ شادی سیزن کس بلا کا نام ہے؟ ہم سارا سال یہی سنتے رہتے ہیں کہ آجکل شادی سیزن چل رہا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ ہمارا ایک پسندیدہ مشغلہ اگرماضی سے سبق حاصل نہ کرنا ہے تو دوسرا پسندیدہ مشغلہ شادیاں کرنا ہے۔ 

ہماری شادیاں بھی اتنے ہی لوازمات کی حامل ہوتی ہیں جتنے ہمارے رمضان کے دسترخوان۔ اگر خاندان میں کہیں شادی ہورہی ہو تو رشتہ دار زندگی اجیرن کردیتے ہیں اور اگر کوئی مشہور شخصیت رشتہ ازدواج میں بندھ رہی ہوتو ہمارا میڈیا ڈھنڈورچی کا کردار بخوبی نبھاتا ہے۔
لفظ شادی میں اگر کوئی دل فرشوری کا سامان ہے تو وہ یہ کہ وہ ’ہوتی‘ ہے۔ ویسے بھی اس لفظ کو آدمی سنجیدگی سے صرف اس وقت لیتا ہے جب اپنی ہورہی ہو۔ دوسروں کی شادیاں ہمیشہ وقت کا ضیاع اور تھکان کا باعث لگتی ہیں۔
دوسری جانب کسی بھی شادی کا بنا لڑائی جھگڑے کے ہوجانا ممکنات میں نہیں۔ جہاں پھوپیاں، خالائیں رنگ میں بھنگ کی آمیزش کی کوششیں کرتی ہیں وہیں تقریب سعید کے قریب آتے ہی کوئی نہ کوئی روٹھ بیٹھتا ہے۔ اس کے بعد روٹھنے منانے کا وہ عمل شروع ہوتا ہے کہ بھائی کے جانثار بھی شرما جائیں۔
پوری تقریب میں اگر کوئی خوش ہوتا ہے، وقتی طور پر ہی سہی، تو وہ ہے رشتہ ازدواج میں بندھنے والا جوڑا۔ دونوں اطراف کے والدیں گھبراہٹ کا شکار جبکہ دوست احباب کی توجہ کا محور صرف اور صرف کھانے کی میزیں ہوتی ہیں۔
کارڈ پر آمد کے لیے وقت کچھ بھی درج ہو، مہمانوں کی آمد کا سلسلہ رات گئے ہی شروع ہوتا ہے۔ بھلا اگر ہم وقت کی پابند ہوتے تو آج اس دوراہے پر کھڑے ہوتے؟
کھانے کے دوران دولہا دلہن کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو جمہوریت میں جمہور کے ساتھ، یعنی کوئی نہیں پوچھتا۔
تحفتاً لفافہ تھمانے کی رسم بھی خوب ہوتی ہے۔ صاحب تقریب آخری وقت تک اس تجسس میں مبتلا رہتا ہے کہ بند لفافے سے قارون کا کونسا خزانہ نکلے گا اور اس کے نقصان کا کچھ ازالہ ہوگا جبکہ ہر دینے والے کا مقصد حیات یہ ہوتا ہے کہ جتنا دیا ہے اس سے دگنے پیسوں کا کھانا ٹھوس لیا جائے اور تگنے کا ضائع کردیا جائے۔
کھانے کی میز پر سب سے کڑی نگاہ پھوپا خالو کی ہوتی ہے جو وقتاً فوقتاً نمک مرچ کی کمی زیادتی پر اپنی ماہرانہ رائے سے نوازتے رہتے ہیں۔ دسترخوان پر رزق ضائع ہونا باعث شرمندگی ہو نہ ہو، رائتے یا کولڈ ڈرنک کا کم پڑ جانا میزبان کے لیے باعث ندامت ضرور ہوتا ہے۔
کہاوت زبان زد عام ہے کہ پہلی مرتبہ کھانا ایسے نکالو کہ دوسری دفعہ نہیں ملے گا اور دوسری مرتبہ ایسے نکالو کہ پہلی دفعہ نہیں ملا تھا۔
اس پورے کھیل کے دوران وڈیو والے کا فقط ایک کام ہوتا ہے۔ کس نے کتنی بوتلیں اٹھائیں، کون مرغے کی ٹانگ مروڑ رہا ہے، کس نے کتنے قلچے چٹ کردیے، اس پوری واردات کو کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلے تاکہ سند رہے۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے کہ کل کو اگر کوئی رشتہ دار ٹھیک سے کھانا نہ ملنے کی شکایت کرے تو وڈیو کے ذریعے اس کی مکاری کا پردہ فاش کیا جاسکے۔
شادیوں میں رسومات کی اتنی ہی افادیت ہے جتنی نئی آئینی ترامیم کے بعد ملک میں صدر کی رہ گئی ہے۔ پھر بھی مجال ہے کوئی بھولی بسری رسم یا شگون خاندان کی بڑی بوڑھیوں کے ذہن سے نکل جائے۔
آجکل مہندی کی تقریبات میں ڈانس فلور کا رواج بھی چل پڑا ہے جس میں خاندان کے سبھی منچلوں کو طوفان چھچھورپن برپا کرنے کا لائیسنس مل جاتا ہے۔ بیہودہ بھارتی گانوں کی تھاپ پر بدنما رقص کے وہ دور چلتے ہیں کہ پشتو فلموں کی اداکاراؤں کی روحیں کانپ جائیں۔ دوسری جانب سیلفیز کا جن بھی بوتل سے باہر آجاتا ہے۔ جون سے معذرت کے ساتھ۔
اس قدر سیلفیاں لینے کا
تجھ کو ہوتا نہ اختیار اے کاش!
غور طلب بات یہ ہے کہ جوانوں کے ساتھ ساتھ بوڑھے بھی اپنا حصہ بھرپور انداز میں ڈالتے ہیں۔ ہر ڈھولکی یا رتجگے کے دوران ایک دور ایسا ضرور آتا ہے جس کا آغاز اس شعر کے ساتھ ہوتا ہے۔
غزل کس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا!
ہماری ثقافتی روایات کی روشنی میں شادی خانہ آبادی لڑکی کے والدین کے دل اور جیب دونوں پر بھاری گزرتی ہے۔ چاہے اپنا راج دلارا کتنا ہی بدشکل، تاریک حال اور تاریک تر مستقبل کا حامل کیوں نہ ہو، ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ گھر میں آئے تو بس چاند جیسی بہو۔
ویسے تو جہیز سنت ہے لیکن لالچی لڑکے والوں کے لیے کہتے ہیں کہ اگر آپ کو جہیز کی اشد ضرورت ہے تو آپ لڑکی کا ہاتھ نہیں، زکوۃ مانگیے۔
ویسے میری ناقص رائے میں جس حساب سے ان دنوں شادیاں ہورہی ہیں، اس سال کے آخر تک ملک میں مردم شماری کا انعقاد ناگزیر ہوجائے گا اور یوں بھی شادیوں کا مسلسل ہوتے رہنا اچھا ہی ہے۔ آخر تقریب کچھ تو بحر ملاقات چاہیے

Rishtay Natay, Rishtoon kay Resham....... رشتے ناتے و رشتوں کے ریشم

رشتوں میں پیدا ہونے والی امید نے جب ایک دھوکے پر دم توڑا تو اس کمزور جان لڑکی کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔ اس آواز میں اس قدر تاثیر تھی کہ اس سے وابستہ ہرشخص کو یکساں سنائی دی۔ پھر کئی روز تک وہ ایسی چُپ ہوئی کہ اس کے جاننے والوں کی قطار لگ گئی۔ مگر وہ کسی سے کیا کہتی کہ آج اُسے اُس رشتے نے تکلیف دی جو ہمیشہ اُس کی تکلیفوں کو دور کیا کرتا تھا‘‘۔

اِس قسم کے بے شمار واقعات روزانہ کی بنیادوں پر ہمارے ارد گرد رونما ہورہے ہیں۔ رشتے بنتے ہیں سنورتے ہیں کچھ آگے چلتے ہیں اور پھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ رشتے بننے میں جتنی دیر لگتی ہے اس سے کہیں کم وقت اُن کے بکھرنے میں لگتا ہے۔ رشتوں کو سنبھال کر رکھنا بہت مشکل اور کٹھن کام ہے۔ ہم جتنا جس رشتے کی موجودگی پر خوش ہوتے ہیں اُس کے دیے گئے غم پر اتنی ہی تکلیف پہنچتی ہے۔ کبھی کبھار جذبات میں کیے گئے فیصلے ہمارے جان سے عزیزتر رشتوں کو ہم سے جدا کردیتے ہیں۔ وہ وجوہات جو رشتوں کو کمزور کرنے یا توڑنے کا سبب بنتی ہیں ان میں طنز و بحث، دھوکا، غلط فہمی اور نہ جانے کیا کچھ شامل ہے۔
طنز اور بحث سے رشتے کمزور ہوجاتے ہیں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ لڑائی تو جیت لیتے ہیں مگر اس بحث میں اپنوں کو ہار بیٹھتے ہیں۔ اس لئے طنز و بحث کو ایسے طریقے سے لے کر چلا جائے جہاں رشتوں کے کناروں پر آنچ نہ آنے پائے۔
رشتوں میں دراڑیں ڈالنے والی ایک بڑی وجہ غلط فہمی ہوتی ہے۔ غلط فہمی کبھی حقیقی غلطی سے شروع ہوتی ہے اور پھر اندر ہی اندر پھولتی بڑھتی رہتی ہے اور پھر ایک دوسرے سے معاملہ افہام و تفہیم سے سلجھانے کی بھی نوبت نہیں آنے دیتی اور یوں یہ مضبوط رشتہ ایک چھوٹی سی پیدا کی گئی غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں رشتوں کی رسی کمزور تب ہوتی ہے جب انسان غلط فہمی میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب بھی خود بنا لیتا ہے۔
کبھی اِس رشتے کے ٹوٹنے کی وجہ وہ حقیقی غلطی بنتی ہے جو ہم سے جانے یا انجانے میں سرزد ہوجاتی ہے۔ غلطی ہونے کے بعد ندامت ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے بڑھ کر اس غلطی کا ازالہ کوئی اور چیز نہیں کرسکتی۔ اِس ندامت کا احساس کبھی دلانا پڑتا اور کبھی خود بخود ہوجاتا ہے۔ رشتہ تو تب منقطع کیا جانا چاہیے جب ندامت کا احساس دلانے کے بعد بھی کوئی نادم نہ ہو۔ مگر یہاں تو ندامت کا ہزار بار احساس ہوجانے کے بعد بھی رشتوں میں انقطاع آجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی غلطی ہوتی ہے جو غلطی کے بعد سرزد ہونے کے بعد بھی کی جارہی ہوتی ہے۔ رشتوں کی مضبوطی آپ کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ رشتے بننے میں ناجانے کن کن چیزوں کا پایا جانا پرکھا جاتا ہے اور جب رشتے جُڑ جاتے ہیں تو انہیں ایک سرزد ہونے والی غلطی کی نظر کردیا جانا انصاف کے منافی ہے۔ غلطی ہوئی تو اس پر ندامت اس کا ازالہ بھی تو ہوا ہوتا ہے، مگر غلطی کے بعد ندامت کو نہیں دیکھا جاتا۔
کبھی غلطی کرنے والے کو سزا کے طور پر اتنا خود سے دور کیا جاتا ہے کہ وہ دور رہنا ہی سیکھ جاتا ہے اور یوں ایک رشتہ خود ہی اپنے ہاتھ سے توڑ دیا جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے اور وہ اپنی غلطی کا ازالہ بھی کرچکا ہو تب بھی اسے سزا دی جاتی ہے، یہ سزا ایسی ہوتی ہے جو ایک اچھائی کی طرف بڑھنے والے قدموں کو روک کر اُلٹے قدموں پر چلا دیتی ہے۔ یوں نہ صرف رشتہ ٹوٹتا ہے بلکہ ایک باغی بھی جنم لیتا اور پھر اس باغی کی سرکشی نہ جانے مزید کتنے رشتوں کے ٹوٹنے کا سبب بنتی ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ اگر کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو اُسے احساس دلایا جائے، ندامت کی صورت میں اسے اپنے قریب کیا جائے، پہلے سے بڑھ کر اُسے محبت اور پیار دیا جائے تاکہ وہ جس اچھائی کی طرف لوٹا ہے وہ ہمیشہ کے لئے اس پر گامزن رہے۔ خوامخواہ کسی کو پریشان کرتے رہنے سے رشتہ تو برقرار نہیں رہتا ساتھ میں متعلقہ فرد سے اچھائی کی اُمید بھی نہیں رکھی جاسکتی۔
ایک بات یاد رکھیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اچھے شخص سے بھی ناقابل معافی غلطی ہوجاتی ہے اور کبھی بُرے شخص سے قابل تعریف اچھائی ہوجاتی ہے۔ فرق صرف آپ کو کرنا ہے کیا ایک اچھے شخص کو معاف کرکے دوبارہ اسے اچھائی کی طرف لانا ہے یا پھر اسے معاف نہ کر کے ہمیشہ کے لئے بُرائی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ اگر آپ نے آج اُس کا ہاتھ نہ تھاما تو یقیناً پھر وہ کچھ دن بعد اُس کا شمار اچھوں میں ہونے کے بجائے ہمیشہ سے دھوکا دینے والوں میں ہونے لگے گا جس میں آپ بھی برابر کے حصہ دار ہوں گے۔