Thursday, 30 April 2015

Rishtay Ki Talash.....رشتے کی تلاش

ایک دن ہم آرام کے موڈ میں تھے، مگر وائے قسمت آرام ہماری قسمت میں کہاں؟ دیکھا کہ ہماری ایک دوست چلی آرہی ہیں، آتے ہی دوہتڑ ہمارے لگائے اور کہا تم یہاں آرام سے بیٹھی ہو، یہاں ہمارا آرام و سکون لٹا ہوا ہے۔
ہم نے ان کے چہرے پر ڈرتے ڈرتے نظر ڈالی، لال بھبھوکا چہرہ ان کے اندرونی جذبات کا پتا دے رہا تھا کہ اس وقت وہ حالت طیش کی کس ڈگری پر ہیں، اس لیے ہم نے ان کو پکڑ کر بٹھایا، بیٹھتے ہی کہنے لگیں بڑی صحافی اور ماہر تعلیم بنی پھرتی ہو، ہم نے کہا کہاں ہم اور کہاں یہ مقام اللہ اللہ۔ تم اپنا مدعا کہو، کفن پھاڑ کر بولیں۔ ’’سب سکھیوں کی شادی ہوگئی میں رہ گئی کنواری۔‘‘ ہم تو یہ سن کر ہی سٹ پٹا گئے اور کہا اس میں ہمارا کیا قصور ہے، ہم کب تمہاری شادی میں رکاوٹ بنے، کس موقع پر ہم نے کہا یہ شادی نہیں ہوسکتی، کچھ تو بتاؤ یہ الزام ہم پر ہی کیوں؟ ہماری آہ و بکا نے انھیں تھوڑا نرمی اختیار کرنے پر مجبور کردیا اور کہنے لگیں تم ہر موضوع پر قلم اٹھاتی ہو، مگر کبھی سوچا کہ جن لڑکیوں کی شادی نہیں ہو رہی جب کہ وہ خوبصورت بھی ہوں یہ کہہ کر آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر فخر سے مسکرائیں پھر آگے ارشاد ہوا، تعلیم یافتہ ہوں، سگھڑ ہوں، مگر پھر بھی گھر والوں کے طعنوں تشنوں کے لیے زندہ ہوں تو کیا یہ قابل فخر بات ہے؟ ہم نے کہا بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
تم یہ بتاؤ ہم سے کیا چاہتی ہو، ہمارا بس چلے تو کسی کو پکڑ کے ابھی تمہارے بول پڑھوا دیں مگر محترمہ بات یہ ہے کہ یہ وہ لڈو ہیں جو کھائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے۔ فرمایا انھوں نے بہتر یہ ہے کہ یہ لڈو کھا کر پچھتایا جائے۔ ہم نے کہا چلو یہ بھی ٹھیک ہے جو تمہاری مرضی ورنہ ہم نے تو تمہیں اس راہ سے بھٹکانے کی اپنی سی کوشش کر دیکھی، اب صاف بتاؤ! ہم کیا کریں؟ کہنے لگیں تم اتنی ورکشاپس/ سیمینارز کرواتی ہو اور ماہر ماسٹر ٹرینر ہونے کے دعوے کرتی آئی ہو، یعنی میاں مٹھو بنتی ہو، تو ایک ورکشاپ ایسی لڑکیوں کے لیے بھی ڈیزائن کرو جس کی وجہ سے لڑکیوں کی شادی میں آسانی پیدا ہو، تم خود دیکھو ہر وہ لڑکی جو آزاد خیال ہے آراستہ و پیراستہ ہے۔
فیس بک اور انٹرنیٹ کو اس مقصد کے لیے استعمال کررہی ہے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے اور ہم جیسی لڑکیاں جو والدین کی عزت و آبرو اور اپنے کردار کی حفاظت کرتی ہیں ان کو کوئی پوچھتا نہیں ۔ ہم نے کہا بی بی! پہلے تو یہ سن لو کہ ایسی ورکشاپس تو خیر اتنی جلدی نہیں ہوسکتی ورنہ آئیڈیا برا نہیں، مگر تم یہ بتائو فیس بک اور نیٹ کی دوستیاں کیا اتنی پائیدار ہوتی ہیں؟ ترنت جواب ملا ہماری تو کئی کولیگ کی شادی اس کے ذریعے ہوئی، ہم نے کیا کیا۔
تم نے آیندہ کے نتائج معلوم کیے کہ ان کے گھر والوں کا شادی کے بعد ان کے ساتھ کیسا طرز عمل رہا، لڑکا اور لڑکی اب کیسی زندگی گزار رہے ہیں؟ کہنے لگیں، یہ تو ہمیں زیادہ نہیں معلوم۔ ہم نے کہا محترمہ! دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں کوئی بھی قدم اٹھاتے وقت سو مرتبہ سوچنا پڑتا ہے جب جاکر کوئی بات مثبت رخ اختیار کرتی ہے اور خصوصاً لڑکیوں کو تو بہت زیادہ محتاط اپنا پڑتا ہے۔
اس بار وہ خاموش ہوگئیں پھر کہنے لگیں تم کالم لکھتی ہو، اس کے ذریعے ہی دو خاندانوں کو ملوانے کا ذریعہ بن کر ثواب کما سکتی ہو، ہم نے کہا دنیا میں لکھنے کے لیے بہت سے مسائل ہیں اب کیا ہم شادی کے اشتہار کو اپنے کالم کا موضوع بنائیں کہ ضرورت ہے ایک شوہر کی۔ یہ سن کر تڑپ کر کہنے لگیں ہم کسی شوہر سے شادی نہیں کریں گے ہم نے ان کی عقل پر دو حرف بھیجے اور کہا تو کیا لکھیں؟ عالمانہ انداز سے فرمایا۔ جاہل ہونے والے شوہر لکھو۔
ہم نے کہا اور کیا خوبیاں چاہتی ہو تم اپنے ہونے والے شوہر میں۔ ہونے والے پر ہم نے سارا زور دیا۔ دانت بھینچتے ہوئے کہنے کے انداز میں ہمارا منہ فٹے منہ بن گیا۔ جس کو دیکھ کر محترمہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئیں۔ آگے گویا ہوئیں، ہونے والا شوہر اکیلا ہو اکیلا۔ مگر کیوں؟ کیا اپنے تمام آگے پیچھے والوں کو دفنا کر آئے یا تین حرف بھیج کر آئے؟ کہنے لگیں اکیلا مطلب اکلوتا اس کے بہن بھائی نہ ہوں۔ ہم نے کہا اور ماں باپ کے بارے میں کیا ارشاد ہے۔ فرمایا ماں باپ نہ ہوں تو یہ بھی اضافی خوبی تصور کی جائے گی جس کے نمبر دو فیصد ہوں گے، اور ہمیں اس بات کی گارنٹی دے کہ وہ خود کام کرے گا یا ملازمہ رکھے گا تو پھر سوچا جاسکتا ہے۔
یہ سن کر ہمارا تو دل چاہا کہہ دیں بی بی! یہ خیالات ہی ہیں جن کی وجہ سے آج اپنے گھر بیٹھی ہو، مگر متوقع بے عزتی کا سوچ کر خاموش ہوئے اور آگے کا فرمائشی پروگرام سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہوگئے۔ مالی طور پر بہت مستحکم ہو، چلتا ہوا کاروبار یا پھر گریڈ 22 کی جاب ہو۔ بڑا سا گھر ہو، نوکروں کی فوج ظفر موج ہو، گاڑیوں کا کارواں ہو، صبح دبئی تو شام پیرس میں ہوتی ہو اور خوبصورت اتنا ہو کہ باآسانی کسی فلم میں ہیرو آجائے۔ واہ واہ! یہ ساری خوبیاں کسی ایک شخص میں تو نہیں مل سکتیں۔
دو چار ڈھونڈنے پڑیں گے۔ مگر اسلام میں تو کسی لڑکی کو ایک وقت میں ایک ہی شادی جائز ہے۔ ہماری طنزیہ گفتگو سن کر موصوفہ نے غصے بھری نظر ہم پر ڈالی اور کہنے لگیں تم ہو ہی ہماری خوشیوں کی قاتل۔ کیا یہ تمام خواہشات کرنا گناہ ہے؟ ہم نے کہا گناہ نہیں مگر اس طرح کی سوچ بھی ٹھیک نہیں ہے، معاشرے میں پڑھی لکھی لڑکیوں کی شادی میں رکاوٹ ایسے عوامل بھی ہیں جس میں لڑکیاں پڑھ لکھ کر ایسے رشتوں پر اپنا حق سمجھنے لگتی ہیں، اگر ایسا رشتہ نہ ملے تو پھر دیگر باتوں کا سہارا لیتی ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لڑکیاں جو انٹرنیٹ، فیس بک یا موبائل سروس کے ذریعے اپنے پسندیدہ رشتوں میں بندھ جاتی ہیں ورنہ ان ذرایع کے ذریعے زیادہ تر دھوکا کھا کر اپنی زندگیوں کو عذاب بنا لیتی ہیں، اور دھوکا کھا کر اپنے گھر والوں کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔
اس وقت حالات اس نہج پر جا رہے ہیں کہ لڑکے تعلیم حاصل نہیں کرپا رہے۔ میٹرک انٹر کرکے گھریلو حالات سے مجبور ہوکر کوئی ہنر سیکھ کر کاموں پر لگ جاتے ہیں یا پھر اپنا کاروبار شروع کردیتے ہیں آرام سے بیوی کا خرچ اٹھاسکتے ہیں تو لڑکیاں کیوں ایسے شریف لڑکوں کے رشتے قبول نہیں کرتیں۔ بے شک من پسند رشتوں کا انتظار اچھی بات ہے مگر زیادہ انتظار بھی بربادی لے آتا ہے، اس لیے کہیں نہ کہیں کمپرومائز کرنے کی پالیسی کو اپناکر لڑکیاں اور والدین اپنی بچیوں کو سسرال بھیج سکتے ہیں اس کے علاوہ ہر لڑکا سلمان یا شاہ رخ نہیں ہوتا اسی لیے خوابوں کی دنیا کے چنگل سے نکل کر حقیقت میں آنا پڑتا ہے۔

Shadi Paisay Ki Barbadi.....شادی پیسے کی بربادی!

دنیا کے کسی میں ملک میں شادی ایک انتہائی عام اور سستی سی سرگرمی ہے۔ یورپ اور امریکا میں باہمی رضا مندی کے بعد چرچ جائیں اور میاں بیوی بن کر گھر آجائیں۔
اگلےدن دوستوں اور اہل وعیال کو کھانے کی دعوت پر بلائیں مبارکبادیں لیں۔ چلیں جی ہوگئی اِس طرح نئی زندگی شروع ۔۔ نہ کوئی زیور، نہ جہیز، نہ مکلاوا، نہ واگ پھڑائی، نہ جوتی چھپائی، نہ دودھ پلائی، نہ مایو، نہ مہندی، نہ لڑکی والوں کی طرف سے تمام سسرال والوں کے جوڑے لگائی اور نہ ہی سارے رشتے داروں کی مٹھائی اور بدِ بھجائی۔ جتنی زیادہ رسمیں اتنی ہی زیادہ ٹینشنیں، اور اتنی ہی زیادہ رشتے داروں کی باتیں اور ناراضگیاں۔ لیکن قصوروار کون؟ ہماری خواہ مخواہ کی انا، ہمارا معاشرہ، ہندووانہ رسمیں اور لوگوں کی باتوں اور سوچ  کا ڈر ۔۔۔ کہ لوگ کیا سوچیں گے!
چین جیسے ملک کا کوئی باشندہ اگر پاکستان اور بھارت میں آکر ایک مڈل کلاس فیملی کی شادی دیکھ لے تو وہ یقیناً یہی سمجھے گا کہ یہ کسی بادشاہ کی شادی ہورہی ہے۔۔ کیوں؟ شاید اس لئے کہ ہمارے معاشرے میں والدین کے لئے سب سے بڑی ذمہ داری اولاد بیاہنے کی ہوتی ہے اور وہ اس لئے ان تین چار دنوں کی شادی تقریبات میں ساری عمر کی کمائی لگا دیتے ہیں۔ نئی زندگی تو شروع ہوجاتی ہے لیکن پرانی زندگی کا خون چوس کر۔۔
ہمارے ہاں روایتی شادی کی تقریبات کے آغاز اور اختتام کے دوران ہر دن پیسہ پانی کی طرح بہتا ہے۔ شادی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے رشتے کی تلاش سے۔ پیسے نچوڑنے کا پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے میرج بیورو یا رشتے کروانے والوں سے۔ لڑکی یا لڑکے کا رشتہ دکھانے کی آڑ میں سبز باغ دکھاکر خوب پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ پسند کا لڑکی لڑکا چننے میں ایک عمر گزر جاتی ہے اور پھر کہیں جا کر مرضی کا رشتہ طے ہوتا ہے۔
اب رشتہ طے ہونے کے بعد مبارکباد کے نام پر مٹھائی کھلائی جاتی ہے اور لڑکا اور لڑکی والے ایک دوسرے کو نقد رقم دے کر بات پکی کرنے کا بالکل ایسے ہی اشارہ دیتے ہیں جیسے کسی پراپرٹی کا بیعانہ دیا جاتا ہے۔ اس دوران منگنی کی باتیں بھی چلتی ہیں اور لڑکی اور لڑکے والے ایک دوسرے کی ’’اچھی سیرت  اور کردار‘‘ کی تصدیق کرنے کے لئے نا صرف گھروں میں چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہیں بلکہ محلے داروں سے بھی بھرپور تفتیش کی جاتی ہے۔
منگنی کی تاریخ طے ہو تو دلہن کے لئے سونے کی انگوٹھی اور گولڈن سیٹ تو پکا ہے اور ساتھ ساتھ سسرال والوں بالخصوص نند کے لئے بھی جوڑے اور سیٹ دینا روایت ہے۔ ناک رکھنے کے لئے رشتے داروں کی دعوت کے لیے شادی ہال اور اچھے کھانوں کا اہتمام بھی خوب کیا جاتا ہے۔ اگر آپ اس منگنی کے اخراجات کی لسٹ بنائیں تو اسے ’’منی شادی‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں یا پھر اسے پی ایچ ڈی کے ریسرچ تھیسز کا سائیناپسز بھی کہہ سکتے ہیں۔۔
منگنی کے بعد پھر بات چلتی ہے شادی کی تاریخ طے کرنے کی۔ ڈیٹ فکس کرنے کی روایت الگ سے ہے۔ دونوں خاندان ایک دوسرے سے مذاکرات کے ذریعے شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں۔ ڈیٹ فکس کرنے کی تاریخ کی بھی لڑکی والوں کو دعوت کے ساتھ رقم کی جاتی ہے۔ لڑکی والے لڑکے والوں کے پورے خاندان کے لیے کھویا یا مٹھائی لے کر آتے ہیں اور لڑکے والے  مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ آپس میں میٹھی میٹھی باتیں ہوتی ہیں اور الوداع کے بعد چائے کے کپ پر تھوڑی سی غیبت کی چسکیاں لی جاتی ہیں۔۔
ڈیٹ فکس ہونے اور مایو کے دن کے درمیان کے سارے ایام شادی کی شاپنگ کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔ لڑکی والوں کی کمر تو پہلے جہیز توڑتا ہے اور پھر زیور۔ دلہا دلہن کے جوڑے، جوتیاں، سسرالیوں کے لئے ان سلے کپڑے مایو مہدی کا سامان، ڈی جے کا بندوبست، شادی کارڈ چھپوانا، ناچ گانے کا اہتمام اور ڈھول اور بارات والوں کو بلاوے سمیت دعوت طعام کے لئے بھرپور انتظام کیا جاتا ہے۔ شادی کی دعوت آپ ایس ایم ایس پر نہیں دے سکتے۔ خود گھر گھر جانا پڑتا ہے۔ لڑکے والے تو ناک رکھنے کے لئے دلہن کے زیور اور ولیمے کا بہترین اہتمام کرتے ہیں۔ ان دنوں ایک ہی معاملہ زیر بحث رہتا ہے، ولیمہ شادی ہال میں کریں یا فارم ہاؤٴس بہتر رہے گا یا کوئی ہوٹل۔ خیر پھر وہ دن آتا ہے جب شادی کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔
پہلے مایو پر رقم اجڑتی ہے اور پھر تیل مہدی پر دعوت طعام کے ساتھ ساتھ ڈھول باجے، لڈی، اور ڈے جے کے اہتمام پر رات کی نیند اجڑ جاتی ہے۔ بارات والے دن کے خرچے گنوائیں تو گنتی کم پڑجائے۔ گاڑی والے کا خرچہ، ڈھول باجے کا خرچہ، پیسے لٹانے کا خرچہ، شادی ہال کا خرچہ، مووی والے، فوٹو گرافر کا خرچہ، کھانے کا خرچہ، دودھ پلائی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مہمانوں کے لئے تو اصل شادی اس وقت شروع ہوتی ہے جب کھانا کھلتا ہے۔ اس وقت تو منظر دیکھنے والا ہوتا ہے جب ساری تہذیب کھانے کی ٹیبل پرٹوٹ جاتی ہے اور چمچوں اور پلیٹوں کے ہتھیار سے طبل جنگ بج جاتا ہے۔ دودھ پلائی کے بعد دلہن کا روایتی رونا دھونا ہوتا ہے اور دلہن چاول پیچھے کی طرف پھینک کر آہستہ آہستہ پھولوں سے سجی گاڑی تک جاتی ہے اور نئے سفر کا آغاز کردیتی ہے۔۔
اگلے دن صبح صبح لڑکے والوں کے گھر لڑکی والے ناشتہ لے کر آتے ہیں، تھوڑی گپ شپ ہوتی ہے اور پھر دلہن بیوٹی پارلر تیارہونے کے لئے چلی جاتی ہے۔ ولیمے کے دن لڑکے والے لڑکی والوں کو نیچا دکھانے کے لئے ایک ہاتھ آگے جا کر اہتمام کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دن دولہے کی سسرال رخصتی ہوتی ہے جہاں جوتی چھپائی کی رسم سالیوں کے لئے اے ٹی ایم مشین سے کم نہیں ہوتی۔ اگلے دن مکلاوا ہوتا ہے اور اس کے بعد رشتے دوروں کی طرف سے دعوتوں کی کہانی شروع ہوجاتی ہے۔ آہستہ آہستہ لڑکی اور لڑکے والوں کا بینک اکاؤنٹ خالی ہو جاتا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو اخراجات کی اصل وجہ شادی نہیں بلکہ فرسودہ اور خواہ مخواہ کی  ہندوانہ رسومات ہیں جو ہمارے کلچر میں بری طرح سرایت کر چکی ہیں۔ اگر ہم نہ مایو نہ مہدی نہ منگنی، نہ جہیز اور نہ فرسودہ رسومات جیسے مشکل کام کرلیں اور صرف نکاح اور ولیمہ اور شادی مبارک پر اکتفا کرلیں تو کیا ہی خوب کام ہوجائے گا۔
حکومت نے شادی بیاہوں پر ون ڈش کی پابندی لگا کر کچھ اخراجات تو کم کر دیےہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ دوسری فضول رسومات پر بھی سرکاری طور پر پابندی لگا دی جائے تاکہ غریب کا بھرم بھی رہ جائے اور دھرم کے مطابق اہم فریضہ بھی انجام پاجائے۔ شادی کے معاملات پر معاشرے کوبھی اپنی سوچ کو ری فریم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کبھی نہ سوچیں کہ ”لوگ کیا کہیں گے‘‘۔ لوگ جو بھی سوچیں کہ یہ سب اہم نہیں ہے اور نہ اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اہم وہ ہے جو آپ سوچتے ہیں! کیونکہ اگر لوگوں کو آپ سے کوئی مسئلہ ہے تو یہ ان لوگوں کا مسئلہ ہے آپ کا نہیں۔ عمر بہت قیمتی ہے۔ اسے فرسودہ رسومات کی خاطر کبھی نہ گنوائیں۔

Samaj k Farsudaah Rasam O Rawaj ......سماج کے فرسودہ رسوم و رواج

 میں اپنا ایک دکھ آپ کو سنانا چاہتی ہوں، میں نے  کچھ عرصہ پہلے اپنی بیٹی کی شادی اپنوں میں کی ہے جس وقت میری بیٹی کا رشتہ لینے کے لیے آئے تو اخلاق کی بلندیوں پرتھے مگر میں اپنی سسرال میں اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں کرنا چاہتی تھی کیوں کہ میں نے خود ہزارہا دکھ اٹھائے ہوئے تھے حد تو یہ ہو گئی تھی کہ شوہر نے اپنی زندگی سے نکال کر بچوں کو میرے سپرد کر کے اپنی نئی دنیا بسا لی تھی کن مشکلات اور مصائب سے نبرد آزما ہو کر میں نے بچوں کی پرورش کی مگر میں ہی جانتی ہوں یا میرا خدا اب جب کہ بچے کسی قابل ہوئے تو سب سرپرست بن کر آ گئے۔
خیر میں مختلف وجوہات کی بنا پر بچی کا رشتہ نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن مجھے سب نے سمجھایا کہ تم اﷲ کا نام لے کر رشتہ کر دو، رشتے اﷲ بناتا ہے۔ لڑکا اچھا ہے۔ معاشی طور پر مستحکم ہے۔
پڑھا لکھا ہے خیر میں نے اﷲ کا نام لے کر ہاں کر دی اور ان لوگوں کی اپنی بیٹی کا نصیب سمجھ کر عزت و احترام کی حد کر دی ، لینا دینا اپنی بساط سے بڑھ کر کیا رشتہ لینے سے لے کر تاریخ طے ہونے تک یہ لوگ میٹھے اور اچھے رہے مگر شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی گرگٹ کی طرح آنکھیں بدل لیں اور اپنے رنگ دکھانے شروع کر دیے، لڑکے اور اس کے گھر والوں نے باتوں باتوں میں فرمائشی پروگرامز نشر کرنے شروع کر دیے۔
میں نے عزت کی خاطر ان کی فرمائش پر آمنا صدقنا کیا اور جہیز میں ہر وہ چیز دی جو انھوں نے کہی اور دھوم دھام سے اپنی بساط سے بڑھ کر شادی کی جس میں میرے دوستوں نے میرا بہت زیادہ ساتھ دیا جس نے شادی میں شرکت کی وہ انگشت بدنداں رہ گیا مگر یہ عزت ان لوگوں کو راس نہ آئی ہر چیز پر سو سو اعتراض کیے خود کچھ نہ لائے مگر میری بیٹی کے ہر سامان پر اعتراض کی بوچھاڑ کر دی ہم نے ہر موقعے پر صبر سے کام لیا۔ اب میرا سوال صرف اس معاشرے سے یہ ہے کہ کیا لڑکی کے والدین ہونا جرم ہے ۔
جس کی سزا بیٹی کی شادی کے ساتھ شروع ہو جاتی ہے اور لڑکے والے ہونا باعث فخر ہے کہ وہ اس جدید دور میں بھی پرانے روایتی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہوئے لڑکی والوں کو اپنا زر خرید سمجھیں۔
 یہ  پڑھ کر رنج ہوا کہ کس طرح لڑکیوں کے والدین ایک ناکردہ جرم کی سزا ساری عمر بھگتے ہیں۔ جہیز تو ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم نے بھی اپنی بیٹی کو دیا تھا مگر آج اس معاشرے کے رہنے والوں نے جہیز کی رسم کو اتنا مکروہ، اتنا قبیح بنا دیا ہے کہ آج کتنی لڑکیاں اس جہیز کے نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھی ہیں کہ ان کے والدین جہیز نہیں دلا سکتے، لڑکے والوں کی فرمائشی فہرست کو پورا نہیں کر سکتے آج جو لڑکے کو خرید سکتا ہے وہ ہی کامیاب ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر لڑکا یا اس کا گھرانہ ایسا ہو ، ہزاروں شریف خاندان ہیں، مگر نچلے، متوسط طبقے میں زیادہ تر ایسا ہی ہے۔ نوجوانوں اور ان کے گھرانوں کا اپنی قوت بازو پر بھروسہ ختم ہو گیا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ لڑکے کی قیمت جتنی وصول کر سکتے ہیں کر لیں اگر سمجھدار لڑکے ہوں جو اپنے سسرال والوں اور اپنی عزت کو یکساں سمجھتے ہوئے لڑکی کو اپنی ذمے داری سمجھیں اور والدین اور ایسی خواتین جو کہ اپنے گھرانوں کی واحد کفیل ہوں ان پر بوجھ نہ ڈالیں تو ہر لڑکی اپنے گھر میں خوش ہو اس معاملے میں اکثر خواتین کا دہرا معیار بھی اس معاملے کو مزید گمبھیر بنا دیتا ہے کہ مردوں کو رسم و رواج سے اتنا یارا نہیں ہوتا مگر خواتین مختلف رسم و رواج جیسے  پنیاونیاں، پیڑا کھلائی  اور کھیر پکائی وغیرہ کی رسمیں کبھی تھا کہ شادی کا حسن سمجھی جاتی تھیں مگر اب جب کہ ہر شخص معاشی عفریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے کھانا پینا مشکل ہو رہا ہے وہاں ایسی رسموں کا جواز ختم ہونا چاہیے۔
معاشرے کے ایک طبقے میں اب بھی ایسی رسموں کا وجود موجود ہے اور ایسی رسموں کو پورا نہ کرنے والے لڑکی کے والدین کی زندگی باتوں کی تیروں سے اس قدر چھلنی کر دی جاتی ہے کہ حد نہیں ایک خاتون جنھوں نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی معمولی طریقے سے کی اور نہ جہیز دیا نہ کھانا کھلایا مگر جب یہی قانون اپنے بیٹے کی شادی کرنے نکلیں تو جہیز کی ایک بڑی لسٹ ان کے ہاتھوں میں تھی جو شادی سے 10 دن پہلے لڑکی کے والدین کو پہنچا دی گئی یہ بلیک میلنگ کا ایسا انداز ہے کہ والدین کچھ نہیں کر سکتے۔
سوائے مطلوبہ فہرست کو پورا کرنے کے شادی کا وقت قریب ہو، تیاریاں مکمل ہوں، سب عزیز و اقارب میں خبر ہو چکی ہو اس وقت والدین اس پوزیشن میں نہیں ہوتے کہ سختی سے کام لیں اور مطلوبہ فہرست سے انکار کر دیں کیوں کہ اس صورت میں امکان یہ ہوتا ہے کہ لڑکے والے بات ہی ختم کر دیں اس قسم کی صورت حال میں زیادہ نقصان لڑکی والوں کے حصے میں آتا ہے جگ ہنسائی الگ ہوتی ہے اور بات لڑکی کے کردار پر بھی آ جاتی ہے ۔
جس کی وجہ سے دوسرے رشتے کے حصول میں بھی دشواریاں پیش آ سکتی ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں میں احساس ذمے داری پیدا ہو اور ایسے معاملات کو عورتوں کے سپرد کرنے کی بجائے سمجھ دار مرد اپنے ہاتھوں میں لیں تا کہ اس لالچ کا خاتمہ کیا جا سکے جس میں لڑکی اور اس کے گھرانے پر مالی بوجھ لاد دیا جاتا ہے اور سالوں شادی میں لیے گئے قرض کی ادائیگی میں نکل جاتے ہیں۔
ہاں خوشی اور استطاعت کے اندر رہتے ہوئے تحفے تحائف والدین کی طرف سے جو وہ با آسانی دے سکتے ہیں دے دیے جائیں اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر جہیز  کی چیزوں میں کمی اور سسرالی رشتے داروں کے بیش قیمت جوڑے یا من پسند نہ ہونے کی صورت میں لڑکی اور اس کے گھرانے کو بے عزت کرنا ایک قابل مذمت فعل ہے اور اسلام کی روکے بھی منافی ہے ہمارے ملنے والوں میں ایک لڑکی کو اس کے سسرال والوں نے کم جہیز لانے پر اس قدر طعنے تشنیع سے نوازا کہ اس نے خود کو جلا کر مار ڈالا کیوں کہ اس پر ذہنی دباؤ تھا کہ جہیز کم ہے اب رسم کے مطابق پہلا بچہ سسرال کی بجائے میکے میں ہو گا اور بڑے اسپتال میں اس طرح کے ہزاروں واقعات میں جس پر سب دکھ محسوس کرتے ہیں مگر جب عملی اقدام کا وقت آتا ہے تو مختلف حیلوں بہانوں سے کام لے کر ان کو پروان چڑھا دیا جاتا ہے حکومت سے بھی گزارش ہے کہ اس قسم کے مسائل پر قانون سازی کی جائے تا کہ جو والدین شادی کے بھاری اخراجات نہیں اٹھا سکتے وہ سکھ کا سانس لے کر اپنی بیٹیوں کو باعزت طریقے سے رخصت کر دیں۔

Shadi Mein Moashrati Ikhlakiyat o Gharat ۔۔۔۔شادی میں معاشرتی اخلاقیات غارت

کرکٹر کی شادی سے متعلق خبر شایع ہوئی کہ نکاح مسجد میں ہو گا، شادی نہایت سادگی سے کم خرچ اور مثالی ہو گی، ہنی مون کی بجائے عمرہ پر جائینگے۔ خبر پڑھ کر خوشی ہوئی کہ اس مثالی اور قابل تقلید شادی سے لوگوں کو سادگی، کفایت شعاری اور کم خرچی کی ترغیب ملے گی کیونکہ شوبز اور کھیلوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے اسٹارز کا طرز عمل ان کے پرستاروں پر بڑا اثرانداز ہوتا ہے اسے وہ ہنسی خوشی اپناتے بھی ہیں مگر بعد کی آنیوالی خبروں نے اس کی نفی کر دی جن کے مطابق فارم ہاؤس میں پر تکلف رسم حنا دیر تک جاری رہنے پر کرکٹر اور فارم ہاؤس کے مالک کے خلاف ون ڈش کی پابندی نہ کرنے، دیر تک تقریب جاری رکھنے پر شادی ایکٹ کی خلاف ورزی کے ارتکاب پر مقدمہ قائم کر کے 2 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ دلہن کی بہنوں کا کہنا تھا کہ کرکٹر نے ستانے کے لیے جعلی نوٹ تھما دیے تھے۔ بعد ازاں ہم نے ان سے دو لا کھ روپے بٹور لیے ابھی کافی رسمیں باقی ہیں (یعنی مزید آمدنی متوقع ہے)۔
شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی، دکھاوے، نمود و نمائش نے بہت سے سماجی مسائل پیدا کر دیے ہیں جن کی وجہ سے پیدا ہونیوالے گمبھیر قسم کے سماجی، معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی مسائل نے معاشرے کی بنیادوں کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ شادی کے غیر ضروری اخراجات کا بروقت بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے ایک طرف تو خاص طور پر لڑکیوں کے رشتے میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے لڑکیاں عمر رسیدہ اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہی ہیں تو دوسری جانب ان کے والدین غیر ضروری اور نمود و نمائش پر آنیوالے اخراجات کی وجہ سے قرضوں میں جکڑے جا رہے ہیں، شادی کے کچھ ہی دنوں بعد ہونیوالے خاندانی جھگڑوں اور طلاقوں کی ایک بڑی وجہ یہ ہی معاشی مسائل ہیں۔
پہلے گھروں میں شامیانے لگا کر شادیاں ہوتی تھیں پھر شادی لان اور شادی گھروں میں شادیوں کا رجحان آیا اور اب متحمل نہ ہونے کے باوجود بینکوئٹ کلچر پروان چڑھ چکا ہے پھر ان ضیافتوں میں درجنوں قسم کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضح کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ان بینکوئٹ اور کھانے پر آنیوالے اخراجات کا رقم میں اب سے چند سال پہلے تک ایک عام سی شادی کرنا ممکن تھا۔ نمود و نمائش حرص و ہوس اس دوڑ میں لوگ اپنی حیثیت کو بھلا غیر ضروری رسومات و اخراجات کی خاطر اپنے گھر اور اثاثے تک بیچ دینے، سود پر قرض لینے، رشوت ستانی، بدعنوانی اور شارٹ کٹ طریقہ استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں ان برائیوں کے تدارک اور اجتماعی غلط رویے کو درست کرنے کے سلسلے میں سب سے بڑا کردار حکومت، معاشرے کے باحیثیت افراد، سیاستدان، شوبز اور کھیلوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد، میڈیا اور سماجی تنظیمیں کر سکتی ہیں۔
انفرادی طور پر یہ ہدف حاصل کرنا حقیقتاً مشکل امر ہے اس سلسلے میں حکومت کو شادی بیاہ کی تقریبات، ان کے اخراجات، معیار و مقامات، کھانوں، جہیز اور مہر اور تقریبات میں آتش بازی اور فائرنگ کے سلسلے میں موجود لاتعداد قوانین کا اطلاق کر کے انھیں مزید فعال متحرک اور عصر حاضر کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرے۔ سب پر قانون کا اطلاق یکساں طور پر کرے نہ کوئی اپنے بیٹے کا ولیمہ اسمبلی بلڈنگ میں کر سکے نہ کسی وفاقی وزیر کی ہمت ہو کہ وہ کسی کرکٹر کی مہندی بیرون ملک لے جانے پر قوم کے کروڑوں روپے خرچ کرے نہ ہی میڈیا اس کی طویل ترین اور غیر ضروری کوریج کرے جس سے عام آدمی میں ملکی قوانین کو پامال ہوتا دیکھ کر قانون کی بے وقعتی اور نمود و نمایش کی دوڑ کا رجحان پیدا ہو۔
حکومت کی وقتی بیداری اور گاہے بہ گاہے جاری کردہ شادی کے اوقات، کھانوں اور آتش بازی اور فائرنگ کے احکامات اور اقدامات کا اطلاق کچھ عرصے کے لیے عام افراد پر ہی ہوتا ہے جب کہ صاحب اختیار، اثرورسوخ کے حامل افراد ان پابندیوں کو قطعی خاطر میں نہیں لاتے بلکہ عام افراد بھی کسی نہ کسی طریقے، سفارش یا رشوت کے ذریعے راستہ نکال کر ایک دوسرے پر اپنے آپ کو سیاسی سماجی اور معاشی طور پر برتر ثابت کرنے کی کوششیں کرتے ہیں البتہ معجزاتی طور پر کبھی کبھار ایسے اقدامات سے سفید پوشوں کی سفید پوشی برقرار رہ جاتی ہے۔ اگر سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم افراد شادی بیاہ کی تقریبات میں سادگی و کفایت شعاری اپنائیں اور اسی پیسے سے اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی کے ساتھ کسی مستحق کی شادی کے اخراجات برداشت کرنے کی روایت ڈال دیں تو اس کے معاشرے پر اجتماعی طور پر اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کارخیر سے بہت سے لوگوں کا بھلا بھی ہو سکتا ہے ۔
اس وقت ملک میں ایسی بہت سی تنظیمیں اور افراد موجود ہیں جو مستحق جوڑوں کی شادیوں کے سلسلے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور انھوں نے اجتماعی شادیوں کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جو اچھی پیشرفت ہے دوسروں کو بھی اس کی تقلید کرنا چاہیے۔ شادی بیاہ کے سلسلے میں سماجی مرتبہ اسٹیٹس کی دوڑ دھوپ میں فریقین ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں نمود و نمایش اور غلط بیانی بھی کرتے ہیں۔ اسٹیٹس اور مال و متاع جمع کرنے کی کوششوں میں خاص طور پر جب لڑکیاں عمر رسیدہ ہو جاتی ہیں تو ان کے رشتے بھی میسر نہیں آتے جو اس سے قبل ان کے گھروں پر خود چل کر آتے تھے جس کی وجہ سے انھیں مزید بے جوڑ اور غیر موزوں رشتہ قبول کرنے پڑتے ہیں یا پھر غیر شادی شدہ رہنا پڑتا ہے۔
لڑکیوں کی شادیاں پہلے کرنے کی تگ و دو میں لڑکوں کی شادیوں میں بھی غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے جس کے سماج پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں شادی طے کرتے وقت سماجی و معاشی رتبہ و حیثیت کو مصنوعی طریقوں، دروغ گوئی اور دھوکہ دہی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جھوٹ، دھوکہ دہی اور مفادات پر استوار رشتے بھی وقتی اور کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ لڑکے والے حسین و جمیل پری چہرہ اور کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں تو لڑکی والے اس کے بالوں کی سفیدی، عمر اور بعض اوقات مہلک قسم کی بیماریوں تک کو چھپا دیتے ہیں ۔ اسی طرح لڑکی والے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑی آمدنی والے خود مختار لڑکے کے متلاشی ہوتے ہیں لیکن بعد میں حقیقت کھلتی ہے کہ نہ تو وہ تعلیم یافتہ ہے نہ ہی اس کا کوئی روزگار ہے حقیقت سامنے آنے پر لڑائی جھگڑے مقدمہ بازی بلکہ بعض اوقات قتل و غارت گری تک نوبت جا پہنچتی ہے۔
معاشرتی اخلاقیات اور مذہبی آداب دونوں نظرانداز کردینے کی وجہ سے ہماری زندگیاں اور معاشرہ دونوں تباہی و بربادی سے دوچار ہیں۔ کم از کم بحیثیت مسلمان ہمیں نکاح جیسے عمل جس سے ایک خاندان کا ظہور ہوتا ہے اسلامی تعلیمات کا جائزہ ہی لے لینا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا کہ اگر ایسا شخص تمہاری طرف نکاح کا پیغام بھیجے کہ اس کی دینداری اور اخلاق پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کردو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پیدا ہو گا اور بہت فساد ہو گا‘‘۔ ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے لہٰذا دیندار عورت سے شادی کرو (یعنی دولت و خوبصورتی ثانوی حیثیت رکھتی ہیں) آپؐ نے بیوی کو قرآنی آیات سکھا دینے کو بھی مہر قرار دیا۔
خود حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے نکاح میں حضرت علیؓ کی زرہ حطمیہ کو مہر قرار دیا گیا۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ایک صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف کے کپڑوں پر ذرد دھبہ لگا دیکھا تو فرمایا کیا تم نے شادی کر لی ہے جواب اثبات میں آیا تو آپؐ نے فرمایا کہ ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری کا ہو۔ کہا گیا ہے کہ جب نکاح مشکل ہو جائے گا تو زنا عام ہو جائے گا۔ ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ دیندار اور اخلاق مند شخص کا رشتہ دیگر ترجیحات کی بنا پر ٹھکرا دینے، عورت سے محض اس کے مال اور خوبصورتی کی وجہ سے شادی کرنے سے، سکت نہ رکھنے کے باوجود بڑا مہر مقرر کرنے، جہیز کا تقاضا کرنے، شادی کے بڑے اجتماع اور کھانوں کا متحمل نہ ہونے کی وجہ سے نکاح سے اجتناب برتنے کی وجہ سے ہم مسائل، مصائب اور فتنہ و فساد کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں علمائے کرام پر بھی بڑی بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی روح سے روشناس کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Monday, 27 April 2015

Yeh Nazak Nazak Ghonchay yeh Masoom Bachy.....یہ نازک نازک غنچے

میری بیٹی کی سہیلیاں خوش گپیوں میں مصروف تھیں اور میں ان کی خاطر داری میں، اسکول کالج کے زمانے کی سہیلیاں جب عملی زندگی میں قدم رکھتی ہیں تو ان کی مصروفیات اور حالات انھیں کہاں ایسے مواقع دیتے ہیں، سو میں بھی انھیں گپ شپ میں مصروف دیکھ کر اپنے کام کار کرتی رہی، چائے کے بعد کھانا-تبھی ان میں سے ایک، جس کا نام حنا تھا میرے پاس کچن میں آ گئی، وہ جا رہی تھی اور مجھے خدا حافظ کہنے آئی تھی-’’بیٹھتیں بیٹا تم بھی، ابھی تو سب بیٹھی ہیں!!‘‘
’’ چلتی ہوں آنٹی، عمار کو گھر چھوڑ کر آئی ہوں !!‘‘ اس نے اپنے بیٹے کا کہا-
’’ اس کا کیا ہے، وہ تو پہلے بھی اپنی دادی اور پھوپھو کے پاس رہتا ہے… پچھلی بار تم آئیں تو تم نے بتایا تھا!‘‘
’’ نہیں آنٹی میری ساس اور نندیں تو گھر پر ہیں ہی نہیں …‘‘ہم بات کرتے کرتے لاؤنج میں آ گئے جہاں باقی سہیلیاں قہقہے لگا کر ہنس رہی تھیں- ’’ تو اسے کیا اس کے پاپا کے پاس چھوڑا ہے تم نے؟ ‘‘میں نے سوال کیا-
’’ نہیں آنٹی، اپنے ملازم کے پاس چھوڑنا پڑا… ‘‘ اس نے منہ لٹکا کر کہا، ’’مجبوری تھی ورنہ میں عموما چھوڑتی نہیں!!‘‘
’’ تم کتنے بجے صبح گھر سے نکلی تھیں؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا-’’ دس بجے آنٹی!! ‘‘ا س کے چہرے پر حیرت کا لیپ ہو رہا تھا- ’’ اب تین بج رہے ہیں…تو گویا تمہارا سال بھر کا بیٹا پچھلے پانچ گھنٹے سے تمہارے ملازم کے پاس تنہا ہے، اس دوران گھر پر اور کوئی تھا بھی نہیں؟ ‘‘
’’ آنٹی وہ ہمارا بڑا اچھا ملازم ہے… چھوٹا سا لڑکا ہے، اٹھارہ انیس سال کا، وہ اچھی طرح عمار کو سنبھال لیتا ہے، اس کا دودھ وغیرہ بھی بنا لیتا ہے،ڈائپر بھی!!!‘‘
’’ تم اٹھو اور فوراً گھر جاؤ، ابھی اسی وقت، ایک لمحہ ضایع کیے بغیر… اس وقت میں تم سے تفصیل سے بات بھی نہیں کر سکتی!!‘‘ میں نے اسے تقریبا دھکیل کر گھر سے نکالا، اسے یقیناً برا بھی لگا ہو گا، باہر کا دروازہ بند کر کے اندر آئی تو ساری سہیلیاں یوں تھیں جیسے انھیں سکتہ ہو گیا ہو-
’’ مما مجھے معلوم ہے کہ آپ کے یوں کرنے میں کوئی نہ کوئی وجہ ہو گی مگر آپ کا انداز مجھے اچھا نہیں لگا تو حنا کو تو اور بھی برا لگا ہو گا!!‘‘ میری بیٹی نے کہا- ’’ میں حنا سے معذرت کر لوں گی، مگر اس وقت میری چھٹی حس خبردار کر رہی تھی کہ کہیں دیر نہ ہو جائے!!‘‘ ’’ کس چیزکی دیر مما؟ ‘‘اس کے چہرے پر حیرت تھی- ’’ اس کا چھوٹا سا بیٹا ملازم کے پاس کئی گھنٹوں سے تنہا تھا … ‘‘’’ تو کیا ہوا آنٹی ہم سب کو کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی وجہ سے بچے ملازموں اور آیاؤں پر چھوڑنا پڑتے ہیں!!‘‘
بیٹی کی ایک سہیلی نے کہا- ’’ اور پھر آنٹی عمار حنا کا بیٹا ہے، کوئی لڑکی تو نہیں جو کسی قسم کی پریشانی ہوتی!!!‘‘ دوسری نے حجت کی-
  اس بات پر کوئی سمجھوتہ نہیں بیٹا‘‘ میں نے سختی سے کہا، ’’بیٹا نہ بیٹی، مرد ملازم نہ عورت ملازم … اور تو اور کوئی سگا اور محرم رشتہ دار بھی ہو تو اپنے بچوں کو ان کے پاس تنہا کبھی نہ چھوڑیں!!‘‘ ’’کیا ہو گیا مما… ‘‘میری بیٹی نے بحث کی، ’’مجبوری بھی کسی چڑیا کا نام ہے!!! ‘‘
’’ مجبوری چڑیا ہو گی یا نہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان کے ساتھ جس طرح اللہ ہمہ وقت موجود ہوتا ہے اسی طرح اسے بہکانے اور ورغلانے کو شیطان بھی ساتھ ہوتا ہے اور تنہائی سب سے بڑا عفریت ہے، کسی بھی آدمی کو شیطان ورغلا کر اس کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دیتا ہے کہ اس کو رشتوں ناطوں کی پہچان بھول جاتی ہے، ہوس ایک ایسا ہی اندھا بھوت ہے بیٹا!!!‘‘و ’’اتنے معصوم سے بچے کے ساتھ کوئی کیا کر لے گا آنٹی؟ ‘‘ ایک نے حیرت سے پوچھا-’’ سب سے کم کوئی کرے گا تو اسے کچھ گندا مندا کھلا دے گا۔
خود تم لوگ اتنی احتیاط کرتی ہو، برتن یا فیڈر گندا نہ ہو، دودھ خراب نہ ہو، ٹھنڈا نہ ہو، بچے کے گلے میں کھانا پھنس نہ جائے… ‘‘میں رکی، ’’یہ تو سب سے کم ہے اور اس سے بچہ بیمار پڑ جائے گا، تمہیں اندازہ بھی نہ ہو گا کہ غفلت کب اور کہاں ہوئی… بچے کو کوئی اغوا کر سکتا ہے، تاوان وصول کرنے کے لیے، تمہارے ملازموں کی ماہانہ تنخواہ تمہارے بچے کے ایک دن کے اخراجات کے برابر ہو گی، بچے کو مار سکتے ہیں ملازم…‘‘
’’ ماریں گے کیوں ؟ ‘‘ ’’ ہم مائیں ہوتی ہیں جنھیں اپنا بچہ دنیا میں سب سے پیارا ہوتا ہے مگر کبھی جو بچہ خواہ مخواہ رونا شروع کر دیتا ہے تو ہم تنگ پڑ جاتی ہیں، ظاہر ہے کہ اتنا سا بچہ بول کر تو کچھ بتا نہیں سکتا!! ملازم تو چڑ کر کچھ بھی کر سکتے ہیں !!‘‘
’’ ڈرائیں نہیں آنٹی!!! ‘‘ایک منحنی سی آواز آئی-
’’ زیادتی بھی کر سکتے ہیں بچوں کے ساتھ… ‘‘میں نے گہری سانس لی، ایسے واقعات تو سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے مگر ان بچیوں نے ابھی شاید دنیا اتنی نہیں دیکھی، انہیں اس حوالے سے آگاہی دینا ہمارا فرض ہے- ’’ اتنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ کوئی زیادتی کیسے کر سکتا ہے اور پھر لڑکوں کے ساتھ ؟؟‘‘ اس کے سوال میںحیرت کا رنگ تھا-’’ کیا تم نے کبھی اخباروں اور ٹیلی وژن پر ایسے واقعات کے بارے میں نہیں سنا؟ ‘‘
میں نے گفتگو جاری رکھی، ’’ جب نفس پر شیطان غالب آ جاتا ہے تو صرف اپنی خواہشات نظر آتی ہیں اس کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا…‘‘ ’’ حیرت ہے آنٹی، اتنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کس طرح ہوتے ہیں، ان معصوم فرشتوں پر ترس نہیں آتا ظالموں کو؟ ‘‘ ’’ چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے کسی کو حاصل کیا ہوتا ہے بھلا؟ ‘‘ایک سوال کیا گیا-
’’ حاصل تو کسی کو کچھ نہیں ہوتا مگر نفسانی خواہشات کی تکمیل کا گھٹیا ترین طریقہ اختیار کر کے معصوم بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی جاتی ہیں… اس وقت دنیا بھر میں 19.7 فیصد معصوم لڑکیاں اور 7.9 فیصد معصوم لڑکے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں، بلکہ یہ کہنا بہتر ہے کہ اتنے کیسز رپورٹ کیے جاتے ہیں-
بد قسمتی سے جو بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں اس میں سے تیس فیصد بچے اپنے قریبی رشتوں مثلاً دادا، نانا، چچا ، ماموں، بھائی اور کزنز وغیرہ کے ہاتھوں اور ساٹھ فیصد اپنے جاننے والوں مثلا اہل محلہ، ہمسائے، والدین کے دوست، اسکولوں کے گارڈ اور چوکیدار، اسکول وین وغیرہ کے ڈرائیورز، محلے کے دکاندار اور گھریلو ملازمین ہوتے ہیں … مکمل اجنبیوں کے ہاتھوں زیادتی کے واقعات محض دس فیصد کیسز میں ہوتے ہیں!!!‘‘ میں نے بچیوں کو سمجھانے کے لیے وہ سب خوفناک حقائق ان کے سامنے رکھے جنھیں پڑھ کر میری نیندیں اڑ گئی تھیں-
’’یا خدایا!!!‘‘ ایک آواز آئی، ’’ان مردوں کا تو… ‘‘ ’’ صرف مرد ہی نہیں بیٹا… زیادتی کے واقعات میں 14 فیصد مجرم عورتیں ہوتی ہیں!!!‘‘ میرے اس انکشاف پر تو ان کی چیخیں ہی نکل گئیں، میں نے مختصراًانھیں وضاحت کر کے بتایا-’’ اس کا مطلب ہے کہ بچوں کے معاملے میں کسی پر بھی اعتماد نہ کریں ؟ ‘‘میری بیٹی نے پوچھا-
’’ قطعی نہیں… ‘‘میں نے کہا، ’’اپنی ہر قیمتی چیز سے بڑھ کر ان کی حفاظت اور دیکھ ریکھ کریں، کبھی انھیں کسی خونی رشتے کے پاس بھی اس طرح تنہا چھوڑ کر نہ جائیں کہ اس ایک شخص کے سوا گھر میں دوسرا اور کوئی نہ ہو، ملازمین پر تو بالکل اعتماد نہ کریں، نہ مردوں پر نہ عورتوں پر، بیٹوں کے معاملے میں نہ بیٹیوں کے معاملے میں… یہ نازک پھول زیادتی کی گرم ہوا سے مرجھا جاتے ہیں!!!‘‘
سب کی آنکھوں میں آنسو تھے، سب مائیں تھیں اور ان کی گودوں میں بچے تھے یا گھروں پر اپنے بچے چھوڑ کر آئی تھیں، جانے کو تیار ہو گئیں… ’’ ہم سمجھائیں گے حنا کو کہ آپ نے اسے واپس جانے پر کیوں مجبور کیا!‘‘ میری بیٹی نے کہا-’’ ارے نہیں… ‘‘میں نے فوراً کہا، ’’ میں خود اسے کال کر کے معذرت کروں گی، سمجھاؤں گی اور کہوں گی کہ کسی روز وہ دوبارہ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر آئے اور تم سب لوگ شام تک اکٹھے وقت گزارو!!‘‘ ’’ جی آنٹی!! ‘‘ انھوں نے میری تائید کی ا ور اللہ حافظ کہہ کر رخصت ہوئیں۔

Friday, 24 April 2015

Stress, Tension etc & Useful Tips...... اسٹریس، پریسانی وغیرہ کے لیے تدابیر

اسٹریس یعنی ذہنی دباو، صحت انسانی کا خطرناک دشمن ہے اور المیہ یہ ہے کہ دور حاضر کا ہر انسان کسی نہ حوالے سے اس کا شکار ہے۔ اسٹریس یا ذہنی دباو کا لفظ عموماََ ہم اس وقت استعمال کرتے ہیں جب ہم مختلف وجوہات کی بنا پرتناو اور پریشانی کا کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ ایک قسم کی منفی قوت ہوتی ہے جس سے ہمارا جسم متاثر ہوتا ہے۔ اس کے محرکات بیرونی ہوتے ہیں اور یہ طویل مدت کے بھی ہوسکتے ہیں جیسے بے روزگاری، خانگی مسائل، مستقبل کا فکر وغیرہ اور یہ مختصر دورانیہ کے ہوتے ہیں جیسے ٹریفک میں پھنس جانا یا کسی جگہ وقت مقررہ پر نہ پہنچ سکنا اور پاکستان میں اسٹریس کی ایک نئی شکل لوڈشیڈنگ کی صورت میں بھی موجود ہے۔ اسٹریس ہر وقت بُرا نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات مثبت اسٹریس کسی بھی کام کو بر وقت کرنے کے لیے اہم ہے جیسے کسی طالب علم کے لیے امتحان کی تیاری۔
اسٹریس یا ذہنی دباو اس وقت مسئلہ بنتا ہے جب وہ دائمی اور لمبے عرصہ کے لیے ہو اور اُسے اپنے آپ پر حاوی کرلیا جائے جس سے جسم انسانی کارکردگی بہت متاثر ہوتی ہے۔ یہی اسٹریس بعد میں بے چینی (anxiety) جو بڑھ کر ڈپریشن تک جاسکتا ہے۔ اسٹریس پھر Distress کی شکل بھی اختیار کرلیتا ہے۔ کسی متوقع خطرہ سے پیدا ہونے والے حادثہ سے خوف اور پریشانی اور ماضی میں ہونے والے کسی ناخوشگوار واقعہ سے پیدا ہونے والی صورت حال حزن بھی ذہنی دباو کا سبب بن جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو ناکام سمجھنا اور مطلوبہ نتائج نہ ملنا، پریشان رہنا، منفی خیالات ، خود اعتمادی اور وقت فیصلہ کی کمی جیسی صورت حال ظاہر ہوتی ہے۔
اسٹریس، انسانی جسم پر بہت نقصان دہ اثرات مرتب کرتا ہے۔ ہمارا جسم اس چیلنج سے نمٹنے کی مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے، کبھی وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور کبھی ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔ بیرونی محرک سے انسان کا اعصابی نظام اثر لیتا ہے اور دماغ کے حصہ ہائی پوتھلمس کو مضر پیغام ملتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ CRH نامی ہارمون خارج کرتا ہے جو Pituatry Gland کو ایک اور ہارمون ACTH خارج کرنے کے لیے کہتا ہے جس کے نتیجہ میں گردوں میں موجود Adrenal Cortex مزید ہارمون پید اکرتے ہیں ۔ دماغ براہ راست بھی گردوں میں موجود Adrenal Medulla کو ہارمون خارج کرنے کی ہدایات دیتا ہے۔
اسٹریس کی وجہ سے ایڈرینالین، تھائی رائیڈ ہارمون، انسولین، پرولیکٹن، کارٹی سول اور کچھ اور ہارمون دوران خون میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس ساری صورت حال کی وجہ سے دوران اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ خون کا دباو اوردل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور جسم کا میٹا بولز متاثر ہوتا ہے۔ سانس تیز ہوجاتی ہے اور بعض صورتوں میں ہاتھوں میں سوئیاں چبھتی محسوس ہوتی ہیں اور متاثرہ شخص سمجھتا ہے کہ وہ بے ہوش ہونے لگا ہے۔ سر درد ، پٹھوں کا کھچاو اور کچھ لوگوں کو منہ کے چھالوں کی تکلیف ہوجاتی ہے۔ پژمردگی کا دورہ پڑ سکتا ہے اور کوئی کام کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ جسمانی مدافعتی نظام بُری طرح متاثر ہوتا ہے اور جلدی انفیکشن ہونے لگتی ہے۔ جدید تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا کہ اسٹریس سے وارثتی مادے ڈی این اے کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
اسٹریس جیسی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے سب سے پہلے کاغذ اور قلم اٹھائیے اوراُن محرکات کی فہرست بنائیں جو آپ کے خیال میں ذہنی دباو کا سبب ہیں تاکہ اُن سے نمٹا جاسکے۔ کسی انجانے خوف اور خواہ مخواہ کے وسوسوں کو ذہن سے نکال دیں۔ ہر وقت منفی اور نقصان دہ نتائج نہ سوچیں۔ نتیجہ آپ کے حق میں بھی آسکتا ہے اس لیے ابھی سے پریشان نہ ہوں جب مشکل آئے گی تو دیکھا جائے گا۔ کامیابیاں اور ناکامیاں زندگی کا حصہ ہیں۔ اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کا ہر وقت رونا نہ روئیں بلکہ اپنی کامیابیوں کی بھی ایک فہرست بنائیں اور پژمردگی کے وقت اُس پر نگاہ ڈالیں۔
اپنا ایک سیٹسفیکشن ماڈل بنائیں کہ آپ کے لیے کیا کیا بہت اہم اور ضروری ہے۔ اب یہ دیکھیں کہ آپ نے اس میں سے کتنا حاصل کرلیا ہے۔ اپنے آپ پر فخر کریں اور اپنی قسمت پر مطمئن رہیں۔ آپ نے اپنے ذہنی دبائو کی جو فہرست بنائی اس پر بار بار غور کریں، اس طرح ممکن ہے کہ بہت سے وسوسے آپ نے جان بوجھ کر پال لیے ہوں اور وہ آپ کے لیے اتنے اہم نہ ہوں۔ انہیں فہرست سے نکال دیں۔ آپ اپنی پوری کوشش کے بعد نتائج اپنے رب پر چھوڑ دیں جس کا وعدہ ہے کہ کسی کی بھی محنت ضائع نہیں کرتا۔ ممکن جو آپ کو نہیں مل رہا اُسی میں آپ کی بہتری ہو۔ اپنے بہت اچھے دوست سے حال دل کہیں یا گھر کے کسی فرد سے اس بارے میں بات کریں بلکہ اپنے آپ سے بھی مشورہ کریں۔
3 things that stop u from being happy 1.stress 2.insecurity 3.prejudice.
آپ دیکھیں کہ پریشانی کم ہوتی جائے گی اور آپ ذہنی دباو سے نکلتے جائیں گے۔ آپ اکیلے نہیں جواس صورت حال سے دوچار ہیں۔ دنیا میں لاکھوں لوگ آپ کی طرح ہوں گے۔ یہ سوچیں کے زیادہ سے زیادہ کیا ہوجائے گا؟ انسان کی ضرورت ایک وقت میں دو روٹیاں اور سونے کے لیے ایک بستر ہے باقی سب ہم نے غیر ضروری فہرست بنا رکھی ہے جس کے پیچھے پوری عمر بھاگتے رہتے ہیں۔ بقا صرف اللہ کی ذات کو ہے باقی ہر ایک کو فنا ہونا ہےوقت مقرر پر۔ یہ دنیا بھی ایک دن ختم ہونے والی ہے تو پھر اس قدر پریشان ہونے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔
آپ پر سب سے زیادہ حق آپ کا اپنا ہے۔ اگر آپ کی صحت اچھی ہوگی تو کام کرسکیں گے اور اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرسکیں گے۔ اس لیے سب سے زیادہ توجہ اپنے آپ پر دیں۔ اپنی خوراک، آرام اور سکون کا خود خیال کریں۔ ورزش اور چہل قدمی کے لیے وقت ضرور نکالیں۔ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کوسکون ملتا ہے۔ اللہ کے بندوں کو خوف اورغم نہیں ہوتا تو ذہنی دبائو اور پریشانی آپ کا مقدر کیوں ہو۔ اپنا تعلق اپنے رب کے ساتھ جوڑیں۔
اللہ نے حضورﷺ کی زندگی کو ہمارے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ کون ایسا دکھ اور غم ہے جو حضورؐ نے اپنی اس دنیاوی زندگی میں نہیں اٹھایا ۔اُن کے اُسوہ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا سفر زندگی بسر کرنا چاہیے۔ دنیا کی فکر میں اپنے آپ کو پریشان نہ کریں جو اس کا مالک ہے وہ اس کے راز بہتر جانتا ہے آپ حکیم الامت کا یہ پیغام مد نظر رکھیں کہ
اگر کج رو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا؟
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟

Thursday, 23 April 2015

Ladies: kay Woh Jumlay Jin k matlab kuch Aur hi.......... خواتین کے وہ دلچسپ جملے جو بولنے میں کچھ اور حقیقت میں کچھ اور ہوتے ہیں

عورت کی شخصیت کتنی پیچیدہ ہے اس کو سمجھنے کے لیے تو بڑے بڑے فلسفیوں نے ہزارہا منطقیں پیش کیں لیکن وہ بھی ان کی شخصیت کے کئی پہلوؤں سے ناواقف ہی رہے اسی طرح ان کے الفاظ بھی پیچیدہ ہوتے ہیں جن کے پیچھے کیا معنی چھپے ہوتے ہیں اس کو سمجھنے کا اصل گر تو شوہر ہی جانتا ہے لیکن پھر بھی کبھی کبھی وہ دھوکا کھا جاتا ہے۔
نہیں، میں ناراض نہیں ہوں: کسی عورت کو ناراض کردینا اتنا بڑا جرم نہیں لیکن اس کے یہ جملے ’’نہیں میں ناراض نہیں ہوں‘‘ کو غلط سمجھنا آپ کو مصبیت اور مشکل میں ڈال سکتا ہے کیونکہ دراصل ان جملوں میں ہی ناراضگی کا اظہار چھپا ہوتا ہے۔
یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے: اکثرو بیشتر اگر شوہر کوئی فیصلہ کرے اور وہ دوران محفل بیٹھ کر اس کا تذکرہ کردے تو اہلیہ اسے شوہر کا فیصلہ قرار دے کر فی الحال تو جان چھڑا لیتی ہے لیکن ان جملوں کے پیچھے کچھ اور ہی مطلب چھپا ہوتا ہے کیونکہ اس وقت کے بولے ہوئے جملے میں اصل پیغام یہی چھپا ہوتا ہے کہ آخری فیصلہ میرا ہی ہوگا۔
اکیلا رہنے میں زیادہ مزہ ہے: اگر آپ کی گرل فرینڈ آپ کے سامنے برملا اس بات کا اظہار کردے کہ جو لطف اکیلے زندگی گزارنے میں ہے وہ ساتھ رہنے میں نہیں تو ان جملوں کے پیچھے چھپے پیغام کو آپ آسانی سے سمجھ جائیں کہ وہ آپ سے قطعی طور پر شادی کا ارادہ نہیں رکھتی۔
کیا میں موٹی نظر آرہی ہوں: خیال رکھیئے گا کہ کہیں آپ اس بات کا جواب غلطی سے بھی ہاں میں نہ دے دیں کیونکہ وہ خاتون آپ سے حقیقت میں یہ پوچھنا چاہ رہی ہوتی ہیں کہ دیکھو کہ میرا وزن کم ہورہا ہے تو آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی یہی کہنا پڑتا ہے کہ آپ کافی دبلی لگ رہی ہیں۔
ہمیں یہ کرنا چاہیئے: اگر کوئی خاتون آپ سے یہ کہے کہ ہمیں مل کر یہ کام کرنا چاہیئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ آپ کو اپنی رائے نہیں دے رہی بلکہ بتانا چاہ رہی ہے کہ ہمیں یہ کام ہر حالت میں کرنا ہے اور آپ نے اس میں صرف میرا ساتھ دینا ہے۔
 دو منٹ انتظار کرو: اگر آپ کی اہلیہ آپ سے دو منٹ انتظار کرنے کی درخواست کررہی ہیں تو جناب آپ کو اس کا مطلب آسانی سے سمجھ جانا چاہئے کہ وہ آپ کو ابھی مزید انتظار کرنے کا کہہ رہی ہیں لہٰذا آپ چپ چاپ بیٹھیں اور صرف انتظار کریں۔
مجھے بھوک نہیں ہے: اگر کوئی خاتون آپ سے اس قسم کا جملہ کہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ کچھ کھانا نہیں چاہ رہی بلکہ وہ کہنا چاہتی ہے کہ اگر آپ آرڈر دیں گے تو وہ کھا لے گی۔
مجھے آپ سے بات کرنا ہے: اگر آپ کی اہلیہ یا گرل فرینڈ آپ سے یہ بات کہے تو آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ آپ کو کچھ بتانا چاہ رہی ہے بلکہ آپ کو سمجھ جانا چاہئے کہ وہ آپ کو اپنی لمبی چوڑی شکایت سنانے والی ہے۔
کیا آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں: خواتین یہ جملہ اکثر اپنے خاص مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بولتی ہیں اس لیے اگر آپ سے کبھی اس جملے کا اظہار کیا جائے تو آپ تیار ہوجائیں کہ یا تو وہ آپ کی جیب خالی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا پھر کوئی بات منوانا چاہتی ہے۔
دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے: کافی گفتگو کے بعد اگر خاتون یہ کہے کہ بعد میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ چاہ رہی ہے کہ اب اس معاملے کو ختم کرو۔
میں آپ کے لیے کتنی حیثیت رکھتی ہوں: جب کسی خاتون سے کوئی غلطی ہوجائے تو وہ اسے دور کرنے کے لیے اپنے شوہر کو جذباتی طور پر پرکہتی ہے اور کہنا چاہتی ہے کہ میں تو آپ کی خواہش کے مطابق کام کرنا چاہتی ہوں۔
یہ آدمی تو بہت اچھا لگ رہا ہے: اگر کسی محفل یا پارٹی کے دوران آپ کی اہلیہ یا گرل فرینڈ آپ کو یہ جملہ کہے تو وہ آپ کو حسد یا جلن میں مبتلا کرنا چاہتی ہے۔
پارٹی کو انجوائے کرو: اگر آپ کی اہلیہ یا گرل فرینڈ کسی محفل میں آپ کو اس طرح کی ہدایت دے تو آپ سمجھ جائیں کہ وہ آپ پر نظر رکھے ہوئے ہے اس لیے آپ ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے صرف پارٹی انجوائے کریں۔

Sunday, 19 April 2015

Mukhtalif Moashroon mein Hatheli ki Khujli sy Juri Ghalat Rawayaat ....مختلف معاشروں میں ہتھیلیوں کی کھجلی سے جڑی غلط روایات

دنیا بھر کے معاشروں میں کچھ عجیب وغریب اور دلچسپ روایات بکھری پڑی ہیں جو کبھی کبھی حقیقت بھی بن جاتی ہیں اور کبھی صرف ایک خیال ہی ثابت ہوتی ہیں تاہم لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اب بھی ان غلط روایات وغیرہ پر یقین رکھتی ہے ان ہی میں ہتھیلیوں سے متعلق چند دلچسپ روایات دنیا بھر کے معاشروں میں رائج ہیں اور ہر کوئی اسے اپنے ہی انداز میں معنی دیتا ہے۔
پاکستان سمیت برصغیر کے اکثرمعاشروں میں ہتھیلی میں ہونے والی کھجلی کوبڑی اہمیت دی جاتی ہے اورلوگوں کا ماننا ہے کہ اگر سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی میں کھجلی ہوتو اس کا مطلب ہے کہ آپ جلد دولت مند بننے والے ہیں یا پھر دولت آپ کے پاس آنے والی ہے اسی طرح بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں کھجلی کو بدقسمتی یا دولت کے ہاتھ سے نکل جانے کی علامت سمجھا جاتا ہے تاہم کچھ معاشروں میں بائیں ہاتھ میں کھجلی کا مطلب ہے کہ یہ آپ کے ہاتھ سے جانے والی دولت کو روک لے گی۔
کچھ معاشروں میں لوگ اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں کھجلی اس بات کی علامت ہے کہ جو آپ نے محنت کی تھی اس کا انعام ملنے والا ہے اسے ریاضی کی زبان میں کہتے ہیں کہ دایاں برابر ہے کیش کے اور بایاں برابر ہے رقم کا کھونے کے۔
دائیں ہاتھ کی ہتھیلی جیب میں ڈالیں: کچھ معاشروں میں لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر آپ زیادہ دولت کے خواہش مند ہیں تواپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو جیب میں ڈال کر مسلیں اور اس عمل کے نتیجے میں جیسے ہی کھجلی شروع ہوگی تو سمجھ لیں کہ پیسہ آپ کے پاس آنےوالا ہے۔
بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی کھجلی کو کیسے روکیں: بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں مسلسل کھجلی سے اکثرلوگ پریشان ہوجاتے ہیں اور فکر میں لگ جاتے ہیں کہ اسے کیسے روکا جائے تو اس کے لیے آپ کو اپنے ہاتھ کو کسی لکڑی کے ساتھ رگڑنا ہوگا جس سے کھجلی غائب ہوجائے گی جب کہ  اس کے لیے آپ گھر میں موجود ٹیبل  کا کونا بھی استعمال کرسکتے ہیں لیکن کونے سے رگڑتے ہوئے خیال رکھیں کہ کوئی پھانک انگلی میں نہ چلی جائے۔
ہتھیلی میں کھجلی کی وجہ توانائی کا بہاؤ:ایک قدیم رویت ہے کہ ہتھیلی میں کھجلی ہاتھ کی اندرونی توانائی کے بہاؤ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جب کہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی اثرقبول کرنے والی اور غیرمتحرک اوردائیں ہاتھ کی ہتھیلی سرگرم اثر رکھتی ہے، اس لیے جب بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں کھجلی ہوتی ہے تو اس کے معنی ہیں کہ کچھ کام آپ کی زندگی میں آنے والا ہے جس میں آپ کی رقم خرچ ہوگی یعنی پیسہ آپ کے ہاتھ سے جائے گا جب کہ دائیں ہاتھ میں کھجلی کا مطلب ہے کہ آپ نے جو خدمات انجام دیں تھی اس عوض آپ کوپیسہ ملنے والے ہیں۔
بھارتی روایات: اس حوالے سے بھارت میں پانی جانے والی روایات کچھ مختلف ہیں جہاں دائیں ہتھیلی میں کھجلی کا مطلب ہے کہ دولت مردوں کے پاس آئے گی اور بائیں ہاتھ میں کھجلی کے معنی ہیں کہ دولت عورت کے پاس آئے گی۔
جولوگ ان روایات کو نہیں مانتے ان کی سوچ سب سے مختلف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ میں کھجلی ہورہی ہے تو آپ کی جلد خشکی یا پھر الرجی کا شکار ہے جس کے لیے آپ کا ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔

Shadi ko Nakami ki taraf ly... Jany Walay Asbab .......شادی سے متعلق چند اہم اسباب جوناکامی کی طرف لے جاتے ہیں

غلط سوچ اور تصورات لے کر جب دو لوگوں کو نئے رشتے میں باندھ دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج بھی منفی نکلتے ہیں

اس وقت دنیا بھر میں شادیاں ناکامی سے دوچار ہورہی ہیں جس کے باعث طلاق کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ معاشروں میں شادی کے بندھن کی بنیاد خاندان کی مضبوطی اور تعمیر پر نہیں رکھی جا رہی ہے اور غلط سوچ اور تصورات لے کر جب دو لوگوں کو نئے رشتے میں باندھ دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج بھی منفی نکلتے ہیں۔

بوریت سے بچنے یا  مالی بہتری کے لیے:  بہت سے خاندانوں میں یہ تصور عام ہے کہ لڑکا فارغ ہے اور کسی کام میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا اس لیے اس کی شادی کردی جائے لیکن اسے حالات سے راہ فرار ہی کہا جا سکتا ہے ایسی سوچ سے کی گئی شادی زندگی کے سب سے اہم تعلق میں کبھی بھی خوشگوارتبدیلی نہیں لاتی بلکہ پہلے سے مسائل سے گھرا شخص مزید مسائل کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

ڈیٹنگ کی بنیاد پر: بہت سے لوگ جب کسی جوڑے کو کچھ عرصہ تک ساتھ ملتا جلتا دیکھ لیں تو سمجھتے ہیں کہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں اورپھر ان شادی کی شادی کردی جاتی ہے لیکن اس اہم رشتے کی بنیاد رکھنے سے قبل اس بات کو پوری طرح جانچا جانا چاہئے کہ دونوں فریقین شادی کے لیے رضا مند ہیں یا پھردباؤ کے باعث اس بندھن میں بندھنے پر مجبور ہیں۔

بوڑھے ہو رہے ہیں: جب انسان اپنی شادی کی عمر یعنی جوانی سے نکلنے لگتا ہے تو اسے شادی کی فکر ہونے لگتی ہے لیکن کم لوگ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بڑھاپے کی جانب بڑھ رہے ہیں تاہم یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان فوری شادی کر لیتا ہے اور یہ جانچے بغیر کے آپ کا شریک حیات زندگی کے اس نئے سفر میں کتنا دور چلے گا۔

ظاہری کشش دیکھ کر: یہ حقیقت ہے کہ اکثر اوقات کسی بھی انسان کا ظاہری حسن سب سے پہلے دوسرے کو متاثر کرتا ہے اور یہی کشش انہیں شادی کے بندھن میں باندھ دیتی ہے لیکن درحقیقت انسانی کردار اور شخصیت کی خوبیاں ہی ہیں جو دو انسانوں کو مضبوطی سے جوڑ سکتی ہیں۔ ظاہری حسن کی بنیاد پر باندھا گیا رشتہ کردار کی خامیوں کے سامنے جب ماند پڑھنے لگتا ہے تو زندگی کے اس سب سے اہم رشتے میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ حسن کے ساتھ ساتھ سیرت کردار  کو بھی جانچنا چاہیئے۔

جب تنہائی کا شکار ہوں: جب انسان تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے تو اسے اس تنہائی سے خوف آنے لگتا ہے اور وہ کسی ساتھی کا متلاشی ہوجاتا ہے۔ جب انسان کی عمر ایک خاص اسٹیج پر پہنچ جائے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ فوری شادی کرلے اور اسی جلد بازی میں کی گئی شادی بعد میں ناکامی پر ختم ہوتی ہے۔

دولت کی وجہ سے: اس میں کوئی شک نہیں کہ دولت سے زندگی پرآسائش ہوجاتی ہے تاہم یہی دولت مشکلات کا باعث بھی بن جاتی ہے اس لیے کہتے ہیں کہ دولت محبت کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ دولت کی کشش کی بنیاد پر جوڑا گیا رشتہ زیادہ عرصہ نہیں چلتا اور اگر دونوں کے درمیان معاشی ناہمواری ہو تو یہ زندگی کو اور بھی مشکلات بنا دیتا ہے اس لیے دولت پر محبت کو ترجیح دینی چاہیئے۔

خوف کے باعث: بہت سے لوگ ایسے ہیں جو شادی سے قبل اچھے دوست بن جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے بہت قریب آجانے کے باوجود شادی سے خائف رہتے ہیں، ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ شادی سے قبل یوں دوستی گناہ ہے اور یہی وہ خوف ہے جو انہیں آپس میں شادی نہیں کرنے دیتا۔

دوستوں کی نقل میں: بہت سے لوگ اس لیے بھی شادی کر لیتے ہیں کہ اس کے دوست نے کی ہے اس لیے وہ بھی شادی کرے گا اور یہی سوچ جلد دونوں کو ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے اور یہ خوبصورت بندھن اذیت ناک بن جاتا ہے۔

والدین کے کہنے پر: برصغیر پاک و ہند کے معاشروں میں یہ رواج عام ہے کہ اکثر لوگ والدین کی مرضی سے شادی کر لیتے ہیں اور اکثر یہ شادی کامیاب بھی ہوجاتی ہے تاہم آج کے اس جدید دور میں اس میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں اور لوگ خوش گوار ازدواجی زندگی کے لیے پسند کی شادی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

شادی کرنے کی اس غلط سوچ اور تصورات سے بچتے ہوئے اس رشتے کے سفر کا آغاز حقیقت پسندی اور محبت کی بنیاد پر کیا جائے تو اس سے خاندان مضبوط ہوتا ہے اور یہ نیا رشتہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔

شادی اور ہر اہم کام  سے پہلے استخارہ کر لیں، اور اللہ کی رضا پے راضی رہیں

Engagement / Mangaani...... منگنی

منگنی ٹرین کی اُس سیٹ کی طرح ہوتی ہے،جس پر آپ اپنا رومال رکھ کر کسی اچھی سیٹ کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اچھے رشتے سے پہلے منگنی کرنا ضروری ہے۔ جونہی اچھا رشتہ ملتا ہے منگنی ٹوٹ جاتی ہے اور نکاح ہو جاتا ہے۔کچھ منگنیاں بچپن میں ہوتی ہیںاور کچھ جوانی میں ہوتی ہیں۔تاہم تحقیق بتاتی ہے کہ منگنی کی ایکسپائری ڈیٹ (Exp Date) چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ منگنی سے پہلے جس رشتے کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کر دیئے جاتے ہیں،منگنی ٹوٹتے ہی اس کے برعکس بیان بازی شروع ہو جاتی ہے۔ لڑکی والوں پر اچانک کھلتا ہے کہ لڑکا شرابی ہے، آوارہ ہے، لالچی ہے اور اس کی پہلے بھی اس کی دو منگنیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ لڑکے والے بھی عجیب و غریب الزام لگاتے ہی کہ لڑکی کا پہلے ہی کسی کے ساتھ چکر تھا،لڑکی کو دورے پڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

منگنی کو پنجابی میں ‘’ ٹنگنی‘‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں دونوں فریق انتظا ر کی سولی پر ’’ ٹنگے ‘‘ ہوتے ہیں۔ منگنی کے ابتدائی دن بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ منگیتر کا لفظ ہی بہت رومانٹک ہے۔لیکن جوں جوں منگنی آگے بڑھتی ہے اور دونوں ا طرف کے خاندان ایک دوسرے کے گھر آنا جانا شروع ہوتے ہیں تو دونوں طرف کے پول کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ خواتین اس معاملے میں اچانک ہی ایک دوسرے کو میلی آنکھ سے دیکھنے لگتی ہیں۔ ایسے موقعوں پر شکوئے بھی بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔ مثلا لڑکے کی بڑی بہن کو اعتراض ہوتا ہے کہ لڑکی والوں نے منگنی پر اس کے خاوند کو سوٹ کیوں نہیں دیا، چھوٹی بہن کو شک رہتا ہے کہ اس کی ہونے والی بھابھی نے بی۔اے نہیں کیا۔لڑکے کی ماں کو یہی غم کھائے جاتا ہے کہ ہم جب بھی لڑکی والوں کے گھر جاتے ہیں تو2کلو مٹھائی کا ڈبہ لے کر جاتے ہیں اور وہ جب بھی آتے ہیں ایک درجن کیلے اُٹھا لاتے ہیں جب کہ لڑکے کی خالہ اس بات پر غصے سے بھری رہتی ہے کہ اُس لڑکی سے اچھی تو اِس کی بیٹی فہمیدہ تھی، چاچی کا موڈ اس لئے خراب رہتا ہے کہ منگنی کے موقع پر اس کی تصویریں کم کھنچی گئی۔

دوسری جانب لڑکی والے بھی رفتہ رفتہ لڑکے والوں سے عاجز آنا شروع ہو جاتے ہیں،لڑکی کی ماں کا سب سے بڑا اعتراض ہوتا ہے کہ لڑکاساری تنخواہ تو ماں کے ہاتھ پر رکھتا ہے تو میری بیٹی کو کیا دے گا،لڑکی کی پھوپھی اس بات پر منہ پھلائے پھرتی ہے کہ اُسے منگنی پر بوتل نہیں ملی،تائی اس لیے رشتے کے مخالف ہو جاتی ہیں کہ لڑکا غیر ذات کاہے۔تاہم ان تمام معاملات میں دونوں طرف کے مرد حضرات حسبِ معمول لاتعلق رہتے ہیںاور جب بھی ملتے ہیں اطمینان سے اس بات پر اظہارِ خیال کرنے لگتے ہیں کہ پاکستان کا کیا بنے گا؟

منگنی ہونے کے بعدلڑکا لڑکی اچانک ہی بہت سارئے منصوبے بنانے لگتے ہیں جن میں سر فہرست ہنی مون کا مقام،بچوں کی تعداد،اپنا گھر اور زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں شامل ہوتی ہیں۔اگلے ہی دن موبائل پر ’’ گھنٹہ پیکج ‘‘ایکٹویٹ کرلیا جاتا ہے۔ایک دوسرے کا نِک نیم تجویز کیا جاتا ہے۔اور رات گئے تک سنہرے مستقبل کہ تانے بانے بنے جاتا ہے ۔یہ کیفیت لگ بھگ ڈیڑھ ماہ چلتی ہے ۔

اصل کہا نی تیسرے مہینے شروع ہو تی ہے جب اچانک ایک دن لڑکے کو لڑکی کی ما ں کا فون آتا ہے ارے بیٹا تم لوگوں نے منگنی پر جو سوٹ دیئے تھے ان کے تو رنگ پھیکے پڑنا شروع ہو گئے ہیں،یقین مانو شرم کے مارے ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔اور وہ جو تم نے سونیا کو انگوٹھی پہنائی تھی وہ تو صرف چھ ماشے کی نکلی ،تمھاری ماں تو کہہ رہی تھی کہ پورے آدھے تولے کی ہے۔لڑکا بیچارہ ہوں ہاں کرتا رہتا ہے اور گھر جاتے ہی ماں پر برس پڑتا ہے کہ آپ نے اتنے اچھے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا؟؟ ماں یہ سنتے ہی کھٹک جاتی ہے اور فوری طور پر بیٹیوں کو اکھٹا کرتی ہے۔سب مل بیٹھتی ہیںاور جی بھر کر لڑکی کی ماں کو کوستے ہوئے پوری تندہی سے سوچتی ہیں کہ منگنی توڑنے سے پہلے لڑکی والوں کے خاندان میں کیا کیا کیڑے نکالے اور ڈالے جا سکتے ہیں۔

اگلے دن لڑکے کی ماں کا فون لڑکی کو جاتا ہے کہ سونیا بیٹی تمھاری ماں نے یہ اچھا نہیں کیا ،اگر کوئی شکایت تھی تو مجھے فون کرتیں، اجمل کو کیوں کیا؟ دیکھوبیٹا شکایتیں تو ہمیں بھی بہت ہیں لیکن ہم نے کبھی ذکر نہیں کیا۔ اب خود سوچو منگنی پر تم لوگوں نے اجمل کے ابا کو راڈو کی گھڑی دی تھی ،وہ چیک کروا کے لائے ہیں ڈیڑھ سو والی راڈو ہے،اور جو میرے لیئے گرم چادر تھی وہ بھی اتنی گھٹیا کوالٹی کی ہے کہ اس سے زیادہ گرم تو میرا دوپٹہ ہے۔لڑکی بوکھلا جاتی ہے اور جب کوئی جواب نہیں بن پاتا،تو گھبرا کر فون اپنی ماں کو پکڑا دیتی ہے،تو بس پھر شروع ہوتی ہے اصل جنگ ۔ دونوں طرف کی مائیں بہنیں ایک کر کر کے رکھ دی جاتی ہیں اور اگلے دن اعلان ہو جاتا ہے کہ یہ منگنی اب اور نہیں چل سکتی ۔ اب بیچارے لڑکا لڑکی لاکھ شور ڈال لیں،لیکن منگنی وہ واحد عمل ہے جسے کرنے یا توڑنے کا اختیار لڑکا لڑکی کے گھر والوں کے پاس ہوتا ہے۔لڑکا لڑکی شادی تو اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں لیکن منگنی نہیں،اگلے ہی دن دونوں طرف کی انگوٹھیاں واپس کر دی جاتی ہیں اور کسی اچھے سے رشتے کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔تاہم اب کے بار منگنی نہیں شادی ہوتی ہے۔

دراصل منگنی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی یہ ایک علامتی معاہدہ ہوتا ہے۔اس کے ٹوٹنے پر سب سے زیادہ دکھ لڑکا لڑکی اور سب سے زیادہ خوشی ان کے قریبی عزیزوں کو ہوتی ہے،خصوصا اُن کو جن کی اولاد جوان ہو۔جو منگنیاں شادی کا فائنل جیت جاتی ہیںاُن کے پیچھے بھی تلخ اور خوشگوار یادوں کا ذخیرہ ہوتا ہیٰ۔کسی بھی چیز میں تا خیر اس کا اثر زائل کر دیتی ہے۔فریج میں پڑا کھانا بھی کچھ دنوں بعد خراب ہو جاتا ہے۔ جبکہ وقت اور حالات بھی ہمیشہ تبدیلی پر تُلے رہتے ہیں۔یہ تبدیلی مزاج سے لے کر موسموں تک ہر چیز میں آتی ہے،منگنی کے ٹوٹنے کا عمل پہلے دن سے ہی شروع ہو جاتا ہے،اسے طول مت دیں۔ ’’ منگ ‘‘ جب ’’ اُمنگ ‘‘ سے خالی ہو جائے تو بے لطیف ہو جاتی ہے۔چھ چھ سال کی عمر میں ہونے والی ایسی کتنی منگنیاں جو شادی کی لائن عبور کرتی ہیں؟

میرے مطابق منگنی کے نام پر ہم جس بندھن میں لڑکے اور لڑکی کو باندھ دیتے ہیں ،وہ ایک طرح سے دونوں کیلئے لمبی گپ شپ کا لائسنس بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لمبے عرصے منگنی رہنے والے جوڑوں کی جب شادی ہوتی ہے تو ان کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں رہتا۔میرے سامنے بہت سے لوگوں کی منگنیاں ’’بے قدروں ‘‘ کی یاری کی طرح ’’ تڑک کے ‘‘ ٹوٹی ہیں ۔لہذا مجھے تو یہی سمجھ میں آیا ہے کہ بندے نے اگر منگنی کرنی ہے تو پر شادی کیلئے بھی کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ لینی چاہئے ۔

چٹ منگنی پٹ بیاہ والی بات بھی ٹھیک ہے۔لیکن اس میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے ۔کیونکہ کبھی کبھی چٹ منگنی پٹ بیاہ اور کھٹ طلاق ہو جاتی ہے، مجھے تو ڈر ہے کہ جس رفتار سے ہمارئے ہاں منگنیوں کا رواج بڑھ رہا ہے کہیں ہماری باری سے پہلے ہی شادیوں کا رواج ہی نہ ختم ہو جائے۔

Rishtay Tay Kijiye Magar Waqat Anay Par........رشتہ طے کیجیے مگر وقت آنے پر!

اویس ابھی انٹر میں بہترین نتیجہ آنے کی خوشیاں منا ہی رہا تھا کہ خالہ کی کال آگئی۔۔۔۔

ہیلو السلام وعلیکم ۔۔۔ جی کون؟

وعلیکم وسلام۔۔۔ اویس میں بات کر رہی ہو۔

اوہ خالہ جان کیسی ہیں آپ؟

میں ٹھیک ہوں بھئی سنا ہے کہ تمہاری انٹر میں %85 آئی ہے ماشاء اللہ سے۔

اویس: جی خالہ جان بلکہ میں تو خود حیران ہوں اور مجھے تو خود اُمید نہیں تھی کی میرا نتیجہ اتنا اچھا آجائے گا۔

خالہ: نہیں بیٹا تم نے محنت بھی تو بہت کی تھی، جو محنت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کا نتیجہ بھی دیتا ہے، شاباش اسی طرح خوب پڑھو، اللہ تعالیٰ تمہیں اور کامیابیاں دے۔ آمین ۔۔۔ اچھا ذرا امی کو بلاو مجھے اُن سے بات کرنی ہے۔

اویس نے امی کو فون دیا اور خود باہر چلا گیا۔۔۔

ہیلو السلام وعلیکم باجی کیسی ہیں؟

میں ٹھیک ہوں۔۔۔ فہمیدہ اب میں کچھ نہیں سنوں گی بس بہت ہوگیا ۔۔۔ تم بہت پہلے سے ٹال رہی ہو۔۔۔ بہت ہوگیا، اب اویس کے انٹر کا نتیجہ بھی آگیا ہے لہذا اب اویس اور سائرہ کا رشتہ طے کرکے منگنی کردی جائے۔۔

لیکن باجی ابھی تو اویس نے بس انٹر کیا ہے آپ کو رشتے کی اتنی کیا جلدی ہے؟ فہمیدہ تمھیں یاد نہیں کہ جب امی اس دنیا سے رخصت ہورہی تھیں تو آخری وقت تک ان کی یہی خواہش تھی کی جلد از جلد اویس اور سائرہ کی شادی ہوجائے ۔۔۔ لیکن آج تم امی کی بات ماننے کو تیار نہیں ہو۔۔۔ یہ کہہ کر اویس کی خالہ رونے لگتی ہیں۔

ارے ارے باجی آپ روئیں نہیں ۔۔۔ میں نے کب انکار کیا؟ میں بالکل راضی ہوں اِس رشتے سے، چلیں اویس کے ابو آجائیں تو پھر کسی دن ہم مٹھائی لے کر آتے ہیں۔

چند دن بعد اویس کی والدہ اپنی بھانجی کا رشتہ لے کر اپنی بہن کے گھر جاتی ہیں چونکہ بات آپس کے دو خاندانوں کی تھی اسی لئے رشتہ بھی فوراً ہی طے ہوگیا اور یہ بات بھی ساتھ ہی طے ہوئی کی اب شادی کم از کم چار سال بعد ہوگی۔
سائرہ ابھی فرسٹ ائیر کامرس کی طالبہ تھی اور اویس کا ایڈمیشن بھی کراچی کی بہترین انجینئرنگ یونیورسٹی میں ہوگیا تھا۔ منگنی سے قبل ان دونوں کے درمیان کوئی خاص بات چیت نہیں تھی،علاوہ اس کے کبھی کسی موقع پر یعنی عید، بقرہ عید یا کسی دن گھروالے ایک دوسرے سے ملنے چلے گئے تو چلے گئے، لیکن اب چونکہ دونوں کا رشتہ ہو گیا تھا تو بات بھی مزید آگے بڑھی۔ اویس چند بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا تھا جن کی فیس کے پیسے ملا کر اس نے سائرہ کو ایک بہترین سا ٹچ اسکرین موبائل فون گفٹ کیا۔

بات صرف فون گفٹ کرنے پر رک جاتی تو بہتر تھا، کیونکہ وہ اویس جو بچپن سے آج تک ہر کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا تھا، وہ منگنی کے اس بندھن میں بندھنے کے بعد روز یونیورسٹی جانا تو کجا پہلے سیمسٹر کے پیپرز میں بمشکل پاس ہوسکا۔ دوسری جانب سائرہ بھی ہر وقت میسجز اور کالز پر اویس سے باتیں کرتی رہتی تھی جس سے اس کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھریلو زندگی بھی شدید متاثر ہونے لگی۔


معاملہ 7 ماہ میں ہی منگنی پر چلا گیا، جس کے بعد اویس نے گھر والوں کو یہ کہنا شروع کردیا کہ اس کی شادی کردی جائے۔ جس پر اویس کے والد اور والدہ اس پر شدید غصہ کرتے ہیں ساتھ ہی اویس کے ابو اپنی بیگم کو بھی بہت ڈانٹتے ہیں کہ اور کرو جلدی منگنی۔

دیکھتے ہی دیکھتے بات اس حد تک پہنچ گئی کہ مجبوراً اویس کی والدہ نے اپنی بہن کو ایک دن کال کرکے کہا کہ باجی آپ کی بیٹی نے تو میرے بیٹے کو بگاڑ دیا ہے، نہ جانے کیسی نظر لگ گئی میرے چاند سے بیٹے کو نہ پڑھائی میں اس کا دل لگ رہا ہے اور نہ ہی ٹھیک سے کھاتا پیتا ہے، یہ سب صرف اور صرف سائرہ کی وجہ سے ہوا ہے۔

سائرہ کی امی کہتی ہیں، ارے پاگل عورت تم مجھے کیا کہتی ہو؟ ہمیں کیا پتا تھا کہ تمہارا بیٹا اتنا بدمعاش اور بد تہذیب ہوگا، میری پھول جیسی نازک بچی سوکھ کے لکڑی ہوگئی ہے پتہ نہیں کیا مصیبت ہے، ہر وقت تمہارے بیٹے نے تنگ کرکے رکھا ہوا ہے، اگر کالج جاتی ہے تو وہاں آجاتا ہے، گھر آتی ہے تو کالیں کرنا شروع کردیتا ہے۔

کال پر معاملہ اتنا گرم ہوگیا کہ دونوں بہنوں کے درمیان شام کی ملاقات طے پائی۔ ملاقات میں منگنی تو ختم ہوئی، ساتھ ہی دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کی شکل نہ دیکھنے کی قسم بھی کھالی۔

جناب یہ کہانی تو 8 مہینے کے اندر ہی ختم ہوگئی بلکہ صرف ختم ہی نہیں ہوئی ساتھ ساتھ دو خاندانوں کے درمیان رشتے اور تعلقات کو بھی ساتھ لے ڈوبی۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ وجہ شاید یہی ہے کہ اب تو زمانہ گیا کہ شادی سے قبل 5 یا 6 سالوں کی منگنی کو رکھا جائے، نہ ہی یہ ممکن ہے کہ لڑکا اور لڑکی پرانے دور کی طرح بالکل ہی مشرقی بن جائیں اور ایک دوسرے سے بات چیت نہ کریں۔

اب معاشرے میں یہ بات عام ہوچکی ہے کہ یہاں منگنی ہوئی اور وہاں موبائل، اسکائیپ اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے اس طرح گفتگو کا عمل شروع ہوجاتا ہے جس کے ٹوٹنے کو بھی گناہ سمجھا جاتا ہے۔

اصل چیز یہ ہے کہ ایک دوسرے سے فالتو اور بے مقصد باتیں، جھوٹے وعدے، اور بے جا گفتگو کے سبب رشتے کی مخفی خوبصورتی ختم ہوجاتی ہے۔ لہذا یہاں والدین کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ گھر میں بچہ پیدا ہوتے ہی اس کے انگلی میں انگھوٹی نہ پہنا دیں کہ اِس کے شادی تو فلاں یا فلاں سے ہوگی، کیونکہ اب زمانے نے بہت ترقی کرلی ہے یا اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جدید ٹینکنالوجی کے سبب رشتوں کی وہ خوبصورتی بھی ختم ہوگئی ہے جو ماضی کا خوشگوار باب تھا۔


رشتے ضرور طے کئے جائیں اور منگنی بھی کی جائے لیکن اس صورت میں جب لڑکا اور لڑکی کم از کم اپنی بنیادی تعلیم مکمل کرچکے ہوں، کیونکہ اِس وقت ان کے اندر شعور بھی ہوگا اور آگاہی بھی۔ اور جب یہ دونوں چیزیں کسی کہ اندر موجود ہوں تو وہ رشتوں کی مضبوطی قائم رکھنے پر قادر ہوتا ہے۔ یاد رکھیں جب آپس کے تعلقات اچھے ہوں گے تو خاندان مضبوط ہوگا، اور جب کسی خاندان میں تمام معاملات بہتر طور پر چلنے لگے تو پھر کبھی کسی کو کوئی گھریلو پریشانی نہیں ہوگی ورنہ تمام نوجوان یہی کہتے پھریں گے؛

Tawaaif....ہاں میں طوائف ہوںآپ کو پورا حق ہے مجھ سے نفرت کرنے کا، مگر

طوائف کا لفظ سنتے ہی ہمارے خیالات پراگندہ ہونے لگتے ہیں، دماغ میں گندگی کے جھکڑ چلنے لگتے ہیں، بعد شرفا تو فرط اضطراب میں بعض نادر القابات سے بہی نوازتے ہیں، نوجوان نجی محفل میں دوستوں کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے اورچٹکلے سناتے ہیں مگر ان کا انسان ہونا بہت کم لوگوں کو نظر آتا ہے۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ بھی عام انسانوں کی طرح معصوم اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کیسے ایک بچی یا بچہ ڈاکٹر، انجینیراور بزنس مین بن جاتا ہے اور کوئی چور، ڈاکو لٹیرا بن جاتا ہے اور کوئی عزتوں کا سوداگر؟؟ ایسا کیوں؟؟
میں نے کھوج لگانے کا فیصلہ کیا، کتابوں کے الفاظ پلے نا پڑے توہاتھ باندھ کر اپنے محلے کے دانشوروں اور بزرگوں کے پیچھے چل پڑا مگر خاطر خواہ افاقہ نا ہوا۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہ دیا کہ اگر میں نے اپنے بے ہودہ سوال پوچھنے ترک نا کیے تو میرے ابا حضور سے میری بے راہ روی کی شکایت کریں گے کہ بچہ ہاتھ سے نکل گیا ہے، بس ابا جان کا ذکر سنتے ہی میری تو سٹی ہی گم ہوگئی اور آنکھوں کے سامنے چھترول کا منظر گھوم گیا، پھر کیا تھا میں اپنے سوالوں پر چار لفظ بھیجے اور اپنی زندگی میں مصروف ہوگیا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
وہ سوموار کا دن تھا اور مجھے دوست کی شادی میں شرکت کے لیے لاہور جانا تھا۔ وہ ٹرمینل پر کھڑی تھی جب میں نے پہلی بار اسے دیکھا۔ اسکا چہرہ تاثرات سے عاری تھا اور اسکی سیٹ میرے ساتھ ہی تھی۔ ’’آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ پہلا سوال اس نے پوچھا۔ مجھے گمان ہوا کہ شاید میں غلط ٹرین میں بیٹھ گیا تھا جو کہ لاہور نہیں بلکہ چیچوکی ملیا جارہی تھی۔ ’’شاید یہ ٹرین لاہور جارہی ہے‘‘ میں نے جواب دیا تو وہ شرمندہ ہوگئی۔
پھر باتوں کا سلسلہ چلا تو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اب کی بار چار گھنٹوں کے لیے میری ہمسفر وہ تھی کہ جسے میں نا تو بہن کہہ سکتا تھا اور نا دوست اور نا کزن نا پھوپھو نا تائی اور خالہ کہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں نے گھبرا کر دائیں بائیں دیکھا اور سیٹ سے اٹھنے کی ناکام کوشش کی جسے اس نے بھانپ لیا اور کہا ’’بیٹھ جائیے میں آپ کو کھا نہیں جاؤں گی‘‘۔
پھر اس کی زندگی کے گہرے اندھیرے الفاظ بن کر میری سماعتوں میں گونجنے لگے۔ پھر زندگی میں پہلی بار مجھے پتہ چلا کہ جب گھروں میں رشتوں کا تقدس ختم ہوجائے، جب احساس کمتری کی بارشوں میں آپ کے کچے گھروں کی بنیاد ہلنے لگے جب لفظ ’’غریب‘‘ آپ کی ننھی خواہشوں کا گلہ گھونٹنے لگے، پھر خواہشات کے پلڑے میں جسم بکنے لگتے ہیں۔ پھر قائد اعظم کی تصویر والے کاغذ پر رقاصہ کے پاؤں دہمال ڈالنے لگتے ہیں، پھر وہ صنف نازک احساسات سے عاری ایک جسم بن جاتا ہے۔ خواہشات کا جسم، جس پر کوئی نصیحت کوئی تبلیغ اثر نہیں کرتی۔ جی ہاں قارئین یہ تو ہوگا ہی، جب آپ کاغذ کی چھتری سے موسلادھار بارش کو روکنے کی کوشش کریں گے تو پھر ایسا ہی ہوگا۔
’’ہاں! میں طوائف ہوں مگر مجھے یہ نام تمہارے معاشرے نے بخشا ہے، وہ معاشرہ جس نے مجھے عورت ہونے کی سزا دی۔ جب میں پیدا ہوئی تو میرے باپ نے میرے سر پر پیار سے بوسہ دینے کی بجائے میری ماں کو بیٹی پیدا کرنے کا طعنہ دیا، جس نے اسکول جانے کی عمر میں ہاتھ میں جھاڑو تھما دیا، جس نے جوانی میں نئے لباس کے بجائے امیر لوگوں کی بیٹیوں کے اترے ہوئے کپڑے پہننے پر مجبور کردیا اور بابو جی تمہیں پتہ ہے بھوک کیا ہوتی ہے؟ بابو جی جسے کبھی بھوک لگی ہی نہ ہو، اُسے کوئی کیسے سمجھا سکتا ہے کہ بھوک کیا ہے؟ اور جسے لگتی ہے اسے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ اس کا تو اندر بھوک بھوک کا ورد کرتا ہے‘‘ اتنا کہہ کر وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی پھر آہستہ سے بولی
 
’’ہاں میں طوائف ہوں ۔۔۔۔ ہاں میں ۔۔۔۔ اس کی آواز دب سی گئی، آپ کو پورا حق ہے مجھ سے نفرت کرنے کا، میرے ساتھ نا بیٹھنے کا مگر نفرت کرنے سے پہلے یہ سوچیے کہ مجھے طوائف کس نے بنایا؟ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔
اس کی آنکھوں میں مجھے اپنا عکس دکھائی دیا جو دہندلا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے چند قطرے گرے، سامنے ٹرمینل کی روشنیاں نظر آنا شروع ہوگئی تھیں اور میری زندگی کا عجیب و غریب سفر ختم ہونے والا تھا۔ لوگ ٹرین میں سے اپنا سامان اتار رہے تھے اس نے بھی اپنا سامان اٹھایا۔ ایک آخری نظر مجھ پر ڈالی اور بے تحاشا چبھتے ہوئے سوال چھوڑ کر چل دی، ایسے سوال جن کے جواب مجھے تلاش کرنے ہیں۔۔ آپ کو تلاش کرنے ہیں۔۔۔