Tuesday, 19 May 2015

Leave The Tension OF World, Change Your Life Style.....چھوڑ دیں فکر دنیا کی، جینے کا ڈھنگ بدل ڈالیں

پُراعتماد انداز میں زندگی گزارنے والے افراد دنیا کے حوالے سے اپنا منفرد اور خاص نکتہ نظر رکھتے ہیں۔ اُن کی ہمیشہ خوش رہنے کی وجہ صرف یہ نہیں کہ خوش قسمتی مسلسل ان کے ساتھ ہے بلکہ اس کی وجہ کچھ مختلف ہے کہ وہ اپنی عادات اس انداز میں ڈھال لیتے ہیں کہ مشکلات اور پریشانیاں ان کے کسی کام میں رکاوٹ نہیں بنتیں اور کبھی ایسا ہو بھی جائے تو وہ اسے خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔
خوش رہنے والے کبھی شکریہ ادا کرنا نہیں بھولتے:
زبردستی شکریہ ادا کرنے سے وہ تاثر نہیں آتا جو آنا چاہیے، کامیاب لوگ شکریہ کہنا اپنی عادت بنا لیتے ہیں اور جب بھی ممکن ہو دوسروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کی توجہ ان چیزوں پر نہیں ہوتی جو ان کے پاس نہیں ہیں بلکہ یہ ان چیزوں، صلاحیتوں اور خوبیوں پر نظر رکھتے ہیں جو ان کے پاس ہوتی ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو مثبت طرز عمل زندگی میں مثبت مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔
خوشیاں پس پشت نہیں ڈالتے:
خوشی کے لمحات مستقبل کی کامیابیوں کے حصول میں معاون ہوتے ہیں لہذا خوشی کے ان لمحات کو بار بار یاد کرتے ہیں اور ان کو ہر پہلو سے سوچ کر مزے لیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے گنے کا رس نکالنے والا مختلف انداز میں گنے کو مشین میں ڈال ڈال کر ایک ایک قطرہ رس نچوڑ لیتا ہے یا آپ کبھی چیونگم کو تصور کریں کہ جب آپ اسے تھوکتے ہیں تو اس میں ذرہ برابر مٹھاس بھی باقی نہیں ہوتی۔
خود کو مسئلے کا حصہ نہیں سمجھتے:
خوش لوگ یہ بات کبھی نہیں بھولتے کہ کامیابی اور ناکامیاں بالکل واضح نہیں ہوتیں۔ اس لیے وہ غیر جانبدار رہنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں، ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے۔ کسی بھی مسئلے یا پریشانی کا شکار ہوتے ہوئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ معاملے سے خود کو الگ کرکے اسے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ناکامیوں پر خود کو ملامت نہیں کرتے:
دوستی کا ختم ہونا، ہاتھ سے موقع نکل جانا، امتحان میں اوسط نتیجہ، ہم سب کا ایسی صورتحال سے واسطہ پڑتا ہے اور ہم پچھتاتے بھی ہیں لیکن پچھتانے سے حاصل کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کیفیت میں جو بھی کام کیا جائے وہ مطلوبہ نتائج نہیں پاتے کیونکہ ذہن مایوسی میں ڈوبا ہوتا ہے۔
پرواہ نہیں کرتے کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؛
جو لوگ خوش رہتے ہیں اور خوش رہنا چاہتے ہیں وہ اس بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے کہ لوگوں کی ان کے بارے کیا رائے ہے۔ ان کی رائے جو بھی ہو لیکن اُس سے اُن سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ اُن پاس تو اِن فالتو لوگوں کے بارے میں سوچنے کا بالکل بھی وقت نہیں ہے۔
موازنہ نہیں کرتے؛
جہاں ایک جیسی دو چیزیں سامنے آئیں موازنہ شروع اور اپنی کامیابی کا جائزہ دوسرے کی کامیابی سے لینا شروع کردیا، آگے بڑھنے کے لئے مسابقت اچھی چیز ہے لیکن اگر موازنہ کرنے سے مایوسی کے بادل چھانے لگیں تو بہتر ہے کہ موازنہ کرنے سے دور ہی رہا جائے۔ خدا نے ہر انسان کو مختلف مواقع اور صلاحتیں دیں ہیں لہذا اپنا کسی سے موازنہ کرنا اور اس پر اُداس یا پریشان ہونا انتہائی بیوقوفانہ فعل ہے۔ آپ اپنا موازنہ دنیا میں صرف ایک ہستی سے کرسکتے ہیں اور وہ ہے گذرے ہوئے کل کے آپ۔
خود پر بھی ہنس لیتے ہیں؛
اپنی غلطی پر ہنسنے کی عادت زندہ دلی اور خوش مزاجی کا مظہر ہوتی ہے، روشن خیالی ان کے ذہنوں کا اس انداز میں احاطہ کئے ہوتی ہے کہ وہ ہر بات میں خوش ہونے یا مسکرانے کا پہلو نکال لیتے ہیں خواہ وہ حقیقت میں ان کی کوئی کمزوری ہی کیوں نہ ہو۔
بے دھیانی میں دوست نہیں بناتے؛
زندگی میں دوست بناتے وقت یہ اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ وہ کون ہیں جن کو آپ کی ضرورت رہتی ہے اور دوسرے جو آپ کے کسی کام آسکتے ہیں۔ اب ذرا سمجھ لیں کہ ایسے لوگ بھی اطراف میں موجود ہوتے ہیں جن کا کام صرف شکوے، شکایتیں اور رونا ہوتا ہے وہ ہر بات کا منفی پہلو سوچتے ہیں، اِس لیے ایسے لوگوں کو حلقہ احباب میں شامل نہ کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ اگر آپ کے دوست ہوئے تو یہ آپ کی خوشیاں کھا جائیں گے۔
سیکھنا نہیں چھوڑتے؛
کتابیں، سفر، نئے مشاغل، غیر ملکی زبانیں، دنیا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا یہ سب کبھی بھی نہیں رکنا چاہیے خواہ آپ کی عمر 9 سال ہو یا 90 برس۔ ان مشاغل میں خود کو مصروف رکھنے والے ہمہ وقت اپنی اہمیت سے آگاہ رہتے ہیں اور ہر روز اپنی قدر میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
ماضی اور مستقبل میں نہیں جیتے؛
ماضی کی غلطیوں اور منفی تجربات اور مستقبل میں ناکامی کا خوف اگر مسلسل دماغ پر سوار رہے تو انسان آج کی خوشیوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ خوش اور کامیاب لوگ کوئی بھی خوف خود پر طاری نہیں ہونے دیتے وہ اچھی طرح جانتے ہیں گزرا ہو کل کبھی واپس نہیں آئے گا، مستقبل کے بارے میں فکر کی جائے تو آج کھل کر نہیں جی سکیں گے۔

illness / Bemari / Jinnaat Ya Jadu Toona.....بیماری یا جادوٹونا

اس بچے کی گردن پرکٹ لگتا جارہا تھا، جیسے کوئی تیزدھارآلے یا بلیڈ سے گردن کوکاٹ رہا ہو،اس کٹ سے خون بہنا شروع ہوگیا ، گردن پرلگنے والے کٹ کی وجہ سے 6 سالہ علی حسنین کی چیخیں نکل رہیں تھی ،اس کا باپ بے بسی سے بیٹے کی گردن پرخود بخود لگنے والے کٹ کو دیکھ رہا تھا اورمضبوطی سے اپنے جگرگوشے کو بھی پکڑرکھا تھا جو درد کی وجہ سے مچھلی بے آب کی طرح تڑپ رہا تھا۔ دور بیٹھی اس بدقسمت بچے کی ماں بیٹے کی حالت پرآنسو بہارہی تھی ،میرے لئے یہ منظرانتہائی حیرت انگیزتھا ،مجھے جہاں اس معصوم بچے کی حالت دیکھ کردکھ اورافسوس ہورہا تھا وہیں بچے کے جسم پرلگنے والے اس جیسے بہت سے زخموں کا پس منظرجان کرخوف بھی آرہا تھا۔
چند ہفتوں قبل مجھے ایک دوست نے فون کرکے بتایا کہ لاہورمیں سلامت پورہ کے علاقے میں ایک شخص کے تین بچوں پرآسیب کا سایہ ہے ،اس کے بچوں کے جسم پرخود بخود کٹ لگ جاتے ہیں جن سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے، آپ اس کو دیکھ لیں ،شاید اس غریب کے بچوں کا کوئی علاج ہوسکے۔ میں نے اس سے وعدہ کرلیا اورایک دن اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پرجاپہنچا، یہ کوئی باقاعدہ گھرنہیں تھا بلکہ ایک مقامی شخص کا ڈیرہ تھا جس میں ایک ہی کمرہ بنا ہواتھا،جبکہ ایک طرف مویشیوں کے باندھنے کی جگہ تھی۔ یہاں میری ملاقات علی عباس سے ہوئی، جس کے تین بچے دو بیٹے اور ایک بیٹی کچھ عرصے سے ایک عجیب اذیت کا شکارہیں۔ علی عباس کا تعلق شکرگڑھ کے نواحی علاقہ چکڑا بڑوال ہے لیکن اب وہ اس امید پرلاہورمیں رہتا ہے کہ شاید یہاں اس کے بچوں کاکوئی علاج ممکن ہوسکے گا ،علی عباس ردی کاغذ اکھٹے کر گھرکا چولہا جلاتا ہے۔
علی عباس کے تینوں بچوں کے جسم گہرے زخموں سے بھرے پڑے ہیں ، سب سے زیادہ کٹ علی حسنین کے جسم پر ہیں۔ 6 سال کا یہ بچہ خون کی مسلسل کمی سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا ہے ،چلنا پھرنا تو دورکی بات یہ ننھا فرشتہ بغیرسہارے کے بیٹھ بھی نہیں سکتا تاہم اس کے چھوٹے بھائی چارسالہ زین اور دو سال کی ایمان زہرا کی حالت قدرے بہترہے۔
بچوں کی حالت دیکھ کرایسے لگتا ہے جیسے کسی تیزدھارآلے یا چاقو سے کٹ لگائے ہیں۔ میراخیال تھا کہ شاید یہ کوئی بیماری ہے جس کی وجہ سے جسم پر اس طرح کا زخم بن جاتا ہے اوراس میں سے خون بہنا شروع ہوجاتاہے، لیکن علی عباس کا کہنا تھا کہ نہیں صاحب یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ جادو ٹونے کا اثر ہے ، وہ مجھے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بتارہا تھا کہ اس دوران علی حسنین نے درد سے چیخنا شروع کردیا ،بیٹے کو دیکھ کر باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور کہنے لگا دیکھیں صاحب ،یہ دیکھیں ایسے زخم لگتا ہے اورخون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور میں خوف اورحیرت کے ملے جلے جذبات میں اس بچے کو دیکھ رہا تھا۔ چند منٹ بعد کٹ لگنا رک گیا، کوئی تین انچ لمبا کٹ تھا ،کٹ زیادہ گہرا نہیں تھا اس وجہ سے خون آہستہ نکل رہا تھا۔
فوٹو؛ آصف محمود
علی عباس نے زخم پر روئی لگادی جس سے خون نکلنا بند ہوگیا اورتھوڑی دیربعد علی حسنین کی چیخیں بھی بند ہوگئیں ،اس لاغراوربیمارجسم میں خون تھا ہی کتنا جو نکلتا پاتا،اس لئے خود بخود ہی خون نکلنا بند ہوگیا،بچے کی حالت سنبھلنے کے بعد علی عباس دوبارہ متوجہ ہوااوربچوں کی اس حالت کا پس منظربتانے لگا۔
علی عباس نے بتایا اس کا سب سے بڑابیٹا علی حسنین ذہنی معذورہے ،اس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں کٹ نہ لگے ہوں،اس بچے کو کئی بارخون بھی لگوایا جاچکا ہے لیکن اب ڈاکٹر بھی ان کا علاج نہیں کرتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کے جسم سے لوہے اور پیتل کی سوئیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ بچوں کی والدہ سلمی نے بتایا کہ وہ اپنے جگرگوشوں کے علاج کےلئے نجانے کتنے عاملوں ،پیروں اور ڈاکٹروں کے پاس جا چکے ہیں لیکن پیسہ ضائع ہونے کے علاوہ انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ان کے بقول کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ایک بزرگ سے دعا کروائی جس کے بعد چند ماہ تک بچوں کی حالت بہتررہی لیکن اس کے بعد پھران کی ایسی حالت ہونا شروع ہوگئی ۔
فوٹو؛ آصف محمود
میں نے ان سے ڈاکٹروں کی رپورٹس اورلاہورمیں جس ڈاکٹرسے وہ بچے کا علاج کرواتے رہے اس کا نام پتہ لیکرواپس لوٹ آیا ،اگلے روز میں لاہورکے اس معروف ڈاکٹرسے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اپنی زندگی میں انہوں نے ایسا مرض نہیں دیکھا ،اس طرح کی کچھ بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے جسم کے کسی حصے پرپھوڑا، پھنسی ہوسکتی ہے لیکن اس طرح کٹ لگنا اوران سے خون بہنا یہ کوئی بیماری نہیں ہے، یہ جادو ٹونے کا ہی چکر ہے ،آپ کسی بھی ڈاکٹرکو دکھا لیں وہ آپ کو یہی جواب دے گا۔ میری امید دم ٹوڑنے لگی ،میرا خیال تھا کہ یہ کوئی بیماری ہوگی جس کا علاج ہوسکے گا ، وہ لوگ شاید غربت کی وجہ سے علاج نہیں کروا پا رہے ہیں، میں کسی مخیرشخص یا صوبائی مشیر صحت سے کہہ کران بچوں کا علاج کروادوں گا لیکن جب ڈاکٹرنے جواب دیا تو میں مایوس ہوگیا۔ پھرمیں نے سوچا کہ کیوں نہ کسی روحانی شخصیت سے رابطہ کیا جائے ،ایک بزرگ سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا بچوں کو اور ان کے والد کو ان کے پاس بھیج دیں اللہ پاک کرم کرے گا، میں نے علی عباس تک پیغام پہنچادیا کہ وہ فلاں بزرگ سے جاکرمل لیں اور یوں میں مطمئن ہوگیا کہ چلیں اس غریب آدمی کے بچے ٹھیک ہوجائیں گے ۔
کوئی ایک ہفتے بعد مجھے انہیں بزرگ کا پیغام ملا کہ جس شخص بارے آپ نے بتایا تھا وہ آیا نہیں اپنے بچوں کو لے کر،میں نے علی عباس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگررابطہ نہ ہوسکا ،مجھے بتایا گیا کہ وہ بچوں کو لیکر واپس گاؤں چلا گیا ہے ، جس دوست کے حوالے سے علی عباس سے رابطہ ہوا تھا میں نے اس کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس سے رابطہ کرے ، کوئی دو ہفتے بعد مجھے علی عباس کا فون آیا ،میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی آپ گئے کیوں نہیں ان بزرگ کے پاس ،آپ کے بچے کیسے ہیں ،علی عباس نے رندھی ہوئی آوازمیں کہا صاحب بہت دیرہوچکی تھی ،جس دن آپ ملے تھے اس کے دو دن بعد ہی میرابیٹا فوت ہوگیا تھا۔
اس کا جواب سن کرمیراسرشرمندگی سے جھک گیا ، میں خود کو اس بچے کا قاتل سمجھ رہا تھا ،اگرمیں اسی دن بچے کے لئے کچھ کردیتا توشاید اس کی جان بچ جاتی ،لیکن وہ غریب آدمی میراشکریہ ادا کررہا تھا ،اس نے بتایا کہ اس کی ان بزرگ سے ناصرف بات ہوگئی تھی بلکہ وہ اپنے دوسرے بچوں کو لیکر ان کے پاس گئے تھے ،ان بزرگوں نے دعا کی ہے اورکچھ ہدایات بھی دیں ہیں ، اب اس کے بچوں کی حالت بہترہے آپ اللہ سے دعا کرتے رہئے گا۔
یہ میری علی عباس سے آخری گفتگو تھی ،اس کے بعد نااس کا کبھی فون آیا اورنہ ہی اس کے نمبرپرکوئی رابطہ ہوسکا ،اب بھی جب کبھی تنہائی میں بیٹھا سوچتا ہوں تو دماغ گھوم جاتا ہے،  آخریہ سوچ کربلاگ لکھا کہ اپنے اس اندرکے دکھ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرتاہوں شاید کوئی بوجھ ہلکا ہوجائے۔

Thursday, 14 May 2015

Maa kay Sahara, Parents Ki Rehnumai Larki k Liye Mashal e Raah Hai....y, ...... ماں کے سہارے,والدین کی راہ نمائی لڑکیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

آج کی لڑکی ماضی کے مقابلے میں زیادہ وسیع نظریات و خیالات کی حامل ہے۔ آج وہ بہت کچھ کرنا چاہتی ہے۔
اعلا تعلیم کے حصول سے زندگی کے ہر شعبے تک وہ معاشرے کی آنکھ سے آنکھ ملا کر ہر رکاوٹ کو جدوجہد سے عبور کرنا چاہتی ہے۔ وہ جانتی ہے والدین نے جس بھروسے و یقین کے ساتھ اسے گھر کی دہلیز پار کرنے کی اجازت دی ہے۔ وہ ہر گز اسے ٹھیس نہیں پہنچائے گی۔ اس لیے والدین کی عزّت و وقار قائم و دائم رکھنا اس کا اولین مقصد ہوتا ہے۔ وہ جانتی ہے، والدین نے کن مشکلات و مصائب کا سامنا کر کے اسے گھر سے روانہ کیا تھا۔ پھر جب اُس نے ملازمت کی اجازت مانگی تو والدین کی سانس پھر اٹک گئی۔ وہ پیاری بیٹی کی امنگوں سے بھر پور خواہش رد نہیں کرنا چاہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ بیٹی بھی بیٹوں کی طرح اُن کا سہارا بن کر معاشی بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہے۔
وہ بیٹی کی خواہش کا مان رکھتے ہوئے اسے اعلا تعلیم کے بعد ملازمت کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔ ساتھ ہی باہر کی دنیا میں احتیاطوں کے لیے اچھی نصیحت بھی ہم سفر کرتے ہیں۔ والدین کو اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں لوگ ان کی بچی کی طرف انگلیاں نہ اٹھائیں  اور کوئی بات نہ بنائیں۔ بیٹی ان ساری باتوں کو اپنے پلو سے باندھے باہر نکلتی ہے۔ والدین اور گھر والوں نے اس پر کتنا بھروسا کیا ہے، لہٰذا اب وہ بھی ہر صورت میں اسے کسی بھی ٹھیس سے بچائے گی۔ دوسری طرف کچھ عاقبت نااندیش لڑکیاں ان باتوں کو چٹکیوں میں اڑا دیتی ہیں۔ گھر کی چار دیواری سے نکل کر خود کو آزاد پنچھی کی طرح ہوائوں میں اڑتا محسوس کرتی ہیں۔ اس خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہیں کہ دنیا ایک اشارے پر اُن کی مرضی کے مطابق چل پڑے گی۔ جیسا وہ چاہیں گی، بس ویسا ہی ہوگا۔
وہ یہ نہیں جانتیں زمانہ تو ویسے بھی بہت مطلب شناس ہے۔ بڑے بڑے سورمائوں کو اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ تو پھر ایک نازم اندام چڑیا کی مانند جس کے پَروں نے ابھی صرف پھڑ پھڑانا ہی سیکھا ہے۔ کھلے آسمان میں پرواز تو اُسے ابھی سیکھنا ہے۔ جب ہی تجربے کی بھٹی میں سرخ ہوجانے والے  والدین نے ہر، ہر پہلو پر غور کر کے ہی زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کیا۔ نصیحتوں کی پوٹلی وعدے کے ساتھ نبھانے کو کہا، مگر بہت سی نادان لڑکیاں نہیں سمجھتیں۔ کبھی تو راہ پر چلتے ہوشیار بازوں کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں، تو کبھی دفتروں میں ترقی کے سہانے خوابوں کے پیچھے پشیمانی اٹھاتی ہیں۔ نادان عمر میں اندھی محبت کے کچے سپنوں کو عمر بھر کا سہارا سمجھ کر اپنی ذات کو ریت کے ریگزاروں کے سپرد کردیتی ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتیں، یہ سب ماں باپ کے لیے کتنا درد ناک ہوگا۔ جب وقت کا پہیا سِرکتا ہے تو غلطیوں کا گہرا احساس ندامت بن کر بہت ستاتا ہے۔
فرماں بردار بیٹیاں پیار سے بھرپور نصیحتوں کو اپنے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا کر اس کے سہارے آگے بڑھتی رہتی ہیں اور دنیا میں بھی کام یابی سمیٹتی ہیں اور والدین کی نظروں میں بھی سرخرو رہتی ہیں۔ وہ یہ سوچتی ہیں کہ میری ترقی میرے  والدین کی عزت و نیک نامی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ مجھے اُن کے وقار کو برقرار رکھنا ہے۔ یہی چیز مجھے تعلیم سے درست معنوں سے روشناس کرائے گی او ر میں اپنے وقار اور کردار کو مضبوط رکھ کر ہی معاشرے کی بھٹکتی نگاہوں کا مقابلہ کر سکوں گی۔ مستقبل کی خوشیوں کی ضامن اس کی ناپختہ سوچ نہیں بلکہ والدین کی دعا ئیں ہی بنیں گی۔

Tuesday, 12 May 2015

Suicide Ka Khatarnaak Rujhaan.....خودکشی کا خطرناک رجحان

دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرتا ہے۔ پاکستان میں خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی خواتین میں خودکشی کی شرح زیادہ ہے۔ عالمی ادارئہ صحت W.H.O نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امیر مرد زیادہ خودکشیاں کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زہریلے مواد تک رسائی کو روکنے اور اسلحے کے استعمال پر پابندیوں سے خودکشی کی شرح کم کی جاسکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ دماغی امراض میں مبتلا افراد ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتے، یوں ان کے دماغ میں موجود خودکشی کے جراثیم موثر ہوجاتے ہیں۔ صحت کا عالمی تنظیم نے ذرایع ابلاغ پر تنقید کی ہے کہ مشہور رہنماؤں اور اداکاروں وغیرہ کی خودکشی کی خبروں کو پیش کرکے ذہنی بیمار لوگوں کو مزید بیمارکیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ اسلام میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے مگر مذہبی پابندی کے باوجود خودکشی کی شرح میں اضافہ معاشرے کی کمزوریوں کو عیاں کرتا ہے۔ طبی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شاہد اقبال نے ذہنی امراض پر کافی تحقیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کے مرض کا تعلق معاشرے کی ساخت سے منسلک ہے۔
عمومی طور پر لوگ گھریلو پریشانیوں خاص طور پر محبت میں ناکامی اور معاشی وجوہات اور سماجی ناانصافیوں کی بناء پر خودکشی کرتے ہیں۔ ماحولیات و ریاست کے سیاسی ومعاشی بحران لوگوں میں فرسٹریشن پیدا کرتے ہیں۔ یہ فرسٹریشن ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد اقبال کا کہنا ہے کہ بعض افراد کے خاندان میں خودکشی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ وہ وراثت میں ملے ہوئے جراثیم کی بناء پر خودکشی کرتے ہیں مگر ایسے افراد کی شرح کم ہے۔ مگر غربت کی بڑھتی ہوئی شرح لوگوں کو اپنی زندگیوں کو کم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ خواتین شادی شدہ زندگی کی ناکامی،غریبی،عزیزوں کی بدسلوکی اور مجرمانہ حملوں سے فرسٹریٹ ہو کر بھی خودکشی پر مجبور ہوتی ہیں اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب پولیس اور عدالتیں ان خواتین کی دادرسی نہیں کرتیں۔ یوں سڑکوں پر خواتین کے خود کو آگ لگا کر ہلاک کرنے کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔
ذہنی بیماریوں کے علاج کا معاملہ فرسودہ سماجی روایات کی نظر ہوجاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں لوگ پیروں اور مزاروں پر جا کر علاج کرانے کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق 2020تک پاکستان میں ڈپریشن کی شرح بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور موجودہ صورتحال میں ذہنی امراض کے لیے دواؤں کے استعمال کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ جنوبی ایشا میں ذہنی امراض خصوصاً ڈپریشن اور تشویش کا رجحان خصوصاً پاکستان اور انڈیا میں بتدریج بڑھ رہا ہے۔ڈاکٹر شاہد اقبال کا کہنا ہے کہ ملک کے بڑے اسپتالوں میں ذہنی امراض کے ڈاکٹر وں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور صوبہ پنجاب کے چند اسپتالوں کے علاوہ ملک بھر میں ماہرِ نفسیات کا تقرر کا رواج نہیں ہے۔
یوں مریضوں کی سائیکو تھراپی اورکونسلنگ کی سہولتیں موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح ملک میں مینٹل ہیلتھ آرڈیننس موجود ہے مگر اس میں ماہرِ نفسیات کا کردار ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ لوگ سیاسی اور معاشی حالات سے پریشان ہو کر خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیات کی بنا ء پر بھی امراض بڑھ رہے ہیں۔ ماحولیات سے مراد فضاء میں بڑھتا ہوا شور، فضائی اور زمینی آلودگی شامل ہے۔ مخصوص ممالک میں ہارن بھی انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں بجایا جاتا ہے۔ عمومی طور پر ڈرائیور ہارن بجانے سے گریز کرتے ہیں۔ جرمنی کے شہر کولون میں مقیم پاکستانی طالب علم عرباض احمد خان کا کہنا ہے کہ کولون میں ایک سال کے قیام کے دوران صرف اس دن ہارن کی آواز سنائی دی جب جرمنی نے فٹ بال کا عالمی مقابلہ جیتا تھا۔ پاکستان میں مذہبی عبادت گاہوں اور گاڑیوں سے آنے والی آوازوں اور شور سے ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی زندگیوں کو مزید خراب کررہا ہے۔
برسرِ اقتدار حکومتوں کے دعوؤں کے باوجود غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ، امن و امان کی صورتحال، زرعی اور صنعتی ترقی کی راہ میں بڑھتی رکاوٹیں لوگوں کو فرسٹریشن کے علاوہ کچھ نہیں دے پا رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کا بچوں سمیت نہروں میں ڈوب پر خود کو ہلاک کرنا، سارے خاندان کو زہریلی اشیاء کھلانے اور ریلوے لائن پر ٹرین کے نیچے خود کو ہلاک کرنے کی خبریں ہر روز ذرایع ابلاغ کی زینت بنتی ہیں۔ اخبارات پر تحقیق کرنے والے بعض محققین کا کہنا ہے کہ 80 کی دھائی تک معاشی مسائل کی بناء پر خودکشی کی خبریں کبھی اخبارات میں نظر نہیں آتی تھیں  مگر اب گزشتہ 30 برسوں سے اسی طرح کی خبریں پڑھنے کو عام ملتی ہیں اور ٹی وی چینلز ان خبروں کو نشر کرتے ہیں۔ ایسے موقعے پر انسانی حقوق کے ماہرین اور ماہرینِ سماجیات ان خودکشیوں کی وجوہات بیان کرتے ہیں مگر ریاستی اداروں کی بے حسی برقرار رہتی ہے۔ سیاسی نظام میں بحران بھی لوگوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
گزشتہ ماہ سے شروع ہونے والے دھرنوں نے لوگوں کو ذہنی طور پر ایک عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ٹی وی چینلز 24 گھنٹے سیاسی رہنماؤں کی تقاریر براہِ راست دکھا رہے ہیں۔ روزانہ تبدیلی کی نوید دی جاتی ہے۔ ایک مذہبی رہنما اپنی شہادت کا پیشگی اعلان کرتے ہیں، کفن لہرائے جاتے ہیں اور قبریں کھودی جاتی ہیں مگر حکومت کا سلسلہ دراز رہتا ہے ۔ مگر ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ عام آدمی سیاسی رہنماؤں کی تقاریر سے متاثر ہوتا ہے۔ بچے اور نوجوان ان رہنماؤں میں اپنا آئیڈیل تلاش کرتے ہیں مگر پھر فرسٹریشن بڑھتی ہے۔ یوں عام آدمی ڈپریشن کا شکار ہورہا ہے۔
بعض ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر تیسرا شخص ذہنی امراض کا شکار ہے۔ ملک میں اعصابی تناؤ ختم کرنے اور سکون آور ادویات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان ہی دوائیوں کو استعمال کرنے والے کسی وقت بھی خودکشی کرسکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک خطرناک علامت ہے۔ خودکشی پر آمادہ لوگوں کی کؤنسلنگ ہوسکتی ہے، یوں مرض میں روک تھام ممکن ہے مگر سماجی اور معاشی حالات اور سماجی انصاف نہ ہونے سے لوگوں کے پاس موت کو گلے لگانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیںہے۔ زندگی ایک دفعہ ملتی ہے اس کو بہتر بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کرنی چاہئیں۔

Ghalat Fehmi......غلط فہمی

جو آدمی غریب سے امیر ہوا ہوتا ہے اسے ایک خوف ہوتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں اس سے یہ سب کچھ چھن نہ جائے۔ اسے غربت کا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ترستا تھا۔ وہ واپس اس دنیا میں نہیں جانا چاہتا جس سے نکلنے کے لیے اس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے تھے۔ وہ کلاس بدل جانے پر تو خوش ہوتا ہے لیکن واپس نچلے درجے میں آنے کے خیال ہی سے سہم جاتا ہے۔ وہ تدبیریں کرتا ہے کہ کسی طرح یہ مال و دولت زیادہ سے زیادہ عرصہ اس کے پاس رہے۔ چھن جانے کا ڈر ایک غلط فہمی ہے۔
اگر قدرت کے اشارے کو سمجھا جائے تو خوف کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر غریب سے امیر ہونے والوں کے دلوں کو جھانکا جائے تو وہ خواہ مخواہ اندیشے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اگر وہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیں تو انھیں مشاہدے کی دنیا کی سیر کرواتے ہیں۔ اگر وہ رئیس سے فقیر ہونے والوں کی تاریخ دیکھیں تو اطمینان محسوس کریں گے۔ وہ جانیں گے کہ خالق کائنات خوشحالی کی سیڑھی پر قدم رکھنے والی پہلی نسل کو کچھ رعایت دیتے ہیں۔
قدرت اس آدمی سے دولت نہیں چھینتی جس نے بچپن میں غربت دیکھی ہو۔ اگر وہ دنیا میں ’’رب‘‘ بننے کی کوشش نہ کرے تو۔ شدید فضول خرچی سے بچ جائے تو وہ دوبارہ مفلس ہونے سے بچ سکتا ہے۔ ’’نو دولتیے‘‘ کا لفظ ایک طعنہ ہے اس امیر کے لیے جو غریب باپ کا بیٹا ہو۔ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے باوجود یہ لفظ اس کے دل پر چبھتا ہے۔ یقین جانیں یہ لفظ ایک گارنٹی ہے کہ آپ کی آخری سانس تک جو کچھ آپ کے پاس آگیا ہے وہ چھینا نہیں جائے گا۔ بچپن میں غربت کے دکھ جھیلنے والے اور ادھیڑ عمری تک آتے آتے خوشحال ہونے والے کا بڑھاپا عموماً محفوظ ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک انشورنس پالیسی ہے۔ غربت میں محرومی کا پریمیم ادا کرنے والے کے لیے یہ ایک عمدہ پالیسی ہے۔ دو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے والے دولتیے کو پرسکون رہنا چاہیے۔
جوانی میں دولت مند مائیک ٹائی سن جیسے لوگ بچپن کے بعد بڑھاپے میں غریبی کا دکھ کیوں جھیلتے ہیں؟ اس کا سبب ان کی بے تحاشا فضول خرچی اور زمین پر فرعون بننے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہ دو حفاظتی تدابیر اختیار کرکے پرسکون بڑھاپا گزارا جاسکتا ہے۔ رئیسانہ انداز سے غربت اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے مفلسی میں جاتے اکثر وہ لوگ دیکھے گئے ہیں جو پیدائشی امیر ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کا سوچیں تو یہ جملہ ان لوگوں کے لیے ایک جھٹکا ہے جو کنگلے سے کروڑ پتی ہوئے ہیں۔ مختصراً یوں سمجھیں کہ گارنٹی ان کے لیے ہے جنھوں نے بچپن میں غربت دیکھی ہو۔ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والی دوسری نسل کی کوئی گارنٹی نہیں۔ آئیے بات کو ذرا آگے بڑھاتے ہیں۔
نیا نیا امیر صرف دولت کے بارے میں ہی فکرمند کیوں ہوتا ہے؟ وہ جانتا ہے کہ شہرت ہمیشہ نہیں رہے گی، عزت بھی اس وقت تک ہوگی جب تک ہنر کی قدر ہوگی اور صحت بھی گرتی رہے گی۔ عزت، شہرت اور صحت میں وقت کے ساتھ کمی گوارا کرنیوالا دولت میں کمی پر رضامند نہیں ہوتا کیوں؟ اس لیے کہ وہ مال و دولت اپنی آنیوالی نسل کو منتقل کرنا چاہتا ہے اسی لیے وہ باقی تین چیزوں پر کمپرومائز کو تیار ہوجاتا ہے۔ انسان موت کو بھی ہنسی خوشی گلے لگا سکتا ہے اگر دولت اس کے بچوں تک باقی رہے۔ ہم کہہ چکے ہیں اور دیکھنے میں بھی یہی آیا ہے کہ خوشحال ہونے والی پہلی نسل سے دولت نہیں چھینی جاتی۔ ’’تم محفوظ ہو لیکن بچوں کی کوئی گارنٹی نہیں۔‘‘ یہ قدرت کا اشارہ ہے۔
آپ کہیں گے کہ ہم نے نسل در نسل کے امیر دیکھے ہیں۔ ہم کہیں گے دیکھے ہوں گے لیکن بتائیے کہ بڑی بڑی مشہور کمپنیاں اس کنبے کے بانی کے خاندان کے پاس ہیں؟ بائیس خاندان کہاں گئے جن کی ایوب دور میں بڑی شہرت تھی؟ مشہور کھلاڑیوں اور فنکاروں کے بیٹے تمام تر کوششوں کے باوجود کیوں ناکام رہے ؟ گاندھی، لیاقت، جوہر، نشتر کے بیٹوں کو وہ مواقع نہ ملے جو انھیں ملے تھے۔ حنیف محمد، آصف اقبال، مشتاق محمد، جاوید میانداد کا کوئی بیٹا بڑا کرکٹر نہیں۔ سلطان راہی، وحید مراد، رنگیلا، کمال کے بیٹے فلمی صنعت میں ناکام رہے۔ غربت کے اندھیرے چیر کر عزت دولت اور شہرت حاصل کرنے والوں کی اگلی نسل گمنامی کے غار میں دکھائی دیتی ہے۔
اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والا اگر اپنی اولاد میں چار خوبیاں دیکھے تو سمجھ جائے کہ سلسلہ دراز ہوگا۔ اگر یہ خصوصیات آنے والی نسل میں نہ دیکھے تو جان لے کہ قدرت کی دراز رسی جلد کھینچ لی جائے گی۔ اس کی آخری سانسوں تک قدرت لحاظ کر جائے لیکن اولاد کو زیادہ مہلت عمل نہ ملے گی۔ پہلی خوبی ذہانت ہے۔ کھیل، فن، قلم کاری اور سیاست کے لیے زیادہ ذہانت درکار ہوتی ہے۔
تجارت ہو تو زیادہ ہوشیاری درکار نہیں ہوتی کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے لیکن کم کم۔ لگاتار تین کامیاب نسلوں کی مثالیں اکا دکا ہی ہیں۔ علامہ اقبال، جاوید اقبال اور ولید اقبال کے علاوہ سرسید، جسٹس محمود اور سر راس مسعود۔ ایسی کامیابیوں کے لیے آنے والی نسل کا سخی ہونا لازمی ہے۔ غریب سے امیر ہونے والے کی سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والی اولاد اگر دولت پر سانپ بن کر بیٹھ جائے تو خوشحالی زیادہ دیر نہیں رہتی۔ تجوری کھولنے، بٹوہ نکالنے اور چیک بک پر فلاحی کام کے لیے دستخط کرنے میں منہ بنایا جائے تو قدرت منہ کے بل گرا دیتی ہے۔
جھونپڑے سے کوٹھی کا سفر اچھا لگتا ہے لیکن جب کوارٹر میں پیدا ہونیوالے کا جنازہ بنگلے سے نکلتا ہے تو اولاد جائیداد کے لیے لڑتی دیکھی گئی ہے۔ عزت، دولت اور صحت قربان کرکے دولت بچانے والا چاہتا ہے کہ اولاد عدالت کی سیڑھیاں نہ چڑھے تو وہ انصاف کا دامن تھام لے۔ بچوں میں اتفاق چاہے تو جان لے کہ دن بہ دن عمر کی نقدی ختم ہو رہی ہے۔ ایک سے دوسری دکان اور تیسری سے چوتھی فیکٹری یا پانچویں سے چھٹے گھر کی طرف نہ بڑھے۔ کیش رقم اپنے قبضے میں رکھے اور بیٹیوں کے لیے بھی وراثت کی ادائیگی کا ذہن بنائے۔ اس وقت جب جسم و ذہن میں طاقت ہو اور پیسہ اپنے کنٹرول میں ہو۔ یہ سب کچھ خاندانی شخص کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے لیکن آج ہم اس شخص کی بات کر رہے ہیں جسے اچھے لفظوں میں اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والا اور طنزیہ طور پر نو دولتیا کہا جاتا ہے۔
اوپری کلاس میں آنے والا نیچے جانے سے ڈرتا ہے۔ کیا واقعی وہ اپنے مفلس ہونے سے ڈرتا ہے؟ وہ ظاہر تو یہی کرتا ہے۔ اصل خواہش یہ ہوتی ہے کہ یہ مال و دولت، یہ شہرت و عزت یہ ٹھاٹھ باٹھ اس کی نسل در نسل چلتا رہے۔ اس کا پہلا مرحلہ اپنے بڑھاپے بلکہ آخری سانس تک دولت کی ریل پیل دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کے حوالے سے خوف میں مبتلا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ تادیر رہے گا؟ ذہانت و سخاوت اور اتفاق نہ دیکھنے پر وہ اپنے حوالے سے سوچنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کہیں مجھ سے ہی یہ نہ چھن جائے۔ یہ ہوتی ہے اس کی غلط فہمی۔ وہ دونوں حوالے سے غلط سوچتا ہے۔ اولاد کے حوالے سے سات نسلوں تک اسے لاحق ہوتی ہے خوش فہمی اور اپنے بارے میں ہوتی ہے غلط فہمی۔ نہ اس کی خوش فہمی سچی ہوتی ہے اور نہ غلط فہمی۔

Us Nay Suicide Kar liya..... اور اس نے خودکشی کرلی

سنو لڑکی
ابھی تم عشق مت کرنا
ابھی گڑیا سے کھیلو تم
تمہاری عمر ہی کیا ہے
فقط سترہ برس کی ہو
ابھی معصوم بچی ہو
ابھی تم عشق مت کرنا
فریحہ اور زوہیب کے درمیان سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ دونوں کے گھر والوں نے بچوں کی خوشی کے خاطر ان کی منگنی بھی کردی اور پھر یہ سلسلہ پانچ سال تک رہا۔ لیکن اچانک فریحہ کے گھر والوں کے سر پر ایک نئی ضد سوار ہوگئی، وہ اس کی شادی بیرون ملک کسی اچھے خاندان میں کرنا چاہتے تھے۔ یہ سنتے ہی فریحہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
فریحہ نے اپنی زندگی کے پانچ سالوں میں زوہیب کے ساتھ ڈھیروں خواب سجائے تھے، لیکن گھر والوں کے اچانک اور بے جا فیصلہ کے آگے فریحہ سوچنے پر مجبور ہوگئی۔
یونیورسٹی کی وہ شام بڑی عجیب تھی۔ فریحہ اور اس کی دوستیں کینٹین میں کھڑی شام کی رنگینیوں سے محظوظ ہورہی تھیں کہ اچانک وہاں سے زوہیب اور اس کے دوستوں کا ٹولہ گزرا۔ زوہیب کے ایک دوست نے مزاق میں ایک بات فریحہ کی دوست کو کہہ دی تھی، بس پھر کیا تھا، دونوں جانب سے جملوں کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
اتفاق سے فریحہ اور زوہیب ہی اپنے گروپس کے لیڈر تھے، ان کے بروقت سمجھانے پر یہ معاملہ رفع دفع ہوگیا تھا۔ لیکن اس دن کے بعد اکثر زوہیب اور فریحہ کی چلتے پھرتے ملاقات ہو جایا کرتی۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ اب پیار میں تبدیل ہو چکا تھا۔ پڑھائی مکمل ہوتے ہی زوہیب نے ملازمت شروع کردی، ساتھ ہی فریحہ نے بھی اسکول میں پڑھانا شروع کردیا تھا ۔ دونوں نے اپنے گھر والوں کو اپنی پسند سے آ گاہ کیا اور گھر والوں نے رشتے کو بہتر جانتے ہوئے دونوں کی منگنی کردی اور یوں دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مستقبل کے خواب بُنتے ہوئے 5 سال کا عرصہ گزار دیا۔
فریحہ بڑی حساس طبیعت کی مالک تھی۔ اُس نے ہمیشہ خود سے جڑی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خود سے زیادہ پرواہ کی۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے بچپن میں اپنے ایک طوطے کے مرجانے پر پورا ہفتہ کھانا نہیں کھایا تھا۔ اپنی یونیورسٹی کی کلاس میں بیٹھی وہ اکثر کاپیوں پر تصویریں بنایا کرتی تھی۔ اس کا خواب تھا کہ کوئی اس کا بے انتہا خیال رکھے اور کبھی اس کا دل نا دکھائے۔ فریحہ چونکہ اکلوتی اور والد کی لاڈلی تھی اسی وجہ سے اپنی ہر بات ان سے ہی شیئر کیا کرتی تھی۔
اسی دوران فریحہ کے دور کے رشتہ دار جو آسٹریلیا میں مقیم تھے، انہوں نے  اچانک فریحہ کے لئے رشتہ بھیج دیا تھا۔ حالانکہ وہ یہ جانتے تھے کہ فریحہ منگنی کے بندھن میں بندھ چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کے جب والدہ نے فریحہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی، جب اُس نے والد سے بات کرنا چاہی تو معلوم ہوا کہ والد کی رائے بھی اس فیصلے میں شامل ہے۔ اب اُسے اپنا آپ اکیلا محسوس ہونے لگا، وہ کس سے کیا کہتی، یہاں تو کوئی بھی اس کا ہمدرد نہ تھا۔
اگلی صبح فریحہ کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ والدہ غم سے نڈھال زور زور سے کہی رہی تھیں کہ میری بیٹی بس ایک بار آنکھیں کھول لو، پھر جس سے چاہوگی اس سے شادی کرادوں گی۔
یقیناً والدین اپنے بچوں کی بھلائی اور فلاح کے بارے میں ہی سوچتے ہیں، لیکن فریحہ کے والدین نے خود ہی اپنی بیٹی کی آنکھوں میں خواب سجا کر روند ڈالے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ فریحہ کی کہانی بناوٹی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اس کی خود کشی کا ذمہ دار اس کے والدین ہی ٹہرتے ہیں کیونکہ اُس کے والدین اُس کی حساس طبیعت سے اچھی طرح واقف تھے۔ ایسے میں اپنے ہاتھوں سے اسے دی ہوئی قیمتی چیز اس سے چھین لینا ہی اس کی موت کی وجہ بنا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود کشی ہی تمام مسائل کا حل ہے ؟
کیا اس کے علاوہ کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی جاسکتی تھی ؟
کیا اپنے دلائل سے سامنے والے شخص کو زیر نہیں کیا جاسکتا تھا ؟
تمام سوال ہمیشہ سے ایک ہی ہیں، بس جواب تبدیل ہوجاتے ہیں ۔
ناامیدی اور امید ایک ساتھ جڑے دو راستے ہیں، جس میں سے امید کا انتخاب خدا کے وہ بندے کرتے ہیں جنہیں اس پر بھروسہ ہوتا ہے۔ زندگی کا سفر چاہے کتنا ہی دشوار ہو، ان کی آخرت سنور جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ناامیدی میں خودکشی کا حرام راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ نا تو زندگی کو صحیح طور گزار پاتے ہیں بلکہ اپنی آ خرت بھی تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔
ان معمولی پیار،عشق اور محبت کی باتوں کو سر پر سوار کرکے زندگی کے مقصد کو بھلا دینا سب سے بڑی ناکامی ہے۔
زندگی خدا کا دیا ہو انمول تحفہ ہے جس کی قدر نا کرنا، خدا کی قدرت سے منحرف ہونا ہے۔ مندرجہ بالہ کہانی کا مقصد کسی کی دل آزاری اور خود کی سوچ کو آپ پر مسلط کرنا ہرگز نہیں ہے۔ میری تو والدین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی خوشیوں کا خیال رکھیں اور ان کے فیصلے کا احترام کریں، ورنہ فریحہ کی طرح نجانے کتنی حساس لڑکیاں اسی طرح اپنی زندگی کا خاتمہ کرتی رہیں گی۔

Monday, 11 May 2015

Paisa Aur Piyar / Money And Love..... پیسہ اور پیار

پارک میں ایک وکیل صاحب ملے تو ایک مقدمہ یاد آگیا۔ ہم لڑکے والے تھے اور وہ لڑکی والے، خلع کا مقدمہ ہمارے موکل کے خلاف داخل ہوا تھا۔ نکاح ہوچکا تھا لیکن رخصتی نہ ہوئی تھی۔ لڑکا چارٹرڈ اکائونٹنٹ بن رہا تھا جو ایک مشکل امتحان ہوتاہے۔ فیملی مقدمات میں جواب دعویٰ داخل ہونے کے بعد جج کے رو برو دونوں پیش ہوتے ہیں۔ صرف دونوں یعنی لڑکا اور لڑکی۔ نہ ماں باپ نہ بھائی بہن اور نہ  وکلاء۔ جج صاحب یا صاحبہ دونوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پچھلی صدی تک اگر مصالحت کامیاب نہ ہو تو معاملہ گواہی پر چلا جاتا تھا اب ترمیم کے بعد اگر بیوی اپنا گھر بسانے پر راضی نہ ہو تو فوراً خلع کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے۔ بیوی کو شوہر کی جانب سے لیا گیا حق مہر واپس کرنا ہوتا ہے۔ چوںکہ یہ بیسویں صدی کی بات ہے لہٰذا معاملہ کچھ طول پکڑ گیا۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ ہماری منگنی تین سال رہی اور اب نکاح کو دوسال گزرچکے ہیں۔ چوںکہ میرا صرف نکاح ہوا ہے اور رخصتی نہیں ہوئی اب نہ جانے کب یہ امتحان پاس کرے؟ ہمارا موکل اپنی پوری توجہ پڑھائی کی جانب دے رہا تھا۔

اگر وہ کوئی ملازمت کرلیتا تو کچھ نہ کچھ کماتا۔ لڑکی کے والد اور بھائی کا کہنا تھا کہ ہم ایسے لڑکے کے حوالے اپنی بیٹی کیسے کردیں جس کے مستقبل کا کوئی پتہ ہی نہیں؟ لڑکے نے مجھے بتایا کہ اس کے چند پرچے رہ گئے ہیں۔ وہ کامیاب ہوگیا تو اچھی کمپنی میں عمدہ تنخواہ اور سہولتوں کے ساتھ اس کی آئو بھگت ہوگی۔ سی اے کرنے والوں کو یہ مراعات اس لیے ملتی ہیں کہ انھیں بیلنس شیٹ کو منظور کرنے کا اختیار ہوتا تھا۔ ڈائریکٹرزگھپلے کرتے ہیں اور شیئرز ہولڈز کے کروڑوں روپے جیب میں رکھ لیتے ہیں۔ یہ ہمارا موضوع نہیں اس لیے ہم مقدمے کی طرف آتے ہیں۔ جب جج صاحبہ نے دونوں کو سمجھایا تو لڑکے کی دلیل تھی کہ چند ماہ کی بات ہے۔ آخری امتحان میں کامیابی کے بعد اس کی تنگ دستی دور ہوجائے گی اور فراوانی دروازے کھول دے گی۔ لڑکی مزید انتظار کو تیار نہ تھی اور مقدمہ گواہی پر آگیا۔

بیوی نے اپنے بیان میں شوہر پر کنجوسی کا الزام لگایا۔ متوسط طبقے کا 30سال کی عمر تک صرف پڑھائی کرنے والا اور ماں باپ پر انحصار کرنے والا شخص کہاں سے قیمتی تحفے لاتا۔ لڑکی کی گواہی کے بعد ہماری باری تھی۔ ایک دن لڑکے کا فون آیا کہ اس نے آخری پرچہ پاس کرلیا ہے اور اب وہ ایک کوالیفائیڈ اکائونٹنٹ ہے۔ یہ بات خاندان میں پھیل گئی۔ اب اگلی تاریخ پر لڑکی والوں کا رویہ بدل گیا تھا۔ اس کی فرم کے علاوہ لڑکے کو کئی کمپنیوں میں ملازمت کرنے کے مواقعے حاصل ہوگئے تھے۔ لڑکی نے خلع کا مقدمہ واپس لے لیا۔ رخصتی بھی ہوئی اور ولیمہ بھی۔ دعوتوں میں خاتون کے وہ وکیل صاحب بھی شریک تھے جو پارک میں ملے۔ اس ہم پیشہ ور نئے پڑوسی کو دیکھ کر پورا مقدمہ پھر یاد آگیا اور یہ سوال بھی کہ پیار کیا ہوتا ہے اور پیسہ اس کے لیے کتنا اہم ہوتاہے؟ صرف ہماری زندگیوں میں یا کرکٹ کے میدانوں میں بھی؟

کالج کے زمانے میں انگریزی بہتر بنانے کے لیے ایک ادارے میں داخلہ لیا۔ مسز ولیم ٹیچر تھیں اور پیسے کی اہمیت پر گفتگو ہورہی تھی۔ انھوںنے تعریف پوچھی تو بتایا کہ پرچیزنگ پاور، کوئی چیز کتنی مہنگی یا سستی ہے؟ سوال یہ نہیں ہوتا۔ اصل سوال ہوتاہے کہ آپ کی جیب میں رقم کتنی ہے؟ جتنی زیادہ جیب بھری ہوگی اس کا مطلب ہے کہ آپ کی قوت خرید اتنی ہی زیادہ ہے۔ اب کلاس میں گفتگو شروع ہوئی۔ چند طالب علموں کی رائے تھی کہ پیسہ سب کچھ ہوتاہے۔ کچھ کا کہناہے کہ پیسہ کچھ نہیں ہوتا۔ بظاہر جی ہاں بظاہر دونوں طرف کے دلائل زوردار تھے۔ جب لوگ بات کررہے تھے وہ بھی مطمئن نہ تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سو فیصد درست ہے۔ چند منٹوں بعد طے ہوا کہ پیسہ سب کچھ نہیں اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ حتمی طور پر طالب علموں نے طے کیا کہ اسے کچھ نہ کچھ یا Something کہا جاسکتا ہے۔

’’عدلیہ تاریخ کے کٹہرے میں‘‘ نامی کتاب 2003 میں شایع ہوئی تھی۔ یہ وہ کالم تھے جو عدلیہ سے متعلق تھے اور ’’ایکسپریس‘‘ میں شایع ہوچکے تھے۔ ’’پسند کی شادی اور عدالتیں‘‘ والا کالم جھوٹ اور چاندی کی دیوار کی کشمکش لیے ہوئے تھا۔ ایک صاحب کسی جاننے والے کی معرفت اپنی بیٹی کے ساتھ دفتر میں آئے اور کہاکہ اس نے اپنی پسند سے گھر کے سامنے دکان پر کام کرنے والے لڑکے سے شادی کرلی ہے۔ لڑکی سے پوچھا کہ اب کیا چاہتی ہو تو اس نے کہاکہ میں خلع چاہتی ہوں۔ لڑکے نے لڑکی کو سبز باغ دکھائے تھے کہ گائوں میں اس کی زمینیں ہیں۔ باپ اپنے ساتھیوں کی مدد سے پسند کی شادی کرنے والی بیٹی کو گھر واپس لے آیا تھا۔ خلع کا مقدمہ داخل ہوا۔ اب ہم لڑکی والے تھے۔ ڈر تھا کہ سماعت سے پہلے عدالت کی مصالحتی کوشش کے دوران جب جج صاحبہ دونوں کو سمجھائیںگی تو لڑکی واپس نہ چلی جائے۔ لڑکی کے والد نے میری رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہاکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ لڑکی کو دفتر کے باہر انتظار گاہ سے بلواکر اس کے والد کے سامنے کہاکہ دیکھو اگر تم اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہو تو ابھی سے بتادو۔

ایسا نہ ہو کہ کل عدالت میں تمہارے والد کو عجیب و غریب صورت حال کا سامنا کرنا پڑے۔ لڑکی نے کہا وکیل صاحب آپ اطمینان رکھیں۔ میں دوسری مرتبہ غلطی نہیں کروںگی۔ فیملی جج کوثر سلطانہ صاحبہ نے ایک مرحلے پر لڑکی سے پوچھا کہ تم نے پہلے پسند کی شادی کی ہے اب علیحدگی کیوں چاہتی ہو؟ لڑکی نے جواب دیا کہ میرا شوہر غریب ہے۔ اس نے کہا تھا کہ گائوں میں اس کی زمینیں ہیں اور وہ گھر والوں سے ناراض ہوکر شہر میں آیا ہے۔ جج صاحبہ چیمبر سے عدالت میں آئیں اور مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ وکیل صاحب! بیوی تو شوہر کی غربت کی وجہ سے خلع چاہتی ہے، بتایا گیا کہ دنیا کا کوئی قانون عورت کو اس کی پسند اور مرضی سے ہٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ شوہر نے مقدمہ دائر کرنے کے بعد دلچسپی نہیں لی۔ جس رشتے کی بنیاد جھوٹ پر رکھی گئی ہو وہ کس طرح تادیر قائم رہ سکتاہے۔ اب اگر لڑکا فرار کے راستے پر ہے اور لڑکی غربت کی پگڈنڈی پر نہیں چلنا چاہتی تو کوئی کیا کرسکتاہے؟

پیسہ کتنا اہم ہوتاہے کسی بھی پیار میں؟ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ ایک محاورہ ہے کہ ’’باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیا‘‘ ہوسکتا ہے کہ کوئی اپنے والد اور بھائی سے زیادہ اہمیت پیسے کو دیتا ہو۔ ماں کے بارے میں کہا جاتاہے کہ اس کا پیار بڑا خالص ہوتا ہے اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا کہ اگر کہیں سچے پیار کی جھلک دیکھنی ہو تو ماں کے پیار میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ہمارے وکیل دوست مسٹر این افضال خان اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماں بھی اس بیٹے کو پسند کرتی ہے جو کمائو پوت ہو۔ جب کرکٹر محمد عامر پر پابندی لگی تو ان کی والدہ کا انٹرویو ٹی وی پر دیکھا گیا۔ اس بھولی ماں کا کہنا تھا کہ ’’میرا عامر ہی میرا عامر ہے‘‘ اب اسے سب سے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے کی محبت کہا جاسکتا ہے یا عامر نے ایک دو سال میں اتنا کمالیا تھا جو شاید اس ماں کے دوسرے بیٹے زندگی بھر بھی نہیں کماسکتے۔ اس حوالے سے افضال صاحب اپنی رائے پر قائم ہیں۔

پیسے کی زندگی میں اہمیت اس طرح ہے کہ اکثر کاروباری حضرات ہر چیز کو پیسے میں تولتے ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ والد صاحب کی طبیعت کیسی ہے؟ جواب دیںگے کہ شکر ہے بہتر ہے۔ پہلے آٹھ آنے ٹھیک تھی اب بارہ آنے صحیح ہوگئی ہے۔ فن کی دنیا میں بھی پیسہ بولتاہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ فنکار اتنے لاکھ روپے ایک فلم کے لیتاہے، اب کہا جاتاہے کہ اتنے کروڑ لیتاہے۔ اب صورت حال مزید بدل گئی ہے۔ ایک معاملے میں ہم نے روپوں کی اہمیت کو مزید بڑھادیا ہے۔ پہلے فلمیں  جوبلیاں مناتی تھیں۔ کراچی اور لاہور میں اچھی اور بڑی فلم اٹھارہ بیس سینمائوں میں ریلیز ہوتی۔ نوجوان دیکھتے کہ اب دوسرے ہفتے میں فلم کتنے سینمائوں میں رہ گئی ہے اس تعداد سے فلم کی کامیابی کا اندازہ ہوتا۔ دوسرے ہفتے میں چھ سات سینمائوں میں رہ جانے والی فلم سلور جوبلی کرلیتی۔ پھر گولڈن جوبلی، مسلسل کئی ماہ تک کئی سینمائوں پر چلنے والی فلم پلاٹینیم اور پھر ڈائمنڈ جوبلی کی جانب بڑھتی۔ یہ ہوتا تھا کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ۔ ندیم اور شبنم کی فلم ’’آئینہ‘‘ نے پانچ سو ہفتے مکمل کیے۔ اس طرح بابرا شریف اور غلام محی الدین کی فلم ’’میرا نام ہے محبت‘‘ چین میں کئی سال تک شائقین کی توجہ کا مرکز رہی۔ پہلے بالی وڈ میں بھی فلمی کامیابی کو جوبلیوں یا وقت کے فیتے سے ناپا جاتاتھا۔ اب یہ پیمانہ بدل چکا ہے۔ اس پیمائش نے روپے پیسے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اب کہا جاتاہے کہ فلم نے اتنے دنوں میں اتنے سو کروڑ کمائے ہیں۔ کم رقم کمانے والی فلم کو کرنسی کی مقدار سے ناکام بتایا جاتا ہے۔ اب کلب بن گئے ہیں اتنے سو کروڑ کمانے والی فلموں کے۔ کالم کے اختتام تک کیا آپ فیصلہ کرسکے ہیں کہ کون بڑا ہے؟ پیسہ یا پیار؟

Meri Adhuri Muhabat.....میری ادھوری محبت

بھارتی اداکار عامر خان کی ایک فلم گجنی کی ادھوری محبت پر کافی اعتراضات ہوئے کہ فلم کے کلائمکس میں عامر خان نے فلم کہانی میں ہیروئین کو اپنی اصل حقیقت کیوں نہیں بتائی کہ وہ غریب نہیں بلکہ بہت امیر کبیر بزنس ٹائیکون ہے۔ عامر خان نے فلم کا سیکوئل بنانے سے بھی انکار کر دیا کہ وہ ’گجنی‘ فلم کا دوسرا حصہ نہیں بنائے گا۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ میں بھی کسی ایسی محبت کی ادھوری کہانی کے ذکر کروں گا تو ایسی کوئی بات نہیں ہے، محبت ایک بار ہوتی ہے اور آخری بار ہوتی ہے کیونکہ اس کے بعد انسان محبت کرنے کے قابل نہیں رہ جاتا بلکہ اپنے پیچھے بہت سارے محبت کرنے والے چھوڑ جاتا ہے اگر اس نے اپنے کھاتے میں کوئی بینک بیلنس نہیں چھوڑا تو پھر چہلم بھی چندہ لے کر کرایا جاتا ہے۔

دراصل اس تمہید کا ایک مقصد تھا کہ ہر انسان محبت، پیار کا طلبگار ہوتا ہے، بہ حیثیت انسان مجھے بھی بچپن سے محبت کا بہت شوق تھا، اپنی گوری رنگت، وحیدد مراد جیسے بال لمبا چوڑا قد، دبلا پتلا اندام، بڑی بڑی آنکھوں میں سُرما لگا کر میں، راستے میں سر جھکائے ہوئے گھر سے پیدل ہی نزدیکی اسکول جاتا تھا عمومی خیال یہی آتا تھا کہ ابھی کوئی آواز آئے گی اور میری آرزو پوری ہو جائے گی۔

پھر ایک دن مجھے آواز سنائی دی، اوئے اندھے، روڈ کے کنارے چل، مر جائے گا، دراصل خیال ہی نہیں رہا کہ بے خیالی میں اپنی خیالی دنیا میں جاتے وقت فٹ پاتھ سے روڈ پر آ گیا تھا، گھر اور اسکول کے راستے میں ایک جماعت خانہ اور ایک اسکول آتا تھا، اس وقت سوچتا تھا کہ کتنی خوب صورت ہیں یہ لڑکیاں، کاش میں بھی لڑکی ہوتا تو اُن کے ساتھ اسکول جاتا، پھر یکدم خیال آیا کہ میں تو لڑکا ہوں، ہفتم کلاس میں پڑھ رہا ہوں، اگر لڑکی ہوتا تو لڑکے مجھے چھیڑتے اور میں روتے ہوئے گھر جاتا، پھر ہماری پختون روایات کے مطابق میرا اسکول جانا بند ہو جاتا، اچھا ہوا کہ لڑکی نہیں ہوں لیکن ’دودھ میں ملائی، کیا ہوتی ہے مجھے اس وقت بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ آخر میرے ہمجولی، اُن لڑکیوں کو دیکھ کر ایسا جملہ کستے کیو ں ہیں۔ پھر اسکول میں، کو ایجوکیشن نہیں تھی، جلدی جلدی پاس ہو کر کالج جانا چاہتا تھا، ویسے گرلز کے لیے اسکولز مختص تھے، لیکن اتنی ساری لڑکیاں ہوتی تھیں کہ سوچتا رہ جاتا کہ کون سب س اچھی ہے۔ اتنے میں سب چلی جاتیں اور میں آلو چھولے کھانے چلا جاتا۔

یاد آیا، ہمارے اسکول میں پڑھانے والی ٹیچرز میں دو بہت ہی خوبصورت تھیں، سب لڑکے ان کی کلاس میں سب سے آگے بیٹھنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن میں سب سے پچھلی والی نشست پر بیٹھا کرتا، ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا کہ تم آگے کیوں نہیں بیٹھتے تو میں کہتا کہ مجھے ’ دور سے بورڈ صحیح دکھائی دیتا ہے‘ اس بات پر پتہ نہیں انھوں نے کیا مطلب لیا اور میری شکایت بڑی مس سے کر دی، وہ مس بہت اچھی ٹیچر تھیں، جب میری شکایت ان کے پاس گئی تو وہ ہنس پڑیں کہ خدا کا شکر ہے کہ تمھاری بھی کوئی شکایت سننے کو ملی، میں اس وقت اس بات کو نہیں سمجھا اور مس کے کہنے پر معافی مانگ کر آ گیا، مجھے آج بھی نہیں معلوم کہ وہ ناراض کس بات پر ہوئی تھیں۔

ہمارے اسکول میں ایک ٹیچر بھی مشہور تھے، اسٹوڈنٹس کو بہت مارا کرتے تھے، لیکن مجھے کبھی نہیں مارا کیونکہ میں ان کی ہر بات پر عمل کرتا تھا۔ پھر ایک دن اس سر نے مجھے، کئی چھڑیاں بلا وجہ دے ماریں، میں نے وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ تم نے بتایا کیوں نہیں کہ فلاں مس کی شادی ہو گئی ہے اور اب وہ اسکول نہیں آئیں گی۔ کمال کی بات تھی کہ مجھے آج بھی نہیں معلوم کہ یہ شادی کیوں اور کب اور کس سے ہوئی۔ کالج یونیورسٹی میں بھی میرا کوئی اسیکنڈل نہیں بن سکا، حسرت ہی رہی کہ کاش کوئی مجھ سے محبت کر لیتا۔ کبھی پارکوں میں کبھی سنیماؤں میں کبھی تھیٹرز میں اکیلا ہی جاتا کہ شاید آنکھوں آنکھوں میں پیار ہو جائے لیکن میرے ساتھ مصیبت یہ تھی کہ میں چشموں کے بغیر دیکھ نہیں پاتا تھا۔ اس لیے نوجوانی کے بعد جوانی بھی گزر گئی اور آخر کار عشق کو ہی خیر باد کہہ دیا۔

انٹرنیٹ سے دوستی کر لی تو بہت سارے لڑکے، لڑکیاں بنی ہوتیں، تو لڑکیاں لڑکے، کچھ عرصہ تو وقت خراب کیا، لیکن ایک ناری کو میں پسند آ گیا، اس نے مجھے بُلایا، اب مسئلہ تھا کہ کیا پہن کر جاؤں۔ میں نے بوسکی کی قیمض اور سفید شلوار پہنی اور سیدھا جا پہنچا، بعد میں اندازہ ہوا کہ میں کسی پنجابی فلم کا کردار لگ رہا ہوں، اب کیا کیا جا سکتا تھا اس لیے آرام سے برگر کھایا اور واپس آ گیا۔ تھوڑا سا بالغ ہوا تو سوچا کہ چھوڑو یار، کس جھنجٹ میں پڑ گئے ہو ساری عمر اسی طرح گزار دی، تم میں کوئی کشش نہیں ہے اس لیے یہ کوشش چھوڑ دو، میں نے اس عمل کو ترک کر دیا کہ کوئی مجھے پسند کرے۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کبھی کبھی اسپتال چلا جاتا، اللہ کا شکر ہے کوئی بیماری نہیں ہے، بس ایسے ہی، بیمار بن جاتا، سسٹر آتی، مجھ سے منہ کھلواتی، پھر وہ تھرما میٹر منہ میں رکھ چپ کرا دیتی، تھوڑی دیر بعد پھر ایک نرس آتی کہ اپنا ہاتھ دو، میں فورا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑ لیتا، انگوٹھی ہر سائز کی جیب میں ہوتی تھی تو وہ مسکرا کر کہتی کہ بلڈ پریشر چیک کرنا ہے، میری مسکراہٹ غائب اور اس کی گہری ہو جاتی، اچانک ایک تیز چبھن کا احساس ہوتا، پتہ چلا کہ مجھے انجکشن لگا دیا گیا ہے۔

اگلے دن وزٹ پر بہت سارے ڈاکٹرز، جو ہاؤس جاب تھے یا طلبا طالبات تھے وہ آتے اور مجھ سے میری بیماری پوچھتے، میں سب سے خوب صورت ڈاکٹر کی جانب دیکھ کر کہتا کہ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ محبت کر لوں، تو سب ہنس پڑتے، سنجیدگی سے ایک ہٹلر ٹائپ پروفیسر آگے بڑھتا اور چیک اپ شروع کرتا تو میں اچک کر بیڈ پر بیٹھ جاتا کہ ہر وزٹ کی فیس دیتا ہوں، مفت علاج نہیں کروا رہا، تم لوگوں سے اچھے تو سرکاری اسپتال کا اسٹاف ہے کم از کم رات رات بھر باتیں تو کرتا ہے۔

پروفیسر ایڈوئس کرتا کہ اس کے ساتھ نفسیاتی مسئلہ ہے، طبی علاج کی ضرورت نہیں ہے۔ میں بھی خاموشی سے اٹھتا اور ہاسپٹل سے چلا آتا اور سیدھا سرکاری اسپتال جا پہنچتا۔ ایمرجنسی میں سب ہی واقف کار بن گئے تھے، مجھے دیکھتے ہی کہتے کہ بھائی صاحب دوبارہ آ گئے ہیں، انھیں داخل کر دو، بس پھر سکون کے ساتھ کچھ دن اسپتال میں گزارتا، بھاگتے لال بیگ، اچھلتی کودتی بلیوں، بد بو دار راہ داریوں کی پرواہ کیے بغیر گندے سڑیلے بیڈ، جب جی چاہتا، اسٹاف روم چلا جاتا اور دل کھول کر ڈرافٹ، لڈو کی بازی لگاتا کولڈ ڈرنک پیتے اور کوئی مریض بلاتا تو اس سے کہتے کہ صبر کرو، مریض آئی سی یو میں ہے۔

پھر ایک دن اخبار میں گم شدگی کی خبر پڑھتے ہی ان سے کہتا کہ مجھے گھر پہنچا دو، لیکن جو انعام ملے، آدھا میرا، آدھا تمھارا ہو گا۔ لیکن وہ مجھے بلیک میل کرتے کہ سچ بتا دوں، جس پر میں خاموش ہو جاتا کہ اگلی بار آ کر سب حساب برابر کردوں گا۔ گھر پہنچ کر امی گلے سے لگا لیتی کہ میرے لال، میرے بچے، کہاں چلا گیا تھا، میں نے تو قمیض کی پیچھے فون نمبر بھی لکھا ہوا تھا پھر بھی کسی نے تمھیں گھر نہیں پہنچایا ظالم لوگ، ہائے میرے معصوم بچہ میرے لال،کتنا کمزور ہو گیا ۔

Monday, 4 May 2015

Yeh Roz Roz ki Taqrar, Daily Reasoning & Arguing ....یہ روز روز کی تکرار۔۔۔!

بہ حیثیت انسان عورت اور مرد کے ایک دوسرے پر بہت سے حقوق ہیں۔ خاندان میں اپنی مختلف حیثیتوں میں ایک عورت مختلف کردار ادا کر رہی ہوتی ہے۔
اگر کفالت کی بنیادی ذمہ داری مرد کے سپرد ہے تو بہت سے لوگ یہ نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ بالکل اسی مناسبت سے عورت کی ذمہ داری گھر کے تمام کاموں کی ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ ایک عورت اگر چاہے تو اسے حق ہے کہ وہ گھر کے کاموں کے لیے کسی ملازمہ کا مطالبہ بھی کر سکتی ہے۔ ایک منظم دائرے میں رہتے ہوئے دونوں اپنی اپنی جگہ مختلف مذہبی اور اخلاقی ذمہ داریوں کے پابند ہیں۔ اگر دونوں اپنا اپنا کرداراحسن طریقے سے نبھاتے رہیں، تو کوئی جھگڑا ہی باقی نہ رہے۔
عورت مرد جب شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں، تو انہیں اس نئے رشتے کے باعث کچھ اضافی ذمہ داریاں بھی اٹھانی پڑتی ہیں۔ زوجین ایک دوسرے کے دوست، غم گسار، سکھ دکھ کی ساتھی اور ہم راز بھی ہوتے ہے۔ ایک دوسرے کی تمام خوبیوں سے اور خامیوں سے آگاہ۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کی اہمیت اور مقام سے آگاہ ہوں تو وہ گھر دنیا میں سکون کا نمونہ بن جاتا ہے، جب مرد بیوی کو صرف اپنے تابع، ماتحت اور فقط خواہشات پوری کرنے والی چیز سمجھنے لگتا ہے، تو وہیں اس رشتے میں دراڑیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں۔
مرد وعورت چاہیں، تو مل کر اپنے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں یا پھر اپنے رویوں سے اسی گھر کو جہنم بھی بنا سکتے ہیں۔ مردوں کو کہا گیا ہے کہ بیوی تمہاری ’’نصف بہتر‘‘ ہے اور نصف بہتر کا مطلب یہی ہے کہ وہ تمہارا ہی حصہ ہے، لہٰذا وہ بھی اتنی محبت پیار، خلوص، عزت و حیثیت کی حق دار ہے، جتنا کہ آپ خود۔
اکثر خواتین سارا سارا دن گھر کے کاموں، بچوں کے جھمیلوں اور شوہر کے حقوق، آرام و آسائش وغیرہ میں مصروف رہتی ہیں، اور بدلے میں صرف شوہر کی خوشنودی، اعتراف اور محبت کی طلب گار ہوتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے، تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔ شوہر حضرات چاہیں، تو اس بندھن کو اعتماد اور محبت سے مضبوط اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ صرف شوہر ہی تمام تر عزت، مان، مرتبے، آرام و آسائش کا حق دار ہے، کیوں کہ اسے گھر کے سربراہ کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ کما کر لاتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک غیر منصفانہ اور دقیانوسی سوچ ہے۔ حقیقت میں مرد تو اپنا فرض ادا کر رہا ہوتا ہے اور بیوی اپنے حصے کی ذمہ داریاں سر انجام دیتی ہے۔ کفالت شوہر کی ذمہ داری ہے، کوئی احسان نہیں، جب کہ بیوی گھر کی دیکھ بھال اور اہل خانہ کی خدمت کر کے احسان کرتی ہے، کیوں کہ بیوی ساس نندوں کی خدمت کرنے کی پابند نہیں ہے، مگر وہ تمام ذمہ داریوں میں شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہے۔
بیوی صبح سویرے ناشتا بنا کر دیتی ہے، آپ کو دفتر اور بچوں کو اسکول بھیجتی ہے۔ اس کے بعد گھر کی صفائی ستھرائی، کھانا پکانا، کپڑے دھونا، بچوں کو اسکول سے لانا، ان کو نہلانا دھلانا، کھانا، پینا اور علاج معالجہ وغیرہ بھی کراتی ہے۔۔۔ گھر میں ساس، سسر، نندیں اور دیور وغیرہ ہیں، تو ان کا بھی خیال رکھنا۔ یہ سارے کام کرنے کے بدلے میں وہ اپنے شوہر اور خاندان والوں سے صرف عزت پیار اور احترام مانگتی ہے۔ اس کے باوجود اگر اسے شکایت ہے، تو پھر ازسر نو جائزہ لینا چاہیے کہ قصور کس کا ہے؟
گھر میں شوہرحضرات  اس بات کا ادراک کریں کہ اگر وہ سارا دن غم روزگار میں ہلکان ہو رہے ہوتے ہیں، تو ان کی نصف بہتر بھی گھر میں سارا دن مشقت میں رہی ہے، تو انہیں ان کی تھکان کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔ آپ جب اپنے عمل اور گفتگو سے اس بات کا اظہار کریں گے، تو یقیناً اس سے بیوی کا بھی حوصلہ بڑھے گا۔ مثلاً صبح کبھی باورچی خانے میں آپ کی مدد کی ضرورت ہو تو بیوی کا ہاتھ بٹانے میں پس وپیش سے کام نہ لیں۔
کبھی ضرورت پڑے، تو بچوں کا بستہ اور انہیں اسکول کے لیے تیار کرنے میں مدد کر دیں۔ اس طرح کام جلد مکمل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ چھٹی کے روز گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹا دینا نہایت  اچھا تاثر دیتا ہے۔ بالخصوص دسترخوان بچھانا، کھانا لگانا یا برتن سمٹوادینا، کبھی کھانے کے ذائقے میں کوئی کمی بیشی ہو جائے، تو اس پر درگزر سے کام لینا آپ کے ازدواجی تعلقات پر نہایت خوش گوار اثرات مرتب کرے گا اور یہ اثرات روز مرہ کی کسی بھی تلخی میں صورت حال کو زیادہ بگڑنے سے روکے گی اور معاملات جلد ہی سلجھ جائیں گے۔ اس سے زندگی پہلے سے کہیں زیادہ مطمئن اور پرسکون گزرے گی اور زوجین ایک دوسرے کے دل میں اپنے لیے عزت و مقام پیدا کر سکیں گے۔
مرد حضرات دفتر سے واپسی پر ہلکے پھلکے انداز میں بیوی اور بچوں کا حال احوال پوچھیں، یا بیوی اپنے شوہر کی خیریت لے۔ یاد رکھیں، سارے دن کی تھکان کا بدلہ دوسروں پر نکالنے سے تھکان نہیں اترتی، بلکہ دوسروں کا موڈ بھی خراب ہو جاتا ہے۔
اگر وقت کم ہو اور شوہر صرف ’’دیر ہو رہی ہے، دیر ہو رہی ہے‘‘ کا نعرہ لگاتے رہیں، تو یہ ایک اکیلی خاتون سے نا انصافی ہو گی کہ وہ تین چار افراد کو بہ یک وقت ناشتا دے اور ساتھ ہی دفتر اور اسکول جانے کے لیے ناشتے دان یا لنچ بکس بھی تیار کرے۔ خاوند اگر جلد بازی کے بہ جائے بیوی کی مدد کرے تو اس سے گھر کے ماحول میں مزید شیرینی گھل جائے گی اورکام بھی خوش اسلوبی سے بروقت انجام پائے گا۔ ورنہ صبح، صبح گھر کا ماحول کشیدہ ہوگا۔ میاں، بیوی کا سارا دن خراب گزرے گا۔ اس لیے دونوں کے لیے چیخنے چلانے اور جرح کرنے سے بچنا ہی عقل مندی ہے۔
بیوی اور شوہر ایک دوسرے کو ہمیشہ اچھے لفظوں سے مخاطب کریں، ایک دوسرے کی محنت کو سراہیں۔ شکریہ ادا کریں اور جس کی غلطی ہو، وہ معافی مانگ لے یا وقتی طور پر ایک فریق خاموشی اختیار کر لے، تو گھر کے ماحول کو خرابی سے بچایا جا سکتا ہے۔
میاں بیوی لڑائی جھگڑوں میں بچوں کو فریق نہ بنائیں اور نہ ہی ان کی طرف داری کریں۔ اکثر گھرانوں میں ماں بچوں کو ڈانٹتی ہے، تو باپ، یا باپ بچوں کو ڈانٹتا ہے تو ماں حمایت کرتی ہے، یوں بچوں کی جگہ میاں بیوی آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ خاص طور پر ماں کو چاہیے کہ جب باپ بچوں کو تنبیہہ کرے، تو وہ ہرگز ان کی وکیل صفائی نہ بنے ورنہ بچوں کے بگڑنے کا ڈر ہوتا ہے۔ بچے ضدی اور خود سر ہو جاتے ہیں اور ماں باپ کا کہنا نہیں مانتے یا پھر کسی ایک کو دوست اور دوسرے کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔
اگر بیوی سے غلطی ہو جائے یا وہ کوئی کام وقت پر مکمل نہ کر سکے۔ کھانا پکانے، صفائی ستھرائی میں کوتاہی ہو جائے، تو اس کا سبب تلا ش کر کے اسے دور کرنے کی کوشش کریں، پھر بیوی کو پیار سے سمجھائے، وہ آپ کی بات ضرور سمجھے گی۔
بچوں کی پرورش پڑھائی لکھائی پر توجہ دیں۔ بچوں کے مسائل سنیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ گھر کی فضا کو خوش گوار بنانے کی کوشش کریں اور اس کے لیے دونوں ہی تو تو، میں، میں کے بہ جائے اپنے نصف بہتر کا خود سے زیادہ خیال رکھیں تاکہ نصف بہتر ’’نصف بدتر‘‘ نہ بن جائے۔

Sunday, 3 May 2015

Talaq Yafta Samaaj Ki thokar Par Kiyon....طلاق یافتہ، سماج کی ٹھوکر پر کیوں؟

’’باجی ! کیا میرا کوئی گھر نہیں ہے‘‘ رضیہ روتے ہوئے سوال کر رہی تھی اور میں حیرانی سے اس کا اداس چہرہ دیکھ رہی تھی، کچھ دن ہوئے میں نے ان خواتین کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں وہ خواتین جو کسی بھی مجبوری کی بنا پر اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کرچکی تھیں وہ دوبارہ سے ایک سالہ کورس کرکے میٹرک کا امتحان پرائیویٹ دے سکتی تھیں۔ رضیہ میری ان شاگردوں میں سے ایک تھی جو ہمیشہ ہنسنے مسکرانے اور تعلیم میں دلچسپی لیتی نظر آتی تھی لیکن آج اس کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر کرب کے تاثرات دکھ کی نئی کہانی سنا رہے تھے۔  میں نے اس سے پوچھا تو پتہ چلا کہ چار مہینے پہلے شادی ہوئی تھی مگر 10 دن بعد ہی سسرال والوں نے طلاق دے کر گھر بٹھا دیا اب وہی گھر جہاں سے بابل کے گیت سن کر وداع ہوئی تھی واپس آنے کے بعد جہنم بن چکا ہے۔ گھر والے طنز کے تیر چلاتے ہیں تو بیگانے الزامات کی ایسی بوچھاڑ کرتے ہیں کہ روح تک کانپ اٹھتی ہے اسے تو میں نے تسلی دلاسہ دے کر چپ کرادیا لیکن خود سوچنے پر مجبور ہوگئی۔
شادی تو ایک مقدس بندھن ہے جس میں بندھ کر مردوعورت سماج کے نظام کا حصہ بنتے ہیں اس رشتے میں علیحدگی میاں بیوی دونوں کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے مگر اس مردوں کے معاشرے میں زیادہ دکھ عورت کے حصے میں آتے ہیں اور اگر کہیں بچے موجود ہوں تو وہ تو اس بری طرح رلتے ہیں کہ دونوں میاں بیوی میں لڑائی جھگڑا، ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا یا سسرالی رشتوں کی بے جا مداخلت رشتوں میں دراڑ کا سبب بنتی ہے لیکن معاشرتی المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی مرد و عورت میں علیحدگی ہوجاتی ہے معاشرے کا رویہ تبدیل ہوجاتا ہے بالخصوص عورت کے ساتھ لوگوں کا رویہ حتیٰ کہ قریبی رشتے دار بھی ایسے ایسے الفاظ کے نشتر چبھوتے ہیں اور ایسے زخم لگاتے ہیں جن کی تکلیف تا زندگی رہتی ہے۔ عورت کی سننے کی بجائے پورا معاشرہ ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جاتا ہے حتیٰ کہ مائیں بھی لڑکی کا قصور نہ ہوتے ہوئے بھی اس کو ہی قصور وار ٹھہراتی ہیں۔ کہا جاتا ہے ’’کیا تھا، تم صبر سے کام لے لیتیں تو آج یہ سب نہ ہوتا‘‘۔ کوئی اس عورت سے نہیں پوچھتا کہ اس کے دل پر کیا گزر رہی ہے، رات کی تنہائی میں کس کرب سے گزر رہی ہے ۔
وائے افسوس ہمارے معاشرے کا تو المیہ یہ ہے کہ ہم طلاق یافتہ عورت کو اچھا نہیں سمجھتے چنانچہ بے جا نکتہ چینی، اعتراضات معاشرے کے چبھتے ہوئے سوالات ان کی عزت نفس کو دن رات مجروح کرتے ہیں حتیٰ کہ عورت کی نام نہاد آزادی کی دعویدار این جی اوز جوکہ پسند کی شادی کرانے میں تو پیش پیش رہتی ہیں مگر طلاق کے بعد ان کا رویہ بھی مثبت نظر نہیں آتا۔ کسی سماجی تنظیم نے ان عورتوں کی بھلائی یا بحالی کے لیے کام نہیں کیا جو طلاق ہو جانے کے بعد سماج میں تنہا ہوجاتی ہیں ۔کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اگر اپنی زندگی کا دوبارہ فیصلہ کرلیں تو آزاد خیالی کے زمرے میں آجاتی ہیں۔ کردار کو لوگ نشانہ بنانے لگتے ہیں کہ ’’کردار ہی خراب ہوگا جب ہی تو اتنی جلدی دوسری شادی کرلی، اس آدمی کی وجہ سے ہی اپنا گھر خراب کیا ہوگا‘‘ اس طرح کے دس الزامات ہوتے ہیں جن کا سامنا عورت کو کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر طلاق کے بعد عورت اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا فیصلہ کرے تو جب بھی معاشرے کی فرسودہ روایات اور لوگوں کی لمبی زبانیں اس کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہیں اور یہ روایات نسل در نسل پروان چڑھ رہی ہیں اس تعلیم یافتہ دور میں بھی ہم ان روایتوں کے امین بنتے جا رہے ہیں۔
معاشرے کو تو کیا سدھاریں گے ہمیں تو لگتا ہے پاکستانی معاشرہ ترقی معکوس کی طرف جارہا ہے بجلی ختم ہوئی، پانی سیلاب کی صورت میں نظر آتا ہے، مہنگائی کا عفریت منہ کھولے سب ہڑپ کرنے کے لیے آگے بڑھتا جارہا ہے مگر نہیں بدلا تو ہمارا نظام نہیں بدلا۔ عورت کے لیے یہ معاشرہ کل بھی ویسے ہی تھا اور آج بھی ویسا ہی ہے اور خدانخواستہ ہمارے معاشرے کی ترقی معکوس کی یہی رفتار رہی اور جس طرح سے معاشرے میں مدرسہ سسٹم پروان چڑھ رہا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ شمالی وزیرستان کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں بھی عورت پر قدغن لگانیوالے آ موجود ہوں جہاں کچھ تو سہی عورت اپنا مقام پہچان رہی ہے اور یہ مقام خود ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کو دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں جہاد کے بعد شہید ہوجانے والے صحابہ کی عورتوں کے گھر بسانے پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ بچوں کو باپ کی ذمے داری قرار دیا تھا تاکہ عورتوں کے دوبارہ گھر بسنے میں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں تو 50 سال سے زائد عمر کی خواتین کے بھی نکاح کروائے گئے تاکہ وہ عزت سے گھروں میں بیٹھ کر اپنی بقیہ زندگی کے ایام پورے کریں۔ہم اسلامی شعائر کا بہت تذکرہ کرتے ہیں مگر صرف ان کا جن سے فائدہ پہنچنے کی امید ہو، مگر ایسے احکامات جن سے عورتوں کو فائدہ پہنچے ان کو کہیں پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔آج کے جدید پاکستانی معاشرے میں بھی ایک پچاس سالہ خاتون اگر اپنا گھر بساتی ہے تو اسے ایسے ایسے القاب سننے کو ملتے ہیں کہ حد نہیں۔ پڑھے لکھے مرد ہوں یا خواتین اس طرح سے طنز کے تیر چلاتے ہیں کہ ان کو سن کر ہی لوگ توبہ کرلیں۔ اس طرح کے سماجی رویوں سے معاشرے میں غیر اخلاقی باتیں فروغ پاتی ہیں۔

Dard Angaeiz Wakiyat....درد انگیز واقعات

ایک خاتون معیاری تعلیم دینے والے ایک ادارے میں انتظامی عہدے پرکام کرتی تھیں کیونکہ مالی مشکلات کا شکار تھیں اور گھر کی واحد کفیل تھیں اس وجہ سے اپنی ذمے داریوں کو اچھی طرح سرانجام دیتی تھیں۔
جس کا احساس ان کے ادارے کو بھی تھا اور گاہے بہ گاہے ان کا پروموشن اس بات کا ثبوت تھا کہ ادارہ ان کی خدمات کو سمجھتا اور سراہتا ہے اسی طرح سلسلہ جاری تھا کہ اس ادارے کی مانیٹرنگ ٹیم میں تبدیلی ہوئی اور نئے مانیٹر منیجر کا تقرر ہوا جب سے وہ صاحب آئے اس وقت سے زیادہ تر خواتین افسروں کا برا حال ہوگیا کیونکہ موصوف نے خواتین کو ہراساں کرنا شروع کیا اور الٹی سیدھی باتیں کرنا شروع کردیں یہ خاتون بھی موصوف کی نظر میں تھیں اور انھوں نے ذہنی طور پر ٹارچر کرنا شروع کردیا۔ کچھ عرصہ یہ صاحب اپنی حرکتوں کے ذریعے ان صاحبہ کو پریشان کرتے رہے اور آخر اپنا مطالبہ سامنے رکھ دیا جس کو وہ پورا کرنے سے قاصر تھیں پانی سر سے اوپر پہنچ چکا تھا اپنی نوکری بچانے کی تگ و دو میں ہراساں خاتون نے ڈپارٹمنٹ میں ان کی شکایت کردی اور الف سے لے کر ی تک تمام چیزیں بتادیں، مگر کچھ نہ ہوسکا بلکہ الٹا ایسی اسٹوری تیار ہوگئی جس کی وجہ سے انھیں نااہل قرار دے کر جاب سے نکال دیا گیا۔
اب ایک کہانی اور سنیے ! ایک فیملی روزگار کی تلاش میں کراچی شفٹ ہوئی، گھر کی خواتین نے پوش علاقے میں گھروں میں کام کرنا شروع کردیا، ایک خاتون جس کا نام صغریٰ بی بی تھا وہ اپنے ساتھ اپنی بچی جوکہ آٹھ دس سال کی ہوگی اس کو بھی کام پر ساتھ لے جاتی تھیں تاکہ کاموں میں ہاتھ بٹا سکے کیونکہ ان کو دو چار گھروں میں جانا ہوتا تھا ایک دن ایسا ہوا کہ صغریٰ بی بی کو دوسرے گھر کسی تقریب کی وجہ سے کام زیادہ تھا جو مقررہ وقت میں مکمل نہیں ہوسکا اس نے وہاں اپنی بچی کو چھوڑا کہ باقی کام وہ مکمل کرلے اور اس دوران وہ باری کے دوسرے گھر میں کام نمٹا کر آجاتی ہے تاکہ گھر وقت پر پہنچا جاسکے۔
مگر وائے قسمت جب ماں واپس آئی تو اپنی بیٹی کو انتہائی برے احوال میں دیکھ کر غم زدہ رہ گئی بچی صدمے کی اس کیفیت میں تھی کہ کچھ بولنا محال تھا ماں بچی کی ظاہری حالت دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ بچی کے ساتھ کیا ہوا ہے، روئی پیٹی اور گھر کے مکینوں سے شکایت کی، مگر متکبر مالکان نے الٹا ڈرا دھمکا کر ماں کو ہراساں کرنا چاہا تاکہ معاملہ رفع دفع ہوسکے مگر ماں اپنی بچی کی حالت دیکھ کر کسی بھی طرح معاملہ ختم کرنے پر راضی نہ ہوئی اور اپنی بچی کو لے کر متعلقہ تھانے گئی رپورٹ لکھوانے، مگر کیا ہوا الٹا اس پر کیس بنادیا گیا کہ ماں بیٹی نے زیورات چرائے ہیں جب زیورات کی پوچھ گچھ کی گئی تو جھوٹی رپورٹ لکھوانے پہنچ گئی آخر وہی ہوا جو اس معاشرے میں غریبوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ نوکری بھی گئی عزت بھی گئی اور ملزمان اس طرح دندناتے رہے سزا تو کیا ملتی ان کو تو قصوروار ہی نہیں ٹھہرایا گیا۔
عبدالکریم ایک دفتر میں سپورٹ اسٹاف کی حیثیت سے ملازم ہوا، دن میں کام کرتا اور شام میں اپنی پڑھائی کرتا تاکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنی زندگی کو آسودہ اور خوش حال بناسکے جب تنخواہ ملی تو وہ کم تھی مگر جس پرچی پر سائن کروائے گئے اس میں زیادہ رقم تحریر تھی اس وقت تو اس نے دستخط کردیے مگر اس بات کا تذکرہ اپنے ساتھیوں سے کیا انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو رہا ہے مگر ہم اس لیے چپ ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو مل رہا ہے نوکریاں ملنا ایک کار دشوار ہے تم بھی خاموشی سے کام کرتے رہو۔
دو تین مہینے اسی طرح گزر گئے مگر عبدالکریم کو رہ رہ کر اس رقم کا خیال آتا جوکہ اس کا مقدر تھی مگر مالکان اس دیدہ دلیری سے اس کے حقوق غصب کر رہے تھے اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا ۔ اب عبدالکریم کے غم و غصے کے جذبات بڑھتے جا رہے تھے اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب کسی بھی پرچی یا واؤچر پر دستخط نہیں کرے گا اس لیے اس نے اکاؤنٹنٹ کو صاف کہہ دیا کہ جو میری اصل تنخواہ ہے وہ دو، جب میں دستخط کروں گا۔ اکاؤنٹنٹ سے لڑائی ہوگئی۔
مالکان تک بات پہنچی اور مختلف حیلوں بہانوں سے دفتر کے لوگوں نے سمجھایا کہ تم ان سے مت لڑو ، یہ دولت مند پیسے والے لوگ ہیں، نوکری سے بھی جاؤگے، مگر عبدالکریم بضد تھا کہ یہ میرا حق ہے اور میں اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ اسی اثنا میں ایک دن دفتر میں پولیس آگئی اور اس کو پکڑ کر لے گئی اس پر لاکھوں روپے کی چوری کا الزام تھا جوکہ اس کے آفس کی دراز سے پولیس نے خود نکالے اور عبدالکریم کو گرفتار کرلیا۔ مال بھی حاضر تھا کیس بننے میں دیر نہ لگی۔ آج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے۔
پچھلے دنوں بنیادی حقوق کا دن منایا گیا مختلف این جی اوز، سول سوسائٹی نے مختلف پروگرامز کیے مقررین نے بڑی بڑی تقاریر کیں بنیادی حقوق کا تذکرہ رہا خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف جو قانون پاس ہوا ہے اس کا چرچا تو رہا اور ہوتا رہے گا …مگر جب تک انصاف سب کے لیے نہیں ہوگا عبدالکریم اور بنت حوا اسی طرح خسارے میں رہیں گے۔ قانون بن بھی جاتے ہیں پاس بھی ہوجاتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کروانا ایسا کٹھن کام بن جاتا ہے جس کو کوئی نہیں کروا سکتا آج معاشرے میں کتنی خواتین ہیں جو اس قانون سے فائدہ اٹھا رہی ہیں اس قانون کے ذریعے کیا تبدیلی آئی کیا معاشرے کے گندی ذہنیت رکھنے والے مردوں نے عورت کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا۔
کتنی خواتین ہیں جو اس طرح کے ہراس منٹ کے بعد اپنے گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں کیونکہ آتے جاتے لوگوں کی تمسخر آمیز گھٹیا باتیں سننا ان کے بس میں نہیں ہوتا کتنے لوگ ہیں جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں مگر ان حقوق کو غصب کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ کچھ مال خرچ کرنے پر اصل کہانی کچھ سے کچھ بن جاتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون تو اب بن گئے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کیسے ہو اور ان کے لیے کیا طریقہ کار واضح کیا جائے تاکہ مظلوم کو اس کا حق مل سکے۔