Tuesday, 30 June 2015

Fair Color Time / Goray Raang Ka Zamana....گورے رنگ کا زمانہ

خوبصورت کون ہے؟ کیا آپ خوبصورتی کی علامت جانتے ہیں یا پھر آپ بھی معاشرے کے باقی لوگوں کی طرح گورے رنگ کو ہی خوبصورتی سمجھتے ہیں ؟ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ اس معاشرے کی نظر میں نارمل ہیں، کیونکہ اگر ہم آج کل ٹی وی پر اشتہارات دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان کا رنگ گورا نہیں ہے تو وہ بالکل بے مصرف ہے۔ نا تو اسے اچھی نوکری ملے گی اور نا ہی اس کی شادی کسی اچھی جگہ ہو سکتی ہے۔
رنگ روپ کے فرق کی اصل وجہ جغرافیائی خطہ ہے، ہمارے خطے میں بسنے والے بیشتر افراد کا رنگ یا تو گندمی ہے یا سانولا ہے، پھرنجانے کیوں یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی پراڈکٹس بیچنے کے لئے اس قسم کے اشتہارات بناتی ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے کم رنگ کی وجہ سے کوئی ان کے پاس نہیں آنا چاہتا، پھر اچانک ایک ’’گوری رنگت والا لڑکا یا لڑکی ‘‘ آتے ہیں اور انہیں اپنی کمپنی کی مہنگی پراڈکٹ خریدنے کا مشورہ دیتے ہیں جس کو لگاتے ہی کامیابی ان کے قدم چومنے لگتی ہے ۔ ارے واہ کیا راز ہے کامیابی کا، اور تو اور لوگوں کی محبت اور خاص توجہ بھی صرف ایک کریم کی دوری پر ہے ۔
صرف ملٹی نیشنل کمپنیاں ہی نہیں جناب اس فہرست میں تو ہمارے حکیم اور ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ پڑھ لکھ کر جدید سائنسی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی یہ لوگوں کو خوبصورت سے خوبصورت تر ہونے کے مشورے دیتے ہیں۔ کیبل پر ان کے چلنے والے اشتہارات میں پاکستانی رنگ و روپ کے مسائل کو غیر ملکی چہروں سے ایسے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والا ان کی بات سے متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔
حیرت اس بات کی ہے ڈاکڑ اور حکیم دونوں ہی یہ بات ایک عام انسان سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ گورا رنگ ،اونچا قد یا کوئی اور جسمانی خوبصورتی انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ پیدائش سے قبل ہمارا ڈی این اے تیار ہوتا ہے جس میں تمام تر معلومات لکھ دی جاتی ہیں اور پھر ہمارے ہاتھ میں کیا ہے یہ تو اس خالق کی مرضی ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو کس سانچے میں ڈھالتا ہے، لیکن افسوس یہ بات جاننے کے لئے ہمارے پاس وقت ہی کہاں ہے، ہمارے ذہنوں میں تو ’’گوری رنگت والی خوبصورتی‘‘ کا کیڑا گھسا ہوا ہے جو نا ہمیں چین سے جینے دے گا اور نا ہی مرنے۔
شاید قصور ان سب کا بھی نہیں ہے، لوگوں کی سوچ نے ہی انہیں موقع دیا ہے ورنہ انہیں کیا مصیبت پڑی ہے لوگوں کے ذہنوں سے کھلینے کی ۔ ہزاروں سالوں سے چلی آرہی اس سوچ کواب بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ نا تو خوبصورتی گورے رنگ میں ہے اور نا ہی بدقسمتی کالی رنگت والے کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ یہ تو انسان کی تفریق ہے ورنہ اصل خوبصورتی تو انسان کے کردار میں ہے اس کی سوچ میں ہے اس کی عادات میں ہے لیکن ان لوگوں کو کون سمجھائے جو محض دوسروں کو ان کی شکل و صورت کی وجہ سے کبھی کالا، کالی، کالن، کلن اور کالو جیسے نام دے دیتے ہیں۔ یہ نام نا صرف ان لوگوں میں احساس کمتری پیدا کرتے بلکہ دوسروں کے لئے ان کے دلوں میں نفرت کی چنگاری بھی جلا دیتے ہیں۔
 اکثر اوقات بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اچھی جگہ نوکری اور شادی کے لئے رشتوں سے صرف اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کا رنگ اتنا صاف نہیں ہوتا۔ زمانے کی باتوں سے بچنے کے لئے یہ لوگ مختلف کریموں اور ٹوٹکوں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے جلد کی مختلف بیماریاں شروع ہو جاتی ہیں، ساتھ ساتھ اچھا خاصا چہرہ بھی بگڑ جاتا ہے۔
مانا کہ اچھا لگنا ہر انسان کا حق ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم دوسروں کو احساس کمتری کا شکار کردیں۔ اگر ہمارے کہے ایک لفظ سے بھی کسی کی دل آزاری ہوئی تو ہم خدا کی بارگاہ میں کیا جواب دیں گے کہ ہم نے اس کی تخلیق کو ذلیل کیا؟ جس کا رنگ کالا ہے وہ بھی انسان ہے اور اسے بھی زندگی گزارنے کا پورا حق ہے۔ ہمیں اب اس بات کو سمجھ لینا چاہئے کہ اصل خوبصورتی آپ کے اندر چھپنے کردار و گفتار میں ہے۔ شرمندہ انہیں ہونا چاہیے جن کو اس تمیز کا علم نہیں نا کہ وہ جو کردار میں بہتر ہے مگر اس کا رنگ کالا ہے !

Wednesday, 24 June 2015

Widow! Not Helpless, It Is trip of Determination and Courage ..... بیوگی بے بسی نہیں، عزم و جرات کا سفر ہے!

اقوام متحدہ نے ہر سال 23جون کو بیوائوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اِس اعلان کا مقصد بیوائوں کے حوالے سے عوام میں شعور اور آگہی فراہم کرنا ہے۔ اس کی ابتداء ایک این جی او نے کی جس کے مالک کی ماں اوائل جوانی میں بیوہ ہوگئی تھی اور اُس نے زمانے کی مصائب اور تکالیف برداشت کئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایسی بیوائیں جن کے شوہر حکومتی ملازمتوں کے دوران انتقال کرجاتے ہیں، اُن کے لیے تو حکومتیں پنشن اور دیگر فنڈز کی مد میں مدد کرتی ہیں مگر جن کے شوہر نجی سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کی باقی کی زندگی گزارنے کے لیے کوئی ادارہ موثر طور کام نہیں کر رہا اور ایسی بیواؤں کی تعداد کثرت میں ہے کہ جو شوہر کے انتقال کے بعد نہایت مجبوری اور مایوسی کے عالم میں جی رہی ہیں۔
اِس دن کے منانے کا مقصد ایسی خواتین اور اُن کے بچوں کی فلاح بہبود کے لیے نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی ایسے ادارے قائم کرنا ہے جن کا مقصد ان بیواؤں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہو۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے بہت سے خطوں میں اب بھی بیوہ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے، جب کہ زمانہ قدیم میں فرسودہ روایات کی پیروی کرتے ہوئے بیوہ عورت کو اُس کے مرے ہوئے شوہر کے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتا یا زمین میں دفن کر دیا جاتا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس انسانیت سوز رسم کا خاتمہ ہوگیا۔ اسلام نے جہاں پر عام خواتین کے حقوق کی پاسداری کی وہاں بیواؤں سے اچھے سلوک کی تلقین کی۔ ہمارے معاشرہ میں جہاں بہت سی خامیاں ہیں ان میں سے ایک بیواؤں کے حوالے سے بھی کوئی مثبت تاثر کا نہ پایا جانا بھی شامل ہے۔اگر حقیقی نظر سے دیکھا جائے تو بیوہ کے بیشتر مسائل کا حل نکاح میں ہے، عورت کو قدم قدم پر مرد کی ضرورت پڑتی ہے، ایسی بیوائیں جن کے بچے ہوں ان کے بچوں کے تحفظ اور اچھی پرورش کے لیے دوسرا نکاح زحمت نہیں رحمت ہے۔ اگر بیوہ نکاح پر مائل نہ ہورہی ہو تب بھی سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ اسے مناسب طریقے سے راضی کریں۔
ہمارا معاشرہ ویسے تو کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہے لیکن کچھ سماجی مسائل ایسے بھی ہیں جن کو حل کرنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ان گو ناں گو مسائل میں بیوگی بھی شامل ہے، بیوہ ہونا کسی کے اختیار میں نہیں ہے لیکن معاشرتی اقدارکی کمزوریوں کے سبب قائم ہونے والا المیہ یہ ہے کہ شوہر کی موت کا ذمہ دار اسکی بیوہ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر دیکھنے میں آیا ہے کہ بیوہ کے سسرال والے اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ بیشتر بیواؤں کو شوہر کی جائیداد سے بھی بے دخل کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ بے بس اور لاچار عدالت کا رجوع کرے تو اسے بے شمار ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے دل برداشتہ ہو کر وہ خود ہی پیچھے ہٹ جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں رہنے والے بے حس افراد ایک بیوہ کے دکھ کا اندازہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ دکھ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ برداشت نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن معاشرے کی روش کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اگر بیوی کی وفات کے بعد دوسری شادی کرلے تو ہم اس اقدام کو سراہتے ہیں، ہمارے نزدیک گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے دوسری شادی ضروری ہے۔ لیکن اگر کوئی بیوہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کرلے تو اُس کے اِس قدم کو اچھی نظروں نہیں دیکھا جاتا جبکہ درحقیقت اکیلی عورت کا تنہا رہنا زیادہ مشکل ہے کیونکہ مرد کی نسبت عورت معاشرتی اور معاشی طور پر زیادہ کمزور ہوتی ہے۔ اسلام بیوہ عورت کے حقوق کا بہترین تحفظ کرتا ہے۔ عورت چاہے کنواری ہو یا بیوہ، اسلام نے اسے بے شمار حقوق دئیے ہیں خود آنحضورﷺ نے بیوہ خواتین سے نکاح کرکے مثالیں قائم کی ہیں اور آج وہی خواتین امت کی مائیں ہیں۔
اگر پاکستان میں بیوہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو سوائے تاسف کے کچھ حاصل نہیں ہوگا،2008 میں خواتین کے لئے شروع کیا جانے والا فلاحی منصوبہ ’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ خصوصی طور پر غریب و نادارخواتین کے فائدے کیلئےشروع کیا گیا تھا، اِس پروگرام کے تحت خواتین کس قدر مستفید ہو رہی ہیں اسکا اندازہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر کے باہرجائزہ لے کر کیا جاسکتا ہے۔ اِس پروگرام کے تحت اتنا فرق ضرور پڑا کہ بے بس اور لاچار غریب عورتوں میں خود اعتمادی، حوصلہ اور جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کی عمومی نفسیات کو مسخ کرکے ہاتھ پھیلانے، خود ترسی، خود کو لاچار و بیکار سمجھ کر دوسروں پر انحصار کرنے کی نفسیات کو فروغ دیا گیا۔
پاکستان میں پائی جانے والی بیوہ خواتین ہمت وجرات اوراستقامت کا ایک پہاڑ ثابت ہوئی ہیں جہاں وہ معاشرے کے جبر سے لڑتی ہیں وہیں اولاد کی پرورش کے لئے بھی ہاتھ پیھلانے کے بجائے محنت کو ترجیح دیتی ہیں۔ اپنی ہمت، محنت اور حوصلے سے نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کی بلکہ انہیں اعلیٰ تعلیم بھی دلوائی۔ ان کی جدوجہد پاکستانی خواتین کے لئے تقلید کے قابل ہے۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹیکسی چلاتی زاہدہ کاظمی کی کہانی ہو یا کسی بھی تنگ و تاریک گلی میں رہائش پذیر لوگوں کے گھروں میں برتن دھو کر اپنے بچوں کا مستقبل تعمیر کرتی کوئی بیوہ ماں، یقیناً ہمارے معاشرے کی بلندی کی علامت ہیں جہاں عورت کو زر خرید نہیں بلکہ قابل عزت و احترام سمجھا جاتا ہے۔

Wednesday, 17 June 2015

Dowry! Necessary or Complusion .....جہیز ضروری یا مجبوری

ماں باپ بڑی محبت اور محنت مشقت کے ساتھ اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں اور انہیں بڑا کرتے ہیں ۔بچیوں کے پیدا ہوتے ہی ماں باپ کو ان کی شادی کی فکر شروع ہو جاتی ہے جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اس فکر میں بھی اضافہ ہو تاجاتا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں ایک غریب خاندان کے لیے اپنی بیٹی کا جہیز تیار کرنا ہی ایک بڑا چیلنج بن گیاہے ۔جہیزضروری ہے یا مجبوری یا لعنت ۔ اس مسئلے پر میں نے ایک 100 سے زائد افراد کی رائے لی ہے ۔80فیصد نے جواب دیا کہ آج کے دور میں جہیز ایک مجبوری ہے ۔اور کچھ نہ کچھ ضرورت بھی بن چکی ہے۔دیکھا جائے تو اس ماحول میں تو جہیز ضروری اور مجبوری دونوں بن چکا ہے ۔ جو لوگ جہیز نہیں دے سکتے وہ بچیاں گھروں میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں ان کے ہاتھ پیلے نہیں ہوپاتے ، ہمارے رسم رواج جہیز کلچر کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔
دور جدید میں بہت سے ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ شادیاں نہ ہونے کی بنا پر بچیاں نفسیاتی مریض اورپاگل تک ہوجاتی ہیںاس کے علاوہ ایسے کیسزبھی سامنے آئے ہیں کہ لڑکیاں اسی غم کو دل کولگائے اور بالکل دل برداشتہ ہوکر خودکشی جیسا اقدام کر بیٹھتی ہیں۔
ابھی چند ماہ پہلے 4بہنوں نے اجتماعی خودکشی کی جس کی وجہ بھی یہی بتائی گئی کہ والدین غربت کی وجہ سے دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے پوری کررہیںتھے چار جوانی کی حد پار کرکے بالوں میں چاندی اترتی عمر میں پہنچی ہوئی بیٹوں کا اس مہنگائی کے دور میں جہیزکہاں سے تیارکرتے۔والدین اور بچیاں دونوں نفسیاتی مریض بن چکے تھے اور آخر کار بیچاری لڑکیاں اتنا دل برداشتہ ہوئیںکہ نوبت اجتماعی خودکشی تک جاپہنچی اب کون ذمہ دار تھا والدین ۔حکومت یا ہم عوام(معاشرہ) والدین جو بڑی مشکل سے دو وقت کی روٹی کاانتظام کرپاتے تھے وہ کیسے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔حکومت وقت جن کے پاس عوامی مسائل کے لیے وقت ہی نہیں بچا صوبائی وزراء کے صرف لاہور سے ساہیوال تک دورے پر 3کروڑ اڑا دیے جاتے ہیںاور اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔یہ لوگ عوامی مسائل اور لوگوں کی مجبوریوں سے بے خبر ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے عوام کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں ۔
حکمران تو وہ بھی تھے حضرت عمرؓ جوہروقت صرف اس لیے پریشان رہتے کہ میری سلطنت میں اگرکوئی بھوکا مر گیا تو رب کے ہاں جواب دینا پڑے گا۔اس جواب دہی کے احساس نے ان سے راتوں کی نیند تک چھین لی تھی وہ رات بھر علاقے میں نکلتے تاکہ لوگوں کے دکھ درد جان سکیںاور عوام کی رسائی براہ راست حکمرانوں تک موجودتھی ۔لیکن آج کے دور میںوزراء ہی کو وزیراعظم سے ملنے کے لیے کئی دن درکار ہوتے ہیں۔اور ہم عوام ایک بہت بڑا کردار ہمارا اپناہے۔ہم خود اپنے اس پاس خیال نہیں رکھتے کون کس حال میں ہے، اب تو ہماری اپنی حالت یہ ہے کہ ہر ایشوپر حکومت وقت کو موردالزام ٹھہرا کر نکل جاتے ہیں لیکن خود اپنی ذمہ داری کااحساس ختم ہوکر رہ گیا ہے۔
ہمارے آس پاس لوگ راتوں کو بھوکے سوتے ہیں، بچیاں جوان ہیں لیکن شادی صرف اس لیے نہیں ہو پارہی کہ غریب خاندان جہیز کا بندوبست نہیں کر پارہا۔یہ ہماری اپنی ذمہ داری ہے ہم اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اپنے محلے کی سطح پر فلاحی سوسائٹی قائم کرکے ان غریب بہنوں کی شادی کا بندوبست کردیں اور ان کے والدین کے کمزور کندھوں کا بوجھ ہلکا کر دیں۔نوجوان یہ کام بڑے اچھے اندازسے اپنے محلوں کے بزرگوں کی سرپرستی میں سرانجام دے سکتے ہیں۔اور چندعلاقوں میں یہی مثالیں موجود ہے ہیں کہ نوجوان اپنی مددآپ اپنے محلے کے بزگوں کی سرپرستی میں یہ کام سرانجام دے رہیں ہیں ۔ ہم ان این جی اوز اوران کے ورکرز کو سلام پیش کرتے ہیں ۔جو معاشرے میں والدین کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے بچیوں کی شادیاں کرواتے ہیں۔
اس کے علاوہ بہت سے ایسے افراد بھی معاشرے میں موجود ہیں جو ہر سال بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ اگر ہر علاقے میں صاحب حیثیت لوگ مل کر اجتماعی شادیاں کروانے کا عہد کر لیں تو یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہوگا اس کے علاوہ حکومت کو بھی ایک منصوبہ بنانا چایئے کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر اس حوالے سے کمیٹاں قائم ہو اور ایسے منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں اور ہمارا عوام کا فرض ہے کہ جہیز مانگنے اور اس پر مجبور کرنے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے ہر فرد کو اس بات کا احساس دلایاجائے ۔
بلوچستان کے کچھ اضلاع بالخصوص مکران کے علاقوں میں ایک سینکڑوں سال پرانی بہت خوبصورت رسم موجود ہے ۔جس کے مدد۔ امداد۔لین دین۔اسرا جیسے مختلف نام ہیں۔ اس رسم کی خوبی یہ ہے کہ دلہن والے جہیز تیار نہیں کرتے ان کے والدین کو اس پریشانی سے آزادی ہوتی ہے بلکہ لڑکا جو بیروزگاربھی ہوتا ہے اور شادی کا خواہش مند بھی ہوتا ہے ۔وہ اپنے رشتہ داروں،دوستوں،اورقبیلے کے لوگوں سے ملتاہے وہ تمام لوگ لڑکے کی اپنی حیثیت کے مطابق مدد کرتے ہیں مثلا نقدی رقم،بکریاں۔اونٹ ،بیل ،یا اناج وغیرہ دیتے ہیں جس سے لڑکا اپنا جہیز تیار کرتا ہے اور اپنی شادی کے اخراجات پورے کرتا ہے اور ساتھ ساتھ ان ہی روپوں سے اپنا کوئی نہ کوئی کاروبار بھی شروع کرتا ہے۔
اس رسم کا ایک اور حسن یہ بھی ہے کہ لڑکا اپنا کاروبارچلانے کے چند عرصہ بعد ہی اپنے رشتہ داروں ،دوستوں اور قبیلے والوں کو شادی کے لیے لیا ہوا روپیہ وغیرہ وآپس کر دیتا ہے یا دوسرا طریقہ کہ ان کی شادی کے موقع پر لوٹاتا رہتاہے۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اگر ایسی رسم موجود ہے جس سے لڑکی کے والدین کے کندھوں کا بوجھ لڑکا اپنے دوست احباب کی مددسے اپنا فرض سمجھ کر خود نبھتاہے تو ہم اس رسم کو پنجاب خیبر اورسند ھ سمیت پورے پاکستان میں کیوں پرموٹ نہیں کرسکتے ۔
ہمیں جہیز کلچر کی حوصلہ شکنی کے لئے بڑے پیمانے پر ایک مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے اس کلچر کو جڑسے اکھاڑ پھینکے۔ آئیے ہم اپنے گھر سے اس وباء کے خاتمے کاآغاز کریں اورہمیں بلوچستان کے ضلع مکران کی اس رسم (مدد،اسرا،امداد)کو اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھانا ہے جس سے جہیز کلچر کا خاتمہ ہوسکتے۔

Painful Taunts of Dowry/ Jaheez....کم جہیز کے درد انگیز طعنے

جہیز کو لعنت کہنا اور فرسودہ روایات کہنا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے اگر مشکلات آ رہی ہیں یا مسائل پیدا ہو رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کام ہی غلط ہے۔ اس میں جرم ہمارا اپنا ہے کہ ہم نے ہی اس کو مشکل بنا لیا ہے۔
اولاد کی شادی کرنا والدین کے فرائض میں سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش اور دیکھا دیکھی میں جہیز ایک معاشرتی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ شادی میں نکاح اہم ہوتا ہے، جس میں باہمی رضامندی سے دولہا حق مہر ادا کرتا ہے جو اس کی حیثیت کے مطابق مقرر کیا جاتا ہے اور دلہن کے والدین یا سرپرست اس کو کچھ ضروری سامان دیتے ہیں تاکہ یہ اپنے نئے گھر میں استعمال کرے، کسی سے مانگتی نہ پھرے۔ یہ ہے اصل صورت حال جسے ہم نے من مانے مطالبات اور دیکھا دیکھی میں مشکل بنادیا ہے، نتیجتاً بھاری جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں کنواری بیٹھی ہیں، ان کے بالوں میں چاندی اتر رہی ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں کہ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے یا کم ہونے کی وجہ سے بارات واپس لوٹ جاتی ہے، شوہر اپنی بیوی کو جہیز کم لانے کا طعنہ دیتا تھا جس سے دل برداشتہ ہوکر شادی شدہ خاتون نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ، میکے چلی گئی اور اس شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے انکار کردیا ہے اور بعض دفعہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اس طرح بیک وقت دو خاندان جدا ہوجاتے ہیں، ان میں رنجشیں جنم لیتی ہیں اور بسا اوقات دشمنی پیدا ہوجاتی ہے اور معاملہ عدالت و پنچایت تک بھی پہنچ جاتا ہے اور فریقین ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بھی ہوجاتے ہیں۔
ہمارا ملک اسلامی ہے اور ہم مسلمان ہیں، ہمیں اپنے اسلامی اقدار کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ یہ طریقہ کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے کہ لڑکے والے لڑکی والوں سے باقاعدہ فہرست مرتب کرکے جہیز کا مطالبہ کریں کہ ان کی بہو کو جہیز میں یہ چیزیں دی جائیں۔ صاحب حیثیت لوگوں کے لیے یہ فخر کی بات ہوتی ہوگی کہ انھوں نے یہ فرمائش پوری کردی ہے لیکن جو والدین مطلوبہ جہیز دینے کی سکت نہیں رکھتے ان کے لیے مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ وہ بھاری جہیز ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس وجہ سے ان کی بیٹیوں کے رشتے طے نہیں ہوپاتے ہیں اور ان کی عمریں بڑھنے لگتی ہیں۔ یہ صورت حال والدین کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے اور بڑھتی عمر کے ساتھ نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہونے لگتے ہیں جو گھریلو پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں۔
ایسے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں جہاں لڑکیوں کو بیچا جاتا ہے، اس کو کوئی عیب بھی تصور نہیں کیا جاتا۔ والدین لڑکے والوں سے طے شدہ رقم لے کر اپنی لڑکیوں کا نکاح کردیتے ہیں۔ ایسے لڑکی والے بھی ہیں جو نہ تو لڑکے والوں سے جہیز کی خریداری کراتے ہیں اور نہ ہی مرضی کا حق مہر لیتے ہیں۔ ایسے لڑکے والے بھی ہیں جو لڑکی والوں سے جہیز کی فرمائش نہیں کرتے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جہیز نہ تو لعنت ہے نہ ہی برا ہے، البتہ اس کی آڑ میں لوٹ مار لعنت بھی ہے اور برا رواج بھی ہے۔ نہ تو جہیز کی حد مقرر کی جاسکتی ہے اور نہ ہی حق مہر مقرر کیا جاسکتا ہے۔ یہ تو سب کی اپنی استطاعت پر ہے۔ جس کو اﷲ پاک نے جتنا دے رکھا ہے اس کے مطابق وہ حق مہر بھی دے اور اس کے مطابق جہیز بھی دے۔ اب یہ ضروری نہیں کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں یہ یہ چیزیں دی ہیں اور میں نے بھی وہ چیزیں تو لازمی دینی ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دینا ہے، اصل میں یہی وہ خرابی ہے جس نے معاشرے میں ذہنی خلفشار پیدا کر رکھا ہے اور وہ جہیز کو لعنت سمجھ بیٹھے ہیں۔
شادی ایک مذہبی فریضہ ہے اس کو ہم نے ہی مشکل بنایا ہوا ہے بلکہ سنت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق ’’تنگ دستی کو دور کرنے کے لیے شادی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے‘‘۔ کیونکہ شادی کے بعد بیوی اپنی قسمت کے ساتھ آتی ہے اور پھر اولاد ہونے کے بعد اولاد بھی اپنے نصیب کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ اﷲ پاک ہی رزق دینے والا ہے لہٰذا شادی کرنے اور بچے کی پیدائش پر غمگین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
جہاں تک شادی بیاہ میں اسراف کا تعلق ہے تو یہ غلط رواج ہے اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے، اگر اﷲ تعالیٰ نے آپ کو مال سے نواز رکھا ہے تو اس خوشی کے موقع پر غریب و نادار و مسکین کی مالی مدد کریں اس کے بدلے اﷲ تمہاری روزی میں برکت فرمائیں گے۔
شادیاں سادگی سے بھی کی جاسکتی ہیں۔ کم جہیز دے کر بھی کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کس چیز کی کمی تھی؟ دل میں خواہش کرتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر حاضر ہوجاتے۔ زیادہ سے زیادہ جہیز دینا ضروری ہوتا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی لخت جگر کو اتنا جہیز دے دیتے کہ اتنا قیامت تک کوئی بھی نہ دے سکتا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کیا حق مہر دیا وہ بھی آپ علما کرام سے پوچھ سکتے ہیں۔ ہم اپنی ناک کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں اور اس فکر میں نہ پڑیں کہ لوگ کیا کہیں گے تو پھر ہمارے بہت سے اس طرح کے مسائل ازخود حل ہوجائیں گے۔

Divorce / Talaq is Not Necessarily ......طلاق ضروری تو نہیں!

ٹرنگ ٹرنگ ۔۔۔ ہیلو کون؟
ارے امی میں ہوں، او کیسی ہو فرحین بیٹی اور یہ بتاؤ سسرال میں سب ٹھیک ہیں؟
ارے امی ٹھیک تو ہونا ہی ہے آپ کی بیٹی نےصرف ان 15 دنوں میں وہ کام کر دکھائے ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں۔
ارے واقعی! ماشاء اللہ ایسا کیا کردیا میری بیٹی نے جو آج وہ اتنا خوش ہے؟
امی آپ کو تو پتا ہے احسن کی چھوٹی بہن شادی کے بعد کینیڈا چلی گئی ہے اور اب گھر میں صرف ان کے بوڑھے ماں باپ ہیں، وہ بھی کسی کام کے نہیں ہیں۔
کسی کام کے نہیں ہیں کیا مطلب؟
امی جان میرا مطلب یہ ہے کہ ڈیفنس کا یہ اتنا بڑا بنگلہ، یہ گاڑیاں، نوکر چاکر یہ سب تو پھر میرے لئے ہی ہوئے نا؟ وہ دونوں تو بیچارے اپنے کمرے میں پڑے رہتے ہیں ۔
لیکن بیٹی تمہارا شوہر احسن تو اپنے ماں باپ کا بہت فرمانبرادر بنتا ہے۔
اُف او امی جان، اس میں کونسی ٹینشن والی بات ہے، میں بھی شادی کے پہلے دن سے آج تک آپ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چل رہی ہوں اور وہ سب میرے اتنے کام آرہے ہیں کہ مجھے پوری امید ہے کہ بہت جلد احسن اپنے امی ابو کو اولڈ ہاؤس بھجوا دیں گے۔
بس پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، ارے واہ بیٹی تم سوچ نہیں سکتی کہ مجھے کتنی خوشی ہورہی، اور ہاں یہ باتیں میرے اور تمہارے درمیان ہی رہنی چاہئیں، دیکھو اگر تمہارے ابو کو پتا چلا نہ تو وہ مجھ سے بہت ناراض ہوجائیں گے۔
امی آپ کو ابو کی پڑی ہے، آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ میں یہاں پہلے دن سے کس پریشانی میں ہوں، ڈرامے بازی کرکرکے میرا تو دماغ خراب ہو گیا ہے، احسن جیسے ہی گھر آتے ہیں ان کے سامنے ان دونوں بڈھے اور بڈھیا کو کبھی سوپ دینا تو کبھی جوس دینا۔ اُف یہ بھی بھلا کوئی آسان کام ہے؟ لیکن کیا کروں اسی طرح احسن کو احساس ہوگا کہ میں ان کے امی ابو سے بہت پیار کرتی ہوں ۔
فرحین وہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن یاد رکھو احسن پوری طرح تماری مـٹھی میں رہے اور کسی طرح بھی ہاتھ سے نکلنے نہ پائے۔
امی آپ بے فکر رہیں بس جب کوئی بات کرنی ہو تو مجھے بس ایک واٹس ایپ کر دیجئے گا میں دیکھ لوں گی۔
ٹھیک ہے بیٹی اللہ تمہیں تمہارے مقصد میں کامیاب کرے۔
یہ تو صرف ایک مختصر سا مکالمہ ہے، جو شادی کے کچھ دنوں بعد ایک نئی نویلی دلہن اور اس کی ماں کے درمیان ہوا۔ کیسی ماں ہے، جو اپنی بیٹی کو اسی کے گھر کو سنوارنے کے بجائے صرف ان بناء پر ایسے مشورے دے رہی ہے کہ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں تمام جائیداد آجائے، بھلے سے اس کے نتیجے میں اس کا سہاگ ٹوٹے یا بچے، اس سے اس کو کوئی سروکار نہیں، کیا یہ عوامل آج کے ہمارے معاشرے میں نہیں ہو رہے؟ جب مکاری اور عیاری اپنی عروج پر پہنچ جاتی ہے تو پھر معاملات بگڑنے شروع ہوتے ہیں اور اس حد تک بگڑتے چلے جاتے ہیں کہ آخر کار نوبت طلاق پر آکے رکتی ہے ۔
خیر یہ تو ایک پہلو تھا، یہاں میں آپ کو ایک اور پہلو سے روشناس کرانا چاہتا ہو، جو کچھ یوں ہے۔
شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں، کرن کے والد ایک دکان پر کام کرتے ہیں اسی لئے ان سے جتنا ہوسکا انہوں نے خرچہ کیا اور اپنی پیاری بیٹی کو رخصت کردیا۔ اگلے دن کرن اپنے نئے گھر کو سجانے کے خواب بنُنے لگتی ہے، وہ سوچتی ہے کہ اس گھر کو ہیرا بنا دے گی اور کم آمدنی کے باوجود اپنے شوہر کی تنخواہ پر ہی گزر بسر کرے گی لیکن اچانک اس کی ساس کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور کہتی ہیں کرن کہاں ہو؟
جی امی؟ آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا میں خود آپ کے کمرے میں آجاتی آپ نے تکلیف کیوں کی؟
چلو چلو یہ ڈرامے بازی نہ کرو یہ بتاؤ یہ برتنوں کا سیٹ تمہارے گھر والوں نے جہیز کے لئے نیا خریدا تھا یا جو تمہاری ماں اپنے جہیز میں لے کر آئیں تھیں وہی دے دیا؟
کرن گھبراتے ہوئے کہتی ہے نہیں امی جان، ابو نے ایک ایک پائی جمع کرکے سب کچھ نیا لیا تھا۔
اسلم سن رہے ہو اپنی بیوی کی زبان ابھی ایک دن ہوا نہیں ہے اور مجھے اس طرح جواب دے رہی ہے۔
امی میں تو بلکل آرام سے کہہ رہی ہوں کہ یہ سب کچھ نیا ہے۔
اسلم کی ماں کا غصہ مزید بڑھتا ہے جس کے بعد وہ پھر چیخ کے کہتی ہیں ٹھیک ہے لیکن یہ اتنا چھوٹا سا ٹی وی کیوں دے دیا؟ کم از کم 21 انچ کا تو دینا چاہئیے تھا، تم لوگوں نے یہ جہیز نہیں دیا بلکہ ہمارا مذاق اڑیا ہے۔ میرا بیٹا اسلم لاکھوں میں ایک ہے اس کے لئے تم سے کہیں اچھی لڑکی مل جائے گی اور اس گھٹیا جہیز سے اچھا جہیز بھی۔
لیکن امی میرے گھر والے جتنا کرسکتے تھے انہوں نے اتنا کیا ہے۔
اسلم تم اس کی محبت میں اندھے ہوگئے ہو کیا ؟ دیکھتے نہیں ابھی آئے ہوئے ایک دن بھی نہیں ہوا اور یہ لڑکی مجھ سے زبان لڑا رہی ہے۔ ابھی کے ابھی اس کو طلاق دو اور فارغ کرو۔
اسلم ماں کا حکم سنتے ہی فوراً کرن کو طلاق دے دیتا ہے۔ وہ لڑکی جسے اس گھر میں آئے ہوئے ابھی 24گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے تھے وہ طلاق لے کر چلی گئی ۔
ایک سروے کے مطابق آج کل پاکستانی معاشرے میں طلاق کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے پیچھے کوئی ایک نہیں بلکہ بہت سی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ طلاق کا رجحان سب سے زیادہ غریب طبقے میں پایا جاتا ہے۔ شوہر کم آمدنی کے باعث بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری نہیں کر پاتا، جس کی بناء پر لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اور آخرکار نوبت طلاق تک آجاتی ہے۔ وکیلوں کی جانب سے جب اس معاملے پر تحقیق کی گئی تو سامنے یہی عنصر آیا کہ وہ لڑکیاں جو اپنے سسرال آنے کے بعد بھی اپنی ماں کے کہنے پر چل رہی ہوتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ اسی راہ پر انکا شوہر، ساس، سسر اور باقی گھر والے چلنے لگیں یا پھر وہ اپنے شوہر کے ساتھ علیحدہ گھر لے کر بسنا چاہتی ہیں، یہی چیز گھر ٹوٹنے کا سبب بنتی ہے۔
اس طرح کی تمام باتیں لڑکیاں اپنی ماں، بہن یا ٹیوی سیریلز سے سیکھتی ہیں، کیونکہ آج کل آنے والے ٹی وی ڈراموں میں دکھائی جانے والی لڑکیوں کو بلکل آزاد خیال اور تمام تر ذمہ داریوں سے ماورا دکھایا جاتا ہے، پھر یہی چیزیں لڑکیاں اپنے سسرال میں آزماتی ہیں تو نتیجہ طلاق کی صورت میں ان کے سامنے آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے کیسز میں لڑکا صرف اپنے ماں باپ کی سنتا ہے اور بیوی بچوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا جس سے آپس میں تلخیاں بڑھتی ہیں۔
لہذٰا شادی کے بعد لڑکے اور لڑکی دونوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ایسے اپنا گھر بسائیں جس سے خود بخود تمام تر بُری چیزیں ختم ہوجائیں اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب لڑکی رخصتی کے بعد اپنے سسرال ہی کو اپنا گھر سمجھے، نہ کہ وہ سسرال کو بس ایک قلعہ تصور کرلے اور خود کو ایک ایسا ڈپلومیٹ جس کی ذمہ داری یہ ہو کہ وہ بہت چالاکی سے اس گھر پر قابض ہو جائے کیونکہ جب تک لڑکی یہ سوچتی رہے گی، تب تک معاملات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائیں گے۔
اس کے علاوہ مرد کو بھی چائیے کہ وہ عورت کو تمام ترحقوق دے جس کا حق اس کو شریعت اور قانون نے دیا ہے، کیونکہ جب لڑکا صحیح طور پر حقوق کا تعین کرکے اپنی شادی شدہ زندگی گزارنا شروع کرے گا تو زندگی خود بخود بہترین ہوتی چلی جائے گی۔ آخر میں ساسوں کی بھی ذمہ داری ہیں کہ وہ اس چیز کا خیال کریں کہ وہ کسی کی بیٹی کو شادی کرکے اپنے گھر لائی ہیں، اِس لیے دلہن کے کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں اور اگر ابتداء میں وہ ماحول میں گھل مل نہ پارہی ہو تو اُسے وقت دینا چاہیے تاکہ وہ بتدریج اپنے سسرال کو اپنا گھر تصور کرنا شروع کردے، صرف اس بناء پر لڑائی جھگڑا کرنا کے آج روٹی اچھی نہیں بنی یا آج سالن میں نمک کم ہوگیا ہے، بھلا یہ کہاں کا انصاف ہے! جس دن ہمارے معاشرے کی ساسوں کو یہ احساس ہوجائے اور وہ اپنی بہو کو اپنی بیٹی تصور کرنے لگیں تو بس اس دن کے بعد سے اس ملک میں کوئی بہو کچن میں جل کر نہیں مرے گی۔ بقول شاعر؛
پھر بہوجلانے کا حق تمہیں پہنچتا ہے
پہلے اپنے آنگن میں بیٹیاں جلا دینا