Monday, 3 April 2017

...’کاش میری شادی نہ ہوتی‘

جبری اور کم عمری کی شادیاں بنگلہ دیش میں بہت پرانا سماجی مسئلہ ہے۔
گو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ آج بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔
سلہٹ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں یہ سماجی برائی موجود ہے۔
برطانیہ میں رہنے والے زیادہ تر بنگالیوں کا تعلق سلہٹ سے ہے اور برطانیہ میں بھی بنگلہ دیشی برادری میں کم عمری اور زبردستی کی شادیوں کے واقعات پیش آتے ہیں۔
سلہٹ بنگلہ دیش کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ خطہ چائے کی پیداوار کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ حالیہ برسوں میں تارکینِ وطن کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم کی وجہ سے اس علاقے میں خوشحالی آئی ہے۔ لیکن ملک کے اس نسبتاً معاشی طور پر خوشحال علاقے میں بھی جبری اور کم عمری کی شادیوں کا مسئلہ پایا جاتا ہے، جس میں پڑھے لکھے طبقات بھی مبتلا ہیں۔
کم عمری کی شادیوں کی شکار ہونے والی لڑکیوں میں شومی بھی شامل ہیں جن کا اصل نام بوجوہ پوشیدہ رکھا گیا ہے۔


جبری شادیوں سےبہت سی لڑکیوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں
شومی نے بتایا کہ ان کو اس وقت شادی پر مجبور کیا گیا جب وہ 15 سال کی تھیں اور دسویں جماعت میں پڑھ رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی تھیں لیکن خاندان کی طرف سے دباؤ کی وجہ سے انھیں مجبوراً ہاں کرنا پڑی۔
شومی نے بتایا کہ شادی کے بعد جب انھیں پتہ چلا کہ وہ حمل سے ہیں تو ان کے رشتہ داروں نے انھیں زبردستی گھر تک محدود کر دیا گیا اور وہ تین ماہ تک گھر میں قید رہیں۔ انھوں نے کہا کہ زچگی کے چوتھے مہینے میں کہیں جا کر انھیں گھر سے نکلنے کی اجازت ملی۔
سلہٹ کے بہت سے لوگ برطانیہ میں رہتے ہیں لہٰذا جبری شادیوں کے بہت سے واقعات میں بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری بھی ملوث ہیں۔
برطانیہ میں رہنے والے بہت سے بنگلہ دیشی والدین اپنے بچوں کو جبری اور کم عمری میں شادیاں کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ پسند کے خلاف ہونے والی شادیوں کا انجام اکثر اچھا نہیں ہوتا۔


میں ایک ایسی لڑکی سے ملنے گیا جنھیں سیکنڈری سکول میں تعلیم کے دوران ایک بنگلہ دیشی نژاد برطانوی نوجوان سے شادی کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
گو کہ ان کا خاندان پڑھا لکھا اور خوشحال تھا لیکن پھر بھی بہتر مستقبل کے لیے ان کی شادی برطانیہ میں کر دی گئی۔
وہ بھی اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھیں اس لیے ان کو شیلا کا فرضی نام دیا جا رہا ہے۔ جب وہ برطانیہ پہنچیں تو انھیں علم ہوا کہ ان کے شوہر کے ایک عورت سے ناجائز تعلقات ہیں جس سے اس کا ایک ناجائز بچہ بھی ہے۔
شیلا کے ہاں جب بچہ پیدا ہوا تو وہ بنگلہ دیش واپس آ گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں تھیں اور یہ سب کچھ تین چار دن میں ہو گیا اور انھیں سوچنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
شیلا اب بہت بیمار ہیں اور برطانیہ اپنے بچے کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں۔
تاہم بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہریوں میں جبری اور کم سنی کی شادیوں کے واقعات میں حالیہ برسوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سلہٹ میں برطانوی ہائی کمیشن بھی اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
سلہٹ میں خواتین وکلا کی ایک تنظیم کی علاقائی صدر سیدہ شیریں کا کہنا ہے ایسے واقعات کم تو ہوئے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے۔
شیرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور غیر سرکاری تنظیمیں اس بارے میں بہت چوکس اور سنجیدہ ہیں۔ لڑکیوں میں بھی آگہی پیدا ہوئی ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جہاں لڑکیوں نے اپنے دوستوں کو مطلع کر دیا اور انھوں نے شادیاں رکوا دیں۔ لیکن غریب اور دیہاتوں میں بسنے والے طبقات میں اب بھی یہ سماجی برائی موجود ہے اور ابھی ایسے واقعات تسلی بخش حد تک کم نہیں ہوئے۔
سلہٹ شہر میں شادیوں کا اندراج کرنے والے میاں الدین احمد کا کہنا ہے اب برطانیہ سے بنگلہ دیشی اپنے بچوں کی شادیوں کے لیے بنگلہ دیش نہیں آ رہے جس طرح ماضی میں آتے تھے۔
لیکن وہ لڑکیاں جو کم عمری میں زبردستی کی شادی کا شکار ہوئی ہیں ان کی ساری زندگی اذیت بن جاتی ہے۔ شومی اور شیلا دونوں کو ایسے ہی تجربے سے گزرنا پڑا۔ شادی کے دس سال بعد بھی شیلا سوچتی ہیں کہ اگر ان کی کم عمری میں زبردستی شادی نہ کی جاتی تو آج ان ی زندگی کتنی مختلف ہوتی۔
شیلا کہتی ہیں: ’اگر مجھ میں اتنی جرات ہوتی کہ میں نہ کر سکتی۔ میں ہر روز اور ہر وقت یہ سوچتی ہوں کہ کاش میں یہ کہہ سکتی کہ میری شادی کی عمر نہیں ہے اور میرے گھر والوں نے عقلمندی سے کام لیا ہوتا تو میری پڑھائی مکمل ہو گئی ہوتی اور آج میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی۔ میری زندگی تباہ ہو گئی اور اب میں اور میرا بچہ دونوں اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔‘

Thursday, 30 March 2017

Tum Karti Hi kiya Ho....تم کرتی ہی کیا ہو؟

یہ جو کچھ بھی ہے، میری وجہ سے ہے، میں نے دن رات تمہارے اور بچوں کے لئے ایک کیا۔ محنت کی، مشقت کی، لوگوں کی باتیں سنیں، صبح منہ اندھیرے گھر سے نکلا تو رات کو منہ اندھیرے گھر پہنچا۔ نہ دن دیکھا نہ رات۔ اِس گھر کے لئے، تمہارے لئے اور بچوں کے لئے اپنی زندگی کے بہترین دن وقف کردئیے۔ تمہیں ہر ہر آسائش دی، اچھے سے اچھا کھانا، اچھے سے اچھا پہننا، آج تم لوگ جو ’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘ پر اتراتے ہو یہ ایسے ہی دنوں میں نہیں ہوگیا اِس میں میری ایک ایک لمحے کی فکر، سوچ اور کوشش شامل ہے، میری دور اندیشی اور وژن شامل ہے، پر تمہیں کیا معلوم کہ پیسہ کمانا آسان نہیں ہے۔

اور تم ۔۔۔

تم آج کہہ رہی ہو کہ ’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے؟‘

تمہارا کردار ہی کیا ہے؟ جھاڑو پونجھا لگانا کونسا مشکل کام ہے؟

ویسے بھی گھر کی صفائی، کپڑے دھونا، استری کرنا، صبح کا ناشتہ بنانا، یہ سب کام تو فضلاں کرتی ہے، خواجہ رفیق الزماں نے ناشتہ ٹیبل پر ہی چھوڑا، ہینڈ بیگ لیا اور دروازہ زور سے پٹخ کر آفس چل دئیے۔

خواجہ رفیق الزماں میرے والد، ایک کامیاب بزنس مین، کاروباری حلقوں میں جن کا طوطی بولتا ہے۔ شائستگی، کلام کی عمدگی اور معاملہ فہمی جن پر بس ہے۔ نوجوان جن سے متاثر ہو کر کاروباری گر سیکھنے آتے ہیں۔ خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز کے مالک، جن کا کاروبار ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔

اُنہیں ہم نے کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا لیکن آج میری والدہ مہرالنساء نے ناشتہ کی میز پر مذاق میں یہ کہہ دیا کہ،

’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے‘

یہ کہنے کی دیر تھی اور بس اُن کا ردِعمل ہم سب کے لئے حیرت انگیز تھا۔ میری والدہ مہرالنساء نے یہ الفاظ خوش مزاجی میں کہے مگر ابو پر جیسے قیامت بن کر گرے، پھر جو کچھ انہوں نے کہا وہ سب امی نے خاموشی سے سُنا، وہ چپ رہیں آگے سے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ بس دو آنسوؤں کے قطرے اُن کی آنکھوں سے نکلے اور لڑھکتے ہوئے اُن کے دوپٹے میں جذب ہوگئے۔

ابو آفس جاچکے تھے، بھائی کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ امی نے ناشتے کی میز سے برتن سمیٹے، کچن میں رکھے اور اپنے کمرے میں چلی گئیں، میں اِن کی حالت کو سمجھ سکتی تھی کہ اُن پر یہ الفاظ ’تم کرتی ہی کیا ہو؟‘ قیامت بن کر ٹوٹے ہوں گے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ آج جو شان و شوکت تھی وہ ابو کی محنت، ذہانت اور کاروباری سمجھ بوجھ کی وجہ سے تھی مگر یہ بھی سچ تھا کہ ابو کی کامیابی کے پیچھے امی کی کوششوں کا دخل تھا۔ آج وہ کامیاب بزنس مین تھے، اُن کا بیٹا لمز سے ایم بی اے میں گولڈ میڈل یافتہ تھا، اُن کی بیٹی کی گھر داری اور تربیت کا ذکر زبان زدِ عام تھا اور اُن کے گھر کی سجاوٹ و صفائی ستھرائی کی اگر سب تعریف کرتے تھے تو یہ سب آنٹی ’’فضلاں‘‘ کے سُگھڑ پن اور سمجھداری کی وجہ سے نہیں بلکہ مہرالنساء کی محنتوں اور سلیقہ شعاری کا نتیجہ تھا۔ مگر جب عمر بھر کی ریاضت کو کوئی ایک لمحے میں رد کردے تو انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے، اُسے اپنی بے وقعتی کا بے پناہ احساس ہوتا ہے، اُسے اپنے گزرے ماہ و سال رائیگاں لگتے ہیں، اُسے اپنی زندگی ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ میں چپکے چپکے دبے قدموں امی کے کمرے میں گئی تو امی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے بیٹھی ہوئیں تھیں۔ میری آہٹ محسوس کرکے انہوں نے آنکھیں کھولیں اور آہستہ سے بولیں آؤ عینی بیٹا بیٹھو، میں اُن کے ساتھ لپٹ گئی، میری آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوگئی، بولیں بیٹا کیوں روتی ہو؟

بیٹا مردوں کو غصہ آتا رہتا ہے مگر ہمیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے تبھی تو گھر بنتے ہیں۔ وہ گھر سے باہر دھوپ، گرمی میں مارے مارے پھرتے ہیں، اچھے بُرے ہر طرح کے لوگوں سے اُن کا واسطہ  پڑتا ہے، پیسہ کمانے کے لئے ٹکے ٹکے کے لوگوں کی باتیں سننا پڑتی ہیں، دن رات ایک کرنا پڑتا ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنی محنت سے کمائے ہوئے پیسے ہم پر خوش دلی سے خرچ کرتے ہیں، ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں، ہمیں احساسِ تحفظ دیتے ہیں، ہمیں تو بس اُن کے پیسے کو طریقے سے خرچ کرنا ہوتا ہے، اُن کی نسلوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے۔ میاں بیوی مل کر ہی گھر بناتے ہیں، معاشرہ سنوارتے ہیں۔ بیٹا یہ کسی بھی معاشرے، خاندان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اُن میں سے کسی ایک کو بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، اگر نہیں کریں گے تو یہ اکائی ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔ سب کچھ بِکھر جائے گا، سوائے زندگی بھر کی آہوں کے، کچھ نہیں بچتا۔

مگر امی ہمیں ہی کیوں؟

ہمیں ہی کیوں برداشت کرنا پڑتا ہے؟ ہر بار عورت ہی کیوں قربانی دے؟

مرد کیوں گھر کے لئے قربانی نہیں دیتا؟

دیکھو بیٹا! تمہاری ماں ڈگری یافتہ نہیں ہے، بس ابا جی نے نماز کے سبق اور قرآن پاک کی تعلیم گھر پر دی تھی مگر تمہاری نانی نے میری تربیت بہت اچھی کی، وہ کہتی تھیں مہرالنساء دیکھ مرد کو اللہ تعالیٰ نے کمانے کی ذمہ داری دی ہے وہ تمہارے کھانے پینے، کپڑے لتے، تمہاری چھت کا ذمہ دار ہے اور اِن ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دیتا ہے مگر اپنے بیوی بچوں کو گرم ہوا نہیں لگنے دیتا، کسی کو آنکھ اٹھا کر اپنے گھر والوں کی طرف نہیں دیکھنے دیتا۔

جبکہ عورت کو اللہ تعالیٰ نے گھر کی ذمہ داری دی ہے، اُسے اپنے شوہر کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا ہوتا ہے، اُسے اُس کی دلجوی کرنی ہوتی ہے، وہ پریشان ہو تو اُس کی ہمت بندھانی ہے، اُسے دنیا والوں سے مقابلہ کرنے کے لئے دوبارہ کھڑا کرنا ہوتا ہے، اُس کی عزت کی حفاظت کرنی ہوتی ہے، اُس کی اولاد کی بہتر پرورش کرنی ہوتی ہے اور مہرالنساء یہ سارے کام آسان نہیں ہیں۔ خدا تخلیق کار ہے تو ماں میں بھی اُس نے ایک تخلیق کار کی صفات رکھی ہیں، وہ نو ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں سنبھالے پھرتی ہے۔ اُس کے جنم پر درد سہتی ہے، اُس کی اِس کی ایک ایک قلقاری اور ایک ایک چیخ پر لوٹ پوٹ ہوتی ہے، وہ اِس کے بات کرنے تک ڈھیروں باتیں کرتی ہے، بچہ چلنے تک ہزاروں بار لڑکھڑاتا ہے تو وہ ماں ہی ہوتی ہے جو اُسے چلنے کے قابل بناتی ہے۔ عینی میں تو ایک بات ہی کہوں گی کہ عورت گھر کے لئے قربانی اس لئے دیتی ہے کہ یہ صلاحیت اِس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ہے، تو جو مالک ہوتا ہے، جو ذمہ دار ہوتا ہے وہی قربانی دیتا ہے۔

رب العزت نے ہمیں یہ ہمت دی ہے، برداشت کی طاقت دی ہے، تو یہ اُس کا کرم ہے۔ باقی جو خواتین گھر کے معاملے میں قربانی نہیں دیتیں وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کردیتی ہیں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی برباد کردیتی ہیں۔ میں نے خواجہ صاحب کو صبح جو کہا وہ غلط نہیں تھا، انہیں اِس بات کا احساس ہوگا ضرور جلد یا بدیر۔

عینی نے سوچا واقعی عورت ایک آرٹسٹ ہوتی ہے، وہ بڑے سلیقے سے ساری کڑیاں جوڑتی ہے، سارے رنگوں کو کینوس پر ایسے پھیلاتی ہے کہ گھر جیسا گلشن بن جاتا ہے، وہ ایک تخلیق کار ہوتی ہے اور تخلیق کار اپنی تخلیق کی گئی جنت کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوتا ہے۔ اُسے آج جواب مل گیا تھا کہ گھر کے لئے ہمیشہ عورت ہی کیوں قربانی دیتی رہی ہے اور دے رہی ہے۔

خواجہ رفیق الزماں ناشتہ کی ٹیبل سے غصہ میں جب گاڑی کی طرف بڑھے، تو بوڑھا فضل حسین بھانپ گیا صاحب کے تیور کچھ ٹھیک نہیں، اُس نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا، صاحب بیٹھ گئے تو اپنی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کردی۔ فضل حسین اُس وقت سے خواجہ رفیق الزماں کے خاندان کے ساتھ وابستہ تھا جب وہ آٹھویں جماعت میں تھے، خواجہ صاحب اُس کا بے حد احترام کرتے تھے، خواجہ رفیق الزماں اُس کے ہاتھوں میں پلے بڑھے تھے۔

بوڑھے ملازم نے پوچھا صاحب طبیعت ٹھیک ہے تو خواجہ رفیق الزماں جیسے پھٹ پڑے، فضل حسین اپنے گھر کے لئے سب کچھ کرو مگر کسی کو احساس ہی نہیں ہوتا۔ آج ’’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘‘ کا اگر نام و مقام ہے تو وہ میرے دم خم سے ہے، مگر مہر النساء صاحبہ جنہوں نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا اور جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ’’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘‘ کتنے قسم کے بزنس سے وابستہ ہے، وہ بھی کہہ رہی ہیں کہ

’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے‘۔

فضل حسین مسکرایا اور معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا، وہ گویا ہوا صاحب جی بات سیدھی سی ہے، اِن ساری کامیابیوں کے پیچھے آپ کی محنت، دیانت اور ذہانت ضرور شامل ہے مگر آپ کو کامیاب بنانے کے پیچھے بیٹی مہرالنساء ہی ہیں۔ جب آپ کو گھر سے بھائیوں نے نکال دیا اور والدین کے ترکے میں سے آپ کو کچھ بھی نہ ملا تو وہ بی بی صاحبہ ہی تھیں جنہوں نے آپ کو کپڑے کا کاروبار کرنے کا کہا تھا، پھر اپنا زیور بیچ کر آپ کو چھوٹی سی دوکان بنانے میں مدد کی اور ہر مشکل گھڑی آپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ آپ کے پاس وقت نہیں تھا مگر انہوں نے بچوں کی بہترین تربیت کی، رشتہ دار جو آپ سے بیر کھاتے تھے اُن کے ساتھ تعلقات بنائے، آپ کو خاندان میں دوبارہ ایک عزت ایک مقام دلوایا۔ یہ باتیں مجھے نہیں کرنی چائیے، مگر آپ کو میں نے اپنے ہاتھوں پالا پوسا ہے اِس لئے یہ ضرور کہوں گا یہ مسئلہ آپ کا اور بی بی صاحبہ کا نہیں بلکہ ایک ’کمانے والے‘ اور ایک ’گھر چلانے والے‘ کا ہے۔

صاحب جی! لوگوں کی نظروں میں کمانے والا ہوتا ہے، اُسی کی کوششیں ہوتی ہیں، اُسی کی قربانیاں ہوتی ہیں مگر گھر چلانے والے کی قربانیاں صرف کمانے والے کو معلوم ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ کمانے والا تعریف و توصیف کے اُس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کی نظر میں گھر چلانے والی ہستی کی اہمیت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ اِس کی ساری عمر کی ریاضت کو ٹھکرا دیتا ہے حالانکہ اُسے دنیا کی نہیں صرف اُسی کمانے والے کی ستائش کی ضرورت ہوتی ہے۔

خواجہ رفیق الزماں نے جب فضل حسین کی باتیں سنیں تو دل ہی دل میں شرمندہ ہوئے، اُنہیں مہرالنساء کی وہ تمام قربانیاں، وہ گھر کے لئے کی گئی محنت، سب کچھ اُن کی نظروں کے سامنے گھومنے لگا۔ اِنہی خیالوں میں وہ آفس پہنچے تو اُس وقت تک اپنی ساری زندگی اور اُس میں مہرالنساء کے کردار کا احاطہ کرچکے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں اُن کا بیٹا خواجہ وحید الزماں بھی آگیا، اُس کے اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے کے ہر انداز میں اُس کی ماں کی جھلک تھی۔ وہ بتانے لگا کہ اُس کا وزٹ بہت کامیاب رہا اور ماشاء للہ امی کی دعاؤں سے ڈیل فائنل ہوگئی ہے۔

خواجہ صاحب جو آفس آتے ہی کام میں لگ جاتے تھے آج گم سم بیٹھے تھے۔ دن گیارہ بجے خواجہ وحید الزماں کو ساتھ لیا مہرالنساء کے لئے شاپنگ کی اور سیدھے گھر پہنچ گئے۔ عینی بھائی اور ابو کو آج اتنی جلدی گھر پر دیکھ کر حیران رہ گئی۔

خواجہ صاحب اپنے کمرے میں گئے، مہرالنساء سے نظروں ہی نظروں میں معافی مانگی اور ساڑھی اُن کے سامنے رکھ دی۔ مہرالنساء کا چہرہ ایسے کِھل اُٹھا جیسے کسی نے ٹین ایج میں اظہارِ محبت کیا ہو۔ جب دونوں باہر آئے تو باغ و بہار ہو رہے تھے۔ خواجہ وحید الزماں والدہ سے لپٹ گئے اور عینی دھیرے سے مسکرا دی۔

شام کے وقت پاکستان مونومنٹ سے پورا اسلام آباد ساون کی برکھا رُت میں اجلا اجلا لگ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور جواد عینی سے پوچھ رہا تھا اب ایم بی اے کے بعد تمہارا کیا ارادہ ہے؟

عینی نے دور وسعتوں میں کھوئے ہوئے جواب دیا ’’آرٹسٹ‘‘ بننے کا۔

Wednesday, 29 March 2017

Qabuliyat..... “قبولیت”

ظفر اور مقبول اُپر اتلی کے دو بھائی تھے۔ ظفر کی پیدائش کے دو سال بعد ہی اس کا باپ مرگیا اور مقبول اپنے باپ کی موت کے کچھ ماہ بعد پیدا ہوا تو دوران زچگی ماں مرگئی۔ یتیمی اور غریبی میں بیماریاں تو بس بہانہ ہوتی ہیں، اصل میں تو امیر روٹی کھاتے ہیں اور غریبوں کو روٹی کھا جاتی ہے۔ سو مقبول کی ماں بھی راہئ ملکِ عدم ہوئی۔
ہمارے معاشرے میں غریبی بذات خود ایک گالی ہے اوپر سے یتیم اور مسکین، دونوں بھائیوں کی خوب مٹی پلید ہوئی۔ ایک دُور کے ماموں اپنے گاؤں لے گئے اور روتے دھوتے ظفر اور مقبول 7 اور 5 سال کے ہوگئے۔
آج اُن کے دور پرے کے ماموں نے شہر میں انہیں ایک کوٹھی میں ملازم رکھوا دیا، مہینے کے مہینے آکر وہ تنخواہ لے جایا کریں گے اور یہاں بچے مفت میں کھا پی لیں گے اور کام کا سلیقہ بھی سیکھیں گے۔
ظفر کی ڈیوٹی صاحب کی بِلّی کی حفاظت پر لگی تو مقبول کی ڈیوٹی صاحب کے چھوٹے بیٹے کی دیکھ بھال پر جو بمشکل ساڑھے تین سال کا تھا۔ مقبول ’’چھوٹے صاحب‘‘ کو رات بھر جُھولے میں گھماتا رہتا اور کچھ نہ کچھ کھلاتا رہتا کہ رونے کی آواز سے صاحب اور مالکن کی خلوت میں اثر نہ پڑے اور ستارے 5 سال کے کم سِن غلام کو دیکھ کر ہنس ہنس کے غائب ہوتے رہتے۔
صاحب جی کوئی بڑے گورنمنٹ آفسر تھے، شخصیت میں رچی فرعونیت اور طبیعت میں بھری کرختگی اتنی تھی کہ کوئی لفظ نہ بول سکے، دولت اتنی کہ پھاوڑوں کاٹے کم نہ ہو۔
دونوں بھائیوں کی تو جان جاتی تھی اگر صاحب کی نظر بھی پڑجائے۔ ایک دن ظفر سے غلطی ہوئی کہ بِلّی کو دودھ ذرا گرم دے دیا، وہ اُچھل کر بھاگی تو صاحب جی نے دیکھ لیا اور کھولتے ہوئے دودھ کا برتن ظفر کے چہرے پر اُنڈیل دیا۔
مقبول رات بھر کپڑے سے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے بھائی کے آبلے صاف کرتا رہا۔ جس جسم پر پھول کی چھڑی نہ لگی تھی اس پر یہ دن بھی آنا تھا۔ پتہ نہیں جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے والے انسانوں کا ڈسنا کب چھوڑیں گے؟ مقبول کی ڈیوٹی چھوٹے صاحب کی دیکھ بھال کی وجہ سے مالکن کے آس پاس ہی ہوتی۔ مالکن بھی غصے کی تیز تھیں، جسم کے اعضاء کی ساخت ایسی کہ ہنسی کی پوٹ مگر اپنے حسن پر اتنا زعم کہ شہزادیاں شرمائیں، وہ شاید بہری بھی تھیں کہ اپنے علاوہ کسی کی نہیں سنتی تھیں۔
آج رمضان کی ستائیسویں رات تھی، ہر ایک نے زرق برق لباس پہنے ہوئے تھے، صاحب جی شلوار قمیض میں گھوم کر مہمانوں کو افطار کے لئے بٹھا رہے تھے، اور برابر والی مسجد میں رت جگے کی تیاریاں اور لاؤڈ اسپیکر کی ٹیسٹنگ جاری تھی۔ دونوں بھائیوں کی حالت کام کر کرکے ردّی ہو رہی تھی۔ اُٹھتے جوتی بیٹھتے لات۔ ان کی اتنی ہستی ہی کب تھی کہ کوئی اُن پر بھی رحم کرے۔ دونوں بھائیوں کے دلوں کی گفتگو صاحب جی کی نغمہ سخی میں دفن ہوگئی۔ کیا مجال کسی کی کہ ایسی ایمان انگیز تقریب کو اُچٹا کر کچھ کہنے کی جُرأت کرے۔ ایک مہمان نے عشاء کے بعد چپکے سے دونوں کا روزہ کھلوا دیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسا انہوں نے نیکی کے شوق میں کیا یا کسی گناہ کی شرمندگی میں۔
مالکن نے مقبول کو آواز لگائی کہ وہ جلدی آ کر چھوٹے صاحب کا خیال رکھے تو وہ جلد نہا دھو کر رات کے وعظ کے لئے بن سنور جائیں۔
مقبول نے چھوٹے صاحب کو بہلانے کے لئے بِلّی کا پنجرہ سامنے رکھ دیا۔ بِلّی آج صبح سے بند تھی مہمانوں کی وجہ سے، اس لیے بڑی خونخوار ہو رہی تھی۔ چھوٹے صاحب نے بھی آج بِلّی کو زِچ کرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔ کبھی دم کھینچتے تو کبھی مونچھوں کے بال توڑتے، کبھی آنکھ میں اُنگلی مارتے تو کبھی ٹانگ کھینچتے۔ مقبول نے بار ہا منع کیا مگر اس کی تو زندگی میں کوئی بات قبول نہ ہوئی جو آج ہوتی۔ جہالت کے کرشمے اور امارت کے زعم بیکار نہیں جاتے مگر نقّار خانہ میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔
بِلّی بھی آخر بِلّی تھی کہاں تک صبر کرتی۔ کسی غریب کا بچہ تو تھی نہیں کہ زندگی کی ہر شرارت کا انتقام چپ سے لیتی، اس نے آخر چھوٹے صاحب کے چہرے پر پنجہ مار ہی دیا۔ کچھ خراشیں اور ایک خون کی قلقاری چھوٹے صاحب کی چیخوں کے لئے کافی تھی۔ مالکن جیسے تیسے بھاگ کر پہنچیں اور خون دیکھ کر تو ان کی جان ہی نکل گئی۔ ایک ہاتھ سے چھوٹے صاحب کو سنبھالا تو دوسرے ہاتھ سے مقبول کا گریبان پکڑا۔ وہ بے چارہ اس ناگہانی پر جیسے ساکت ہی ہوگیا تھا۔ مالکن نے گلا پھاڑ پھاڑ کے چیخنا شروع کیا، ایک کھِلائی بھاگ کر آئی تو چھوٹے صاحب کو اس کے حوالے کیا اور بل پڑیں بے ماں کے بچے پر۔ بِلّی کا پنجرہ اُٹھا کر منہ پر مارا تو ایک سلاخ کان کے آر پار ہو گئی، چہرے پر اِتنے تھپڑ مارے کہ طباق سا چہرہ سیپی رہ گیا۔ گھر کے درودیوار تک حیران تھے کہ ایک ماں ہو کر بِنا ماں کے بچے سے یہ سلوک کیونکر روا رکھا۔ اِس اثناء میں بڑے صاحب بھی آگئے۔ ظفر بھی چیخ و پکار سن کے آپہنچا مگر اس کی اتنی ہمت کہاں کہ وہ کسی کا ہاتھ روک سکے۔ جو عمر کارٹون دیکھنے کی ہوتی ہے اس میں جلّاد دیکھ رہا تھا۔ صاحب جی تھے تو پچاس کے آس پاس مگر بیگم کی شکایتوں پر جنون طاری ہوگیا، کچھ لوگ ویسے بھی بڑھاپے میں پہنچ کر جوان ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے گھوڑوں کو مارنے والی بید نکالی اور طاقت کی مشق مقبول کی ننھی کمر پر کرنے لگے۔ مار مار کے خونم خون کر دیا اور گالیوں کی وہ تقریر کہ شبِ قدر بھی حیران رہ گئی ہوگی۔ جب صاحب جی کے ہاتھ رُکے تو مقبول تقریباً مرچکا تھا، انہوں نے اُسے اُٹھا کر دوسری منزل سے نیچے پھینک دیا۔
ظفر بھاگتا ہوا گیا اور بہ مشکل مقبول کو اُٹھا کر گھر کے باہر مسجد کے پچھواڑے بنے قبرستان میں چلا گیا۔
صاحب جی اور مالکن چھوٹے صاحب کی مرہم پٹی اور دلجوئی میں لگے، اِدھر مولوی صاحب نے مائیک کا گریبان چاک کیا، مریدوں پر سکّہ جمانے کے لئے شبِ قدر کی وہ وہ کرامات کہ لگے کہ بیان سن کر ہی بخشے جائیں گے۔ اپنی کرامات کا وہ ذکر کے اللہ سائیں کے سانجھی اور حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی قریبی عزیز معلوم ہوں۔
مقبول اپنے بھائی کے ہمراہ ایک بوسیدہ قبر پر لیٹا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا، اور قریب میں نیم کے درخت کے وہ نمک خوار پتّے جنہیں ظفر کبھی کبھار پانی دے دیتا، اپنی بے بسی پر ماتم کرتے ہوئے شاخوں کو پھیلا رہے تھے کہ حشر میں ان بچوں پر سایہ کرنے والوں میں لکھے جاسکیں۔
ظفر نے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا کو ہاتھ اُٹھائے:
یا ذوالجلال والاکرام، یا رب العالمین، اے رات کی تاریکی میں پہاڑوں پر چلنے والی چیونٹی کے پاؤں کی آواز سننے والے سمیع و بصیر، ایک گناہگار بندہ، ایک نابکار غلام، تیری سرکار میں تیرے دربار میں تیرے کرم کا طالب، تیرے رحم کا مُلتجی، ذلیل و خوار ہوگیا ہے۔ زمین و آسمان کے مالک، جنگل و بیابان کے بادشاہ، انسانوں و حیوان کے رزاق، شبِ قدر کے رب، کوہ و دریا کے انداتا، تیرا نام بڑا، تیرے کام بھلے، تیرا رحم وسیع ، تیرا کرم عمیق، میری فریاد کو پہنچ، میری دہائی کو سُن، میری تڑپ کو آ، میرے صبر کو تول، میری التجا کو سُن، میری پکار کو قبول کر، ،خشکی و تری کے شہنشاہ میری عزت بچا، میری آبرو رکھ، تو غفور و رحیم ہے تو علیم و خبیر ہے۔ پناہ دے کُل جہانوں کے سرتاج پناہ دے۔ بے شک تیری پناہ بڑی چیز ہے۔ دنیا کی پریشانی سے بچا۔ آفت ناگہانی سے بچا۔ بھوک کے عذاب سے بچا۔ تکلیف کی انتہا سے بچا۔ مصیبت کی ابتداء سے بچا، آنکھوں کو چین دے، روح میں سکون دے، عمر میں برکت دے، مجھے میرے بھائی کا بدلہ دے، کسی کی نہ سنیو میرے مالک، پورے ملک میں نہ سنیو، اس مقبول کی زندگی میں کوئی قبول نہ ہوئی۔ آج اس کی موت پر قبول کرلے۔ یہ لاش اے مالکِ پروردگار، اے دھتکارے ہوؤں کے رب، اے لاوارثوں کے وارث، اے یتیموں کے ملجا، اے بے نصیبوں کے پالنہار، یا ذوالجلالِ والاکرام میں تمام لوگوں کی دعاؤں اور تیرے بیچ رکھتا ہوں۔ یا اللہ یہ غریبوں کو کھانا نہیں دیتے، جاہلوں کو تعلیم نہیں دیتے، یتیموں کا خیال نہیں رکھتے، مسکینوں سے شفقت سے پیش نہیں آتے، ان کی ایک نہ سنیو میرے مالک تجھے تیری خُدائی کا واسطہ، وسیلہ تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ تُو سُن لے میرے مالک، تُو تو وہیں تھا، سب دیکھ رہا تھا، بِلّی جتنا بھی نصیب نہیں ہمارا۔ آج نہ سنیو، کسی کی نہ سنیو، تیری منتیں کرتا ہوں۔ تیرے سامنے ناک رگڑتا ہوں۔ اِس پھٹی جھولی کا واسطہ، اِس بھوکے پیٹ کا واسطہ، اِس نکلتی ہوئی جان کا صدقہ، قبول کرلے، تجھے تیری اُن صفات کا واسطہ جن کا مجھے پتہ کوئی نہیں آج مان لے۔
مقبول کی زبان سے ایک نحیف آمین نکلی اور اُس کی روح اس بے قرار بدن سے پرواز کرکے اس کے پاس چلی گئی جو سب کو قرار دیتا ہے۔
ظفر نے اس کے ماتھے پر آخری بوسہ دیا اور مسجد کی طرف چل پڑا۔ تہجد کا وقت تھا، مولوی صاحب بیان لپیٹ رہے تھے، کہنے لگے، حضرات یقین جانیئے، اللہ نے سُن لی، آپ سب کو آپ کی مرادیں بس مل گئیں، گناہوں سے ایسے پاک ہوئے کہ ابھی جنے گئے ہو۔ خوش و خرم گھر جائیں اور سحری کھائیں۔
مسجد کی آخری صف میں بیٹھے ہوئے ظفر کے چہرے پر نجانے کہاں سے مسکراہٹ آ گئی اور اس نے زور سے کہا۔
آمین!

Jin Kay Saibaan Toot jaein....جن کے سائبان ٹوٹ جائیں۔۔۔

خدانخواستہ والدین میں علیحدگی یا طلاق ہو جائے، تو سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ بچوں کے لیے والدین ایک سائبان کی مانند ہوتے ہیں۔
اگر ان کا رشتہ ٹوٹ جائے، تو بچے خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ عدم تحفظ کا احساس بڑھ جاتا ہے اور مستقبل میں عموماً ایسے افراد اپنے رشتوں کو نبھانے میں اور عمل زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسے والدین پر خاصی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی شخصیت کو ٹوٹ پھوٹ سے بچائیں۔ ان کے اعتماد کو مجروح نہ ہونے دیں، جب کہ عموماً علیحدگی، طلاق یا خلع کی صورت میں والد، والدہ دونوں اپنا غصہ بچوں پر نکالتے ہیں۔
ماہرین نفسیات اس ضمن میں ایسے جوڑوں کو خاص تاکید کرتے ہیں کہ طلاق، خلع یا علیحدگی کی صورت میں اپنا غصہ، نفرت، انتقام جیسے منفی جذبات کا بچوں کے سامنے اظہار نہ کریں اور نہ ہی اپنے منفی جذبات کی آگ کو بچوں پر تشدد سے ٹھنڈا کریں۔ زوجین کے مابین ہونے والے اختلافات میں بچے بے قصور ہوتے ہیں۔ معصوم بچوں کے لیے والدین کے اختلافات میں ان کو بہت زیادہ اذیت سہنی پڑتی ہے، بالخصوص جب انہیں ماں یا باپ، کسی ایک سے جدا ہونا پڑتا ہے۔
یہ صورت حال ان معصوم ذہنوں کے لیے ناقابل فہم ہوتی ہے۔ وہ اپنے ذہن میں جنم لینے والے چھوٹے چھوٹے سوالات کو لبوں پر لانے کی جسارت نہیں کر پاتے اور خود ہی ان کے جواب ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ ان کا بچپن دل و دماغ میں پیدا ہونے والی الجھی گتھیوں کو سلجھانے کی ناکام کوششوں میں گزر جاتا ہے۔ سہمے سہمے یہ بچے احساس کمتری و محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنی ذات سے جنگ میں یہ بچے عملی زندگی میں خاطر خواہ مقام حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
در حقیقت بچے اس تلخ حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ والدین میں سے دونوں یا کسی ایک یا پھر خود کو اس تمام صورت حال کا ذمے دار سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایسے بچے عموماً اپنی کیفیات احساسات یا جذبات کا اظہار نہیں کر پاتے اور اندر ہی اندر سلگتے رہتے ہیں۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ یہ درد ان کے رشتوں اور زندگی کے دیگر اہم فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عموماً والدین کی طلاق کے بچوں پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
٭خود کو قصور وار سمجھنا
اکثر بچے کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ امی اور ابو کے درمیان میری وجہ سے علیحدگی ہوئی۔ وہ والدین کے مابین ہونے والے جھگڑے، گفتگو اور اختلاف کو اپنی ذات سے منسوب کرنے لگتا ہے۔ بالخصوص اس وقت، جب اس کی ذات سے جڑے کسی مسئلے پر ماں باپ کے درمیان تلخی بڑھی ہو۔ بعض اوقات میاں بیوی میں ہم آہنگی نہیں ہو پاتی، تو پھر ظاہر ہے کہ وہ بچوں پر اپنے اپنے حکم چلانے کے لیے بھی آمنے سامنے آجاتے ہیں۔ بچہ طویل عرصے تک اسی احساس کے ساتھ جیتا ہے عموماً ایسی صورت حال میں خاندان کے بزرگ، بچوں سے پیار محبت کے ذریعے اس کو احساس ندامت یا احساس جرم کے خول سے باہر نکلنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ بصورت دیگر ماہرین نفسیات بھی بچے کے اندر چھپے درد سے  چھٹکارا دلاسکتے ہیں۔
٭والدین کے اچھے یا برے ہونے کا انتخاب
طلاق دونوں فریقین کے مابین نفرت اور بعض کا خاتمہ نہیں بلکہ آغاز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ بچے سے اپنے سابقہ شریک حیات کے متعلق بچے کے سامنے برائیاں، نفرت کا برملا اظہار کرتے ہیں، جو بچے کے اندر ایک کشمکش کا آغاز کر دیتی ہے۔ وہ اندرونی خلفشار کا شکار ہو جاتا ہے کیوں کہ بچہ اپنے ماں اور باپ دونوں سے محبت کرتا ہے، لہٰذا وہ کس کو اچھا سمجھے اور کس کو برا۔ بعض صورتوں میں بچے کو والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ بچہ اس وقت ایک نفسیاتی کشمکش سے گزر رہا ہوتا ہے، جو اس کی شخصیت کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر رہی ہوتی ہے۔ والدین اس احساس سے بے خبر رہتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک ماں اپنے سابقہ شوہر یعنی بچے کے والد کے متعلق اتنی تلخ باتیں بچے کو بتاتی ہے، کیوں کہ زوجین کے مابین اختلافات کی بنا پر طلاق ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ اپنی نفرت کا زہر اپنی اولاد کے سامنے بیان کرتی ہیں۔ اس صورت حال میں بچہ اس کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے کہ وہ والد جو مجھ سے پیار کرتا تھا۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ اگر بچہ والد سے اپنی ہم دردی کا اظہار کرنا چاہتا ہے، تو اس کو یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ اس سے والدہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی، وہ دکھی ہوں گی یا وہ مجھ پر اعتماد نہیں کریں گی۔ اس لیے طلاق یافتہ والدین کو اس ضمن میں بہت محتاط رہنا چاہیے۔
ایسے بچے عمر بڑھنے کے باوجود بھی ایک اَن دیکھے اور اَن جانے خوف کے حصار میں رہتے ہیں۔ زندگی کے اہم فیصلوں سے لے کر رشتوں کے نبھانے تک یہ رشتے جوڑنے سے گھبراتے ہیں۔ خصوصاً شادی سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ ان کے اندر یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے شادی کی تو وہ ضرور ناکام ہو گی اور اس کا انجام طلاق پر ہو گا۔ اگر شادی ہو جاتی ہے، تو وہ خاندان میں اضافے کے قائل نہیں ہوتے۔ ان کے بچپن کے تلخ تجربات ان کو زندگی میں خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے بہ جائے ہر لمحہ خوف کا شکار رکھتے ہیں۔
عموماً ان کے اہل خانہ بھی ان کے اس خوف کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنی کیفیات اور احساسات کسی سے بیان نہیں کرتے۔ وہ اسی خوف کے حصار میں زندگی گزارتے ہیں اور عموماً ایسے افراد کی اکثریت غیر شادی شدہ رہنا پسند کرتی ہے۔ اس صورت میں والدین کا اولین فرض ہے کہ وہ بچوں کو اس کیفیت سے باہر نکالیں اور ان کو یقین دلائیں کہ ہر شادی کا انجام طلاق نہیں ہوتا، ان کو خوش گوار شادی شدہ جوڑوں کی مثال دیں۔
در حقیقت طلاق سے صرف زوجین ہی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا طلاق کے عمل کی پیچیدگیاں اور بچوں کی تحویل جیسے تمام معاملات میں بچے کے احساسات، جذبات کا ضرور خیال رکھا جائے۔ بچے کی عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو پیار سے سمجھایا جائے، اور سابقہ شریک حیات کے متعلق منفی گفتگو سے گریز کیا جائے۔ والدین کی علیحدگی سے پیدا ہونے والی تکلیف کو اپنے مثبت رویے سے کم کرنے کی کوشش کریں اور اس کو اس درد کی کیفیت سے نکلنے میں معاون ثابت ہوں۔

....سیرت کے نہیں، صورت کے دیوانے لوگSeerat k nahi Surat kay Dewany Loog

مہمانوں کے آنے میں بہت کم وقت رہ گیا تھا اور وہ آج بھی ہمیشہ کی طرح دیوار پر لگے شیشے میں خود کو ہر زاویے سے دیکھ رہی تھی۔ وہ کبھی آئینے کے قریب جاتی تو کبھی دور، کبھی بال کھولتی ہے تو کبھی باندھتی ہے، کبھی مسکراتی ہے تو کبھی ایک دم سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ یہ سب کرتے ہوئے نہ جانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر زمین میں جذب ہوگئے تھے۔ آج بھی تیار ہوتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ آخر کب تک؟
اماں کے چہرے پر آج بھی ہمیشہ کی طرح پریشانی اورغصے کے ملے جلے تاثرات تھے، اماں کا بھی کیا قصور؟ اگر میں بھی خوبصورت ہوتی تو آج یہ سب نہ ہوتا، مہمانوں کے سامنے چائے کی ٹرے رکھتے ہی اس کے آگے سوالات کی برسات کردی جاتی، جن کے جوابات وہ ہمیشہ سے ہی بڑی روانی کے ساتھ دیتی آئی تھی۔ لیکن افسوس پھر بھی پاس نہیں ہوتی تھی۔ رات گئے فون کی گھنٹی بجی اور اماں کے چہرے پر مایوسی کا رنگ دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی، کہ لڑکے والوں نے انکار کردیا ہے۔ وہ آج بھی ریجیکٹ کردی گئی تھی، صرف اس لئے کہ وہ ایک عام شکل و صورت کی گھرداری میں ماہر پڑھی لکھی لڑکی تو ہے لیکن مس یونیورس جیسی خوبصورت نہیں، ناز، انداز اور ادا، اس میں مفقود ہے۔
یہ وہ کہانی ہے جو آج ہمیں اپنے ’’سو کالڈ‘‘ تعلیم یافتہ معاشرے کے ہر دوسرے گھر میں نظر آتی ہے۔ آپکا تعلق چاہے کسی بھی طبقہ سے ہو اگر آپ بیٹی والے ہیں تو آپ کو بھی اس کہانی کا کردار بننا ہی پڑیگا۔ کہتے ہیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں لیکن درحقیقت صرف اپنی بیٹی ہی اپنی ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہی تو روایت ہے کہ اپنی بیٹی جان سے پیاری اور دوسرے کی بیٹی کی تو جان ہی لے لو! آپ کسی کی بیٹی میں خامیاں نکالو اور بدلے میں اس بدی کا بدلا نیکی تصور کرو تو یہ سراسر بیوقوفی ہے۔
ہم آج کس مذہب کی اقدار لیکر چل رہے ہیں کہ جہاں ماں باپ کو اپنی بیٹی کو اسکے گھر کا کرنے کے لئے سجا سنوار کر ہر طرح کی سوچ رکھنے والے لوگوں کے آگے پیش کرنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر اوقات ایک لطیفہ میری نظر سے گزرتا ہے کہ،
’’خود کا بیٹا چاہے بھوسی کا ٹکڑا ہو لیکن بہو چاند کا ٹکڑا چاہیے‘‘۔
ہمارے معاشرے میں عام تصور یہی ہے کہ لڑکے کی صرف نوکری، تعلیم اور گھر دیکھا جاتا ہے شکل و صورت نہیں۔ تو کوئی یہ بھی بتادے کہ پھر لڑکیوں کا کیا قصور ہے؟ اس صنف کے ساتھ دہرا معیار کیوں؟ لڑکیوں کا رنگت، صحت اور صورت کیوں دیکھی جاتی ہے؟ اور سیرت، گھرداری، سلیقہ اور اخلاق کو کیوں نظر انداز کردیا جاتا ہے؟ اس معاشرتی صورتحال نے لڑکیوں سمیت ان کے والدین کو بھی نااُمید اور نڈھال  کردیا ہے۔ نہ جانے ہمارے معاشرے میں یہ گھر گھر جاکر، کھاپی کر اور تنقید کرکے گھر کی عزت لانے کا رواج کہاں سے آیا ہے۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس امر کو فوری طور پر درستگی کی ضرورت ہے اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہماری سوچ تبدیل ہوگی۔
اگر لڑکے والے لڑکی کے گھر ملکہ حُسن تلاش کرنے کے بجائے بہو تلاش کرنے کی نیت سے جائیں اور یہ سوچ لیں کہ اگر آج وہ کسی کی بیٹی پر تنقید کریں گے تو کل کو ان کے اپنے گھر کی بیٹی بھی اس چیز کا نشانہ بن سکتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ یہ خیال ان کی پس ماندہ سوچ کو اتنا اونچا تو کر ہی دے گا کہ وہ کسی بھی لڑکی کو اس کے گہرے رنگ، عام شکل و صورت اور قد کاٹھ کی بنیاد پر ریجیکٹ کرنے سے پہلے 10 بار سوچیں گے۔ خوبصورتی ہی سب کچھ نہیں ہوتی ہے اصل میں انسان کو اچھے اخلاق، کردار اور سیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنی سوچ کی صفائی کی ضرورت ہے تاکہ انسان کو صورت کے بجائے سیرت پر جانچنا سیکھ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے میں لڑکیوں کو بھی چائیے کہ وہ خود کو کسی طرح بھی کمتر نہ سمجھیں اور لوگوں کی فضول باتوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنی شخصیت کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں، یہ معاملات اللہ تعالی کی ذات پر یقین رکھتے ہوئے اس کے سپرد کردیں کیونکہ جوڑ تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا بنایا ہے بس دیر سویر سے ملنا نصیب ہے۔

Haan! Mein Gold Medal Baeech Aai Hoon....ہاں! میں گولڈ میڈل بیچ آئی ہوں

روکو، روکو! ریورس کرو ۔۔۔ یہ وہی بدنصیب تھی، اُف خدایا! تو کیسی کیسی شاہکار تصویریں بناتا ہے مگر وہ کون ہے؟ جو تیری صنّائی کو بدصورتی کی انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ نوشین ہی تھی، حسین و جمیل، نامور یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ نوشین۔

ہڈیوں پر لپٹی ہوئی زرد کھال، حلقوں میں دھنسی ہوئی بے نور آنکھیں، ربڑ کی طرح میل میں جکڑے ہوئے بال، تن پر چیتھڑے لپیٹے وہ فُٹ پاتھ پر اوندھی پڑی تھی۔ بِھنبھناتی مکھیوں کی گھنی چادر نے اُسے ڈھکا ہوا تھا۔ نشے کے مریضوں کے ساتھ دن رات کام کرنے والی مجھ جیسی عادی عورت کو بھی اُسے دیکھ کر اُبکائیاں آرہی تھیں۔ یہ درد نوشین کی بدحالی کا نہیں تھا، یہ میری ناکامی کا درد تھا۔ تین مرتبہ اِس نامراد کا علاج کرنے کے باوجود میں اِسے اِس دلدل سے باہر کھینچ نکالنے میں ناکام رہی تھی۔
    مگر کیا میں نوشین کی حالت کی ذمہ دار ہوں؟
    کیا اِس کا ذمہ دار وہ عطائی ڈاکٹر ہے؟ جس نے پین کِلر انجکشن ٹھونک ٹھونک کر اُسے نشئی بنادیا؟
    کیا اِس کا ذمہ دار اُس کا شوہر ہے، جس نے بدنامی کے ڈر سے نوشین کا علاج نہیں کروایا اور جب پانی سر سے گزرگیا تو اپنے دو بچوں کی ماں کو طلاق دے کر گھر سے نکال باہر کیا؟
    کیا اِس کے ذمہ دار نوشین کے ماں باپ ہیں، جنہوں نے نشئی بیٹی کے لئے گھر کے دروازے بند کرلئے؟
    کیا اِس کے ذمے دار نوشین کے عزیز و اقارب ہیں جو اِسے اپنا رشتے دار ماننے ہی سے انکاری ہیں؟
    کیا اِس کے ذمہ دار وہ میڈیکل اسٹور والے ہیں، جو دوپیسوں کے لیے نشئیوں کو دھڑلے سے انجکشن بیچتے ہیں؟
    کیا اِس کی ذمہ دار معاشرے کی وہ نفرت و حقارت ہے جس نے اِسے بے حس بنادیا؟
    اِس بات کا کون ذمہ دار ہے کہ ایک ماں اپنی ممتا ہی سے بیگانی ہوگئی؟

کوئی نہ کوئی تو اِس کا ذمہ دار ہے، ہاں مگر بے چاری حکومت کا اِس میں کوئی قصور نہیں۔ حکومت غریب تو پانامہ کیس میں پھنسی ہوئی ہے، بم دھماکوں میں الجھی ہوئی ہے، لوڈ شیڈنگ کے جن سے پنجہ آزمائی کر رہی ہے، سی پیک کے تانے بانے بُن رہی ہے، بھارت کو دندان شکن جواب دے رہی ہے، پی ایس ایل کروارہی ہے، پریس کانفرنسں کر رہی ہے، ٹاک شوز کو گرما رہی ہے، حکومت کو کیا پڑی ہے کہ نشے میں رینگتے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرف بھی توجہ دے۔ یہ تو آپ کا اور ہمارا کام ہے جو چندے مانگ مانگ کر خیراتی اسپتال چلائیں اور نشے کے مریضوں کا علاج کریں۔

اُف خدایا! زمین کیوں نہیں پھٹتی؟ آسمان کیوں نہیں ٹوٹتا، یہ محض ایک عام سی عورت نہیں یہ گولڈ میڈلسٹ طالبہ ہے، یہ ایک ماں ہے، ایک ماں ہے، ایک ماں ۔۔۔ ہاں ایک ماں جو ممتا ہی سے عاری ہے۔ جس کے بچے شہر کے ایک پوش علاقے کے مہنگے اسکول میں پڑھ رہے ہیں، مگر اُسے کیا خبر کہ اُس کے بچے کہاں اور کس حال میں ہیں، اُسے تو شاید اپنے بچوں کے نام تک نہ یاد ہوں گے۔

نوشین کا ہم نے کئی مرتبہ علاج کیا اور یہ ہر مرتبہ اِس یقین کے ساتھ گئی کہ اب کبھی نشہ نہیں کرے گی، مگر وہ کیا کرتی، وہ ایسے معاشرے میں عورت بن کر پیدا ہوئی تھی، جہاں عورت کے دامن پر لگا ہوا کوئی داغ کبھی نہیں دُھلتا۔ مرد نشے کا مریض ہو تو گھر والے دوست احباب سب اسپتال کے چکر لگاتے ہیں، فیملی سپورٹ پروگرام میں شریک ہوتے ہیں، مگر عورت ۔۔۔ توبہ توبہ! عورت ہوکر ایسی لت! اول تو عورت کو اسپتال نہیں لے جایا جاتا کہ لوگوں کو علم ہوگا تو ہماری بدنامی ہوگی، اور اگرعورت غلطی سے اسپتال پہنچ جائے تو اُس کے پیچھے بالکل نہیں جانا کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے، اور پھر کہیں غلطی سے عورت کا علاج ہو بھی جائے اور وہ نشہ چھوڑنے پر دل سے آمادہ ہو بھی جائے تو اُسے دوبارہ قبول نہ کرنا، ہمارے سو کالڈ معاشرے کا وہ وطیرہ جسے میں کم سے کم ایک دہائی سے بچشم خود دیکھ رہی ہوں۔

گھر سے فُٹ پاتھ تک کا نوشین کا سفر خاصا طویل اور بھیانک ہے۔ وہ کسی جھونپڑی سے فُٹ پاتھ پر نہیں آئی، وہ ایک پوش محل سے دھکیلی گئی ہے۔ اُس کے کل دو جرم ہیں۔ پہلا یہ کہ اُس نے نشہ کیا، اور دوسرا یہ کہ وہ عورت ہے۔ شاید عورت ہونا اُس کا بڑا جرم تھا، ورنہ پوش علاقوں کے مرد نشہ کرنے کے باوجود کبھی بے سہارا نہیں ہوتے۔

اُف میرے خدایا میں کیا کروں، میرے بس میں کچھ کردے میرے مالک! ہزاروں نوشین اور لاکھوں افراد یونہی کیڑے مکوڑوں کی طرح گل سڑ رہے ہیں۔ اِن لاوارثوں کا کوئی وارث نہیں، نہ حکومت نہ معاشرہ، البتہ میں میاں نواز شریف صاحب سے یہ ضرور کہنا چاہوں گی وہ اب اپنی ٹکسال میں سونے کے میڈل ڈھالنا بند کردیں کیوںکہ جب آخری مرتبہ نوشین علاج کے لئے آئی تھی تو میں نے اِس سے کہا تھا،

    ”جب بھی آتی ہو، سینٹر میں گولڈ میڈلسٹ گولڈ میڈلسٹ کا شور مچ جاتا ہے، کبھی ہمیں بھی اپنا گولڈ میڈل دکھاؤ“

تو وہ بڑی اُداس ہوکر بولی تھی،
    ”میڈیم! گولڈ میڈل تو میں کب کا بیچ آئی ہوں

Pur Sakoon Aur Khush Wa Khurram Zindagi Guzarnay k Sunehri Asool.....پرسکون اور خوش و خرم زندگی گزارنے کے سنہری اصول

زمانے کی سختیاں

غم انسان میں عظمت پیدا کرتے ہیں
غلطیاں انسان کو عقلمند بناتی ہیں حالات انسان کو نڈر بنا دیتے ہیں اور نقصان احتیاط سکھاتے ہیں
لہذا مصائب سے نہ گھبرائیے کیوںکہ پتھر ٹھوکریں کھا کھا کر ہی گول ہوتے ہیں، سونا آگ کی بھٹی سے کندن بن کر نکلتا ہے اور دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔

صبر اور مشکلات کا سامنا

جب تک انسان کھوئی ہوئی چیز کو واپس پانے کی خواہش نہیں مارتا، تب تک وہ صبر اور سکون جیسی عظیم دولت سے مستفید نہیں ہوسکتا۔
کھوئی ہوئی چیز کو واپس پانے کی خواہش جب تک زندہ رہتی ہے، انسان ماضی کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہتا ہے جہاں سے اُسے مستقبل کی تابناکیاں نظر نہیں آتیں اور وہ وہیں گھٹ گھٹ کر مرتا رہتا ہے کہ مجھے وہی چیز واپس مل جائے جو چھن چکی ہے۔
پھر کوئی مہربان ہونا چاہیئے جو اُسے ماضی کی پیچیدہ اور نہ سمجھ آنے والی بھول بھلیوں سے گھسیٹ کر باہر نکالے اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والے روشن مستقبل سے متعارف کروائے۔
ایسا مہربان ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا، لہذا اکثر انسان اِس شمع کی طرح غموں سے گھلتے رہتے ہیں جو کسی گہرے کنویں میں گمنام جلتی رہتی ہے اور کوئی اُس کی روشنی سے مستفید بھی نہیں ہوسکتا۔ اُس کا جلنا، گھلنا، مِٹنا، تڑپنا، سسکنا رائیگاں جاتا ہے۔ یہ اللہ کو بھی پسند نہیں لہذا زندگی میں ہمیشہ آگے دیکھنا چاہیئے۔

شُکرانِ نعمت اور تقدیر

جو پاس ہے اُس کی قدر کریں جو چھن گیا وہ آپ کا تھا ہی نہیں آپ کا ہوتا تو آپ کے پاس ہی ہوتا جو آپ کا تھا ہی نہیں اُس کے جانے کا کیا غم؟ البتہ جو واقعی آپ کا ہے وہ ابھی آپ کے پاس ہے لہذا جو آپ کے پاس ہے اُس کی قدر کریں

 حصولِ اطمینان کا فلسفہ

غم اور ناکامی پر حد سے زیادہ نہ چیخو خوشی اور کامیابی پر حد سے زیادہ نہ پھیلو یہ چاروں عارضی اور مِٹ جانے والی ہیں جب غم اور خوشی، کامیابی و ناکامی کا تم پر ایک جیسا اثر ہونے لگے تو سمجھ لو دنیا کی حقیقت کو پالیا۔ اِس حالت میں انسان اللہ کے قریب اور توکل کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوکر مطمئن ہوجاتا ہے، ورنہ دنیا دار تاحیات اطمینان کیلئے دیوانہ وار بھٹکتے ہی رہتے ہیں۔

 اختلافی مسائل کا حل

ایک ہاتھ میں ماچس کی ڈبیا اور دوسرے ہاتھ میں پیٹرول کی بوتل پکڑ کر آگ بجھانے نہ نکلیں۔ اختلافات ہمیشہ نرم خوئی سے حل ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں، ٹھوس موقف بداخلاقی اور سخت لہجے کا محتاج نہیں ہوتا۔ جہاں دلیل کی قدر نہ ہو، وہاں سے اُٹھ آئیں کہ متعصب لوگ کبھی قائل نہیں ہوا کرتے بلکہ ٹھوکر اُن کا مقدر ہوتی ہے۔ انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیجیئے۔

 دنیاوی غموں کی بے ثباتی

زندگی کو موت سے بدتر وہ لوگ سمجھتے ہیں جو موت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، قبرستان جاکر خستہ حال قبروں میں پڑے بے جان مردوں پر غور کیجیئے کہ اُن کو زندگی میں جو غم لاحق تھے آج اُن غموں کی اُن کے نزدیک کیا حیثیت ہے؟ آپ کی نظر میں آپ کے اپنے غم بے وقعت ہوجائیں گے۔ یاد رکھیے، زندگی ایک نعمت ہے، یہ موت سے بدتر نہیں۔ اُسے بلند حوصلے سے گزاریں۔

 تسخیر انسان کی حقیقت

انسانی قلب، ذہن اور جسم تینوں کو مسخر کرنے کے الگ الگ طریقے ہیں۔ جسم کو مسخر کرنے کیلئے قید کرنا پڑتا ہے جس کیلئے اختیار چاہیئے، ذہن کو مسخر کرنے کے لئے وزنی دلائل، قوتِ بیاں اور علم کا دریا چاہیئے، جبکہ قلب کو مسخر کرنے کے لئے محض ایک مسکراہٹ درکار ہوتی ہے جو ایک اَن پڑھ اور بے حیثیت انسان بھی دے سکتا ہے۔ تسخیر قلب ہی دراصل تسخیر انسان ہے اور ہر صاحب علم و اختیار ہر دلعزیز نہیں ہوتا۔

 غلطی اور معافی

قوانین فطرت سے نہ ٹکرائیں اور اِس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ دانستہ و نادانستہ خطا کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ اِس کے بعد آپ یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ ’’میں تو غلط ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ ہمیشہ کڑی خود احتسابی کے بعد اپنی غلطی کو سرِعام تسلیم کریں، اُس کا ازالہ کریں اور اپنی اصلاح کرکے آگے بڑھ جائیں۔ یہی تجربہ کار ہونے کا واحد راستہ ہے۔ یاد رکھیں، اعتراف اصلاح نفس کی پہلی شرط ہے۔

توکل اور خلوص نیت

اگر آپ خالق سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں، مخلوق کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آتے ہیں اور اُس کا صلہ مخلوق کے بجائے خالق سے چاہتے ییں تو یقین رکھیئے، آپ مصیبت میں تنہا نہیں ہوں گے، مشکل وقت میں خالق مخلوق کو آپ کی خدمت پر مامور کردے گا۔ اِسی یقین کا نام توکل ہے جو انسان کو مخلوق سے بے نیاز کردیتا ہے۔

حُسن اور احساسِ کمتری

قدرت کے عطا کردہ حُسن کی دیکھ بھال نعمت کی قدردانی ہے مگر اِس حُسن پر قناعت نہ کرنا اور خدوخال میں من پسند تبدیلی کی بے لگام خواہش ہونا احساس کمتری ہے۔ کسی کی پسند بننے کے لئے خود کو کمتر سمجھتے ہوئے اپنا آپ یکسر بدلنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اِس قدردان کی تلاش کیجیئے جو آپ کو ایسے ہی پسند کرلے جیسے آپ ہیں۔

حاسد اور حسد

نعمتوں کی غیر مساوی تقسیم قدرت کا اٹل قانون ہے جس کے پیچھے بے شمار حکمتیں پنہاں ہیں۔ حاسد قدرت کی حکیمانہ تقسیم پر معترض ہوکر اُسے چیلنج کرتا ہے اور اُسے بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ قدرت سے نہیں لڑسکتے لہذا جو پاس ہے اُس پر خوش رہیں، مزید کیلئے کوشش کریں، اور جو دوسروں کے پاس ہے دل بڑا کرکے اس میں اضافے کی دعا کریں۔
دنیا صرف آپ کی نہیں یہ سب کی ہے۔ سورج نکلتا ہے تو سب پر چمکتا ہے، بارش برسے تو سب کو سیراب کرتی ہے، زلزلے آئیں تو مسجد، مندر، کلیسا، سب کو گرا دیتے ہیں، ہوائیں ہر جاندار کو تنفس فراہم کرتی ہیں، قدرت کسی کو محروم نہیں کرتی، قدرت پر بھروسہ کیجئے، آپ دنیا میں لاوارث نہیں۔